مندرجات کا رخ کریں

حنوط کاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
لوور میں فرعونی ممی

حنوط کاری مردوں کی لاشوں کو کیمیائی مادوں کے ذریعے محفوظ رکھنے کا عمل ہے، جس سے انسانی جسم اپنی ظاہری شکل برقرار رکھتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ زندہ ہو۔ یہ عمل تدفین کی رسومات سے پہلے کیا جاتا ہے، تاکہ لاش کو کسی عوامی جگہ پر رکھا جا سکے۔ یہ عمل طبی یا آرائشی وجوہات کے ساتھ ساتھ بعض مذاہب کی ضروریات کے تحت بھی کیا جاتا ہے، جن میں تدفین کو کئی دن تک مؤخر کیا جاتا ہے یا لاش کو کسی دوسرے مقام تک منتقل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ حنوط کاری لاش کے گلنے سڑنے کے عمل کو روک دیتی ہے۔[1][2][3]

قدیم مصریوں میں حنوط کاری کا طریقہ

[ترمیم]

قدیم مصریوں میں حنوط کاری کے طریقے کے بارے میں حالیہ دور میں کافی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ بعض محققین کے مطابق اس فن کا آغاز اس مشاہدے سے ہوا کہ جب لاش کو گرم ریت میں سورج کی شعاعوں کے نیچے چھوڑا گیا تو وہ جلدی گلتی سڑتی نہیں تھی۔ اسی طرح مؤرخ ہیروڈوٹس نے بھی حنوط کاری کے مختلف طریقے بیان کیے ہیں، جن سے اس عمل کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

حنوط کاری کے مراحل درج ذیل بیان کیے جاتے ہیں:[4]

  • سب سے پہلے کھوپڑی سے دماغ کو ناک کے راستے نکالا جاتا تھا، جس کے لیے کبھی چھینی اور ہتھوڑے کے ذریعے ناک کی ہڈی میں سوراخ کیا جاتا اور پھر گرم اور خم دار آلے کے ذریعے دماغ کو باہر کھینچا جاتا تھا۔ اس کے بعد جسم کے اندرونی اعضا نکالے جاتے تھے، صرف دل کو چھوڑ دیا جاتا تھا، کیونکہ اسے جذبات اور روح کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ بعض اوقات جسم میں موجود نرم اعضا کو گلنے سے بچانے کے لیے پائن کے تیل وغیرہ کو مقعد کے ذریعے داخل کیا جاتا تھا۔
  • اس کے بعد سینے اور پیٹ کی گہا کو نطرون کے محلول اور کتان کی پٹیوں سے بھر دیا جاتا تھا جو رال اور خوشبو دار مادوں میں بھیگی ہوتی تھیں، تاکہ یہ مواد بیکٹیریا کے لیے گلنے سڑنے کا ذریعہ نہ بن سکے۔
  • پھر جسم کو خشک نطرون (نمک) میں رکھ کر اس کی تمام نمی اور چکنائی ختم کی جاتی تھی تاکہ بافتیں مکمل طور پر خشک ہو جائیں۔
  • بعد میں لاش پر مائع رال لگائی جاتی تھی تاکہ جلد کے مسام بند ہو جائیں اور نمی، جراثیم اور حشرات کا اثر ختم ہو جائے، چاہے لاش کو پانی میں رکھا جائے یا کھلی فضا میں۔
  • کچھ ترقی یافتہ ادوار میں جلد کے نیچے ریت یا دیگر مواد داخل کیا جاتا تھا تاکہ جسم اپنی قدرتی بھراؤ والی شکل برقرار رکھے اور جھریاں یا ڈھیلا پن ظاہر نہ ہو۔
  • ناک، آنکھوں اور منہ کو مومِ شہد سے بند کیا جاتا تھا اور بعض اوقات جسم کے چیرے گئے حصوں کو بھی سیل کیا جاتا تھا۔
  • آخر میں لاش کو کتان کی پٹیوں سے مکمل طور پر لپیٹ دیا جاتا تھا، جو کئی تہوں پر مشتمل ہوتی تھیں اور ان پر رال اور سرخ رنگ (آہنی آکسائیڈ) لگایا جاتا تھا۔ یہ مرحلہ حنوط کاری کا آخری اور طویل ترین حصہ ہوتا تھا۔
  • حنوط کاری کا بنیادی مقصد لاش کو مکمل طور پر خشک رکھنا اور بیکٹیریا کے اثر سے محفوظ رکھنا تھا۔ آج کل اس علم کا مطالعہ بعض جامعات میں تاریخِ طب اور قدیم ادویات کے ضمن میں کیا جاتا ہے۔
برتن، برتنوں کے تھال اور دیگر متفرق اشیاء جو توت عنخ آمون کی حنوط کاری سے متعلق ذخیرے سے حاصل ہوئی ہیں

حنوط کاری ذرائع ابلاغ میں

[ترمیم]

شاید حنوط کاری اور مردوں کے ساتھ برتاؤ کے طریقوں کو پیش کرنے والے سب سے نمایاں ٹیلی ویژن پروگراموں میں سے ایک امریکی مشہور سیریز "Six Feet Under" ہے، جس میں مغربی دنیا میں پائے جانے والے جنازہ گھروں میں ہونے والے روزمرہ معاملات اور حنوط کاری کے عمل کے ساتھ ساتھ مزاحیہ اور ڈرامائی پہلوؤں کو بھی دکھایا گیا ہے۔

مذاہب میں

[ترمیم]

حنوط کاری کے بارے میں مختلف مذاہب میں آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض مذاہب میں اسے مناسب یا مخصوص حالات میں جائز سمجھا جاتا ہے، جبکہ آسمانی مذاہب میں عام طور پر مردے کے جسم کی حرمت پر زور دیا جاتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں بھی مردے کے جسم کی حرمت کو اہم سمجھا جاتا ہے اور بغیر ضرورت کے اس میں تصرف یا چیر پھاڑ کو درست نہیں سمجھا جاتا۔[5]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. "معلومات عن تحنيط على موقع jstor.org"۔ jstor.org۔ 26 يناير 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  2. "معلومات عن تحنيط على موقع bigenc.ru"۔ bigenc.ru۔ 2019-12-14 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
  3. "معلومات عن تحنيط على موقع catalog.archives.gov"۔ catalog.archives.gov۔ 9 يونيو 2019 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  4. "مواد من بلدان بعيدة.. أخيراً كشف سر تحنيط الفراعنة"۔ العربية (بزبان عربی)۔ 2 فروری 2023۔ 2023-02-04 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-02-24
  5. "حكم التحنيط"۔ 2022-11-11 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-11-09