مندرجات کا رخ کریں

حکمت کے رسائل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
حکمت کے رسائل
(عربی میں: رسـائـل الـحـكـمـة ویکی ڈیٹا پر (P1476) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

مصنف حمزہ بن علی بن احمد   ویکی ڈیٹا پر (P50) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اصل زبان عربی   ویکی ڈیٹا پر (P407) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ادبی صنف مذہبی متون   ویکی ڈیٹا پر (P136) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ اشاعت 1009  ویکی ڈیٹا پر (P577) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
او سی ایل سی 232124231  ویکی ڈیٹا پر (P243) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حکمت کے رسائل (The Epistles (of Wisdom "رسائل الحکمہ" دروزی مذہب کے ابتدائی حکما کی جانب سے لکھی گئی مقدس تحریروں کا مجموعہ ہے، جو وعظ و نصیحت کی شکل میں پیغام رسانی پر مبنی ہیں۔

دروزی شریعت

[ترمیم]

دروزی شریعت متعدد مقدس کتابوں پر مبنی ہے، جن میں عہدِ قدیم (توراة)، عہدِ جدید (انجیل)، قرآن مجید اور فلسفیانہ تحریریں شامل ہیں، جیسے افلاطون کی تصانیف — بالخصوص وہ جو ارسطو سے متاثر ہیں — نیز مختلف ادیان و فلسفوں کے اثرات بھی شامل ہیں۔ دروز عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان تمام کتابوں کا مطالعہ ضروری ہے، تاہم عقال (یعنی وہ افراد جو دروزی حکمت میں اعلیٰ درجہ پر فائز ہوں) ان بنیادی متون سے بھی اعلیٰ درجے کی تحریروں پر انحصار کرتے ہیں۔ رسائل الحکمہ کو دیگر ناموں سے بھی جانا جاتا ہے، جیسے: کتاب الحکمہ (کتابِ حکمت) الحکمہ الشریفہ (شریف حکمت) دروزی متون میں بعض قدیم تحریریں بھی شامل ہیں، جیسے: رسائل الہند (ہندوستانی رسائل) المخطوطات المفقودۃ یا المغیبۃ (گم شدہ یا چھپائی گئی مخطوطات) المنفرد بذاتہ (جو اپنی ذات میں منفرد ہو) الشریعۃ الروحانیۃ (روحانی شریعت) نیز علمی مناظرات و مباحثات پر مبنی کتابات بھی شامل ہیں۔[1] [2][3]

رسائل کا تعارف

[ترمیم]

یہ تمام رسائل عربی زبان میں تحریر کیے گئے اور 111 رسائل پر مشتمل ہیں، جنھیں عبد اللہ التنوخی نے 1479ء میں یکجا کیا، جو دروزی حکما میں سے ایک جلیل القدر شخصیت تھے۔ دروزی زبانی روایت کے مطابق ان کتب کی اصل تعداد 24 تھی، جن میں سے 18 کتابیں ضائع ہو چکیں یا چھپا دی گئی ہیں۔ سب سے قدیم رسالہ رسالہ ششم (چھٹا رسالہ) ہے، جو حمزہ بن علی نے 1017ء میں تحریر کیا۔ انھوں نے پہلے دو مجلدات میں کل 30 رسائل لکھے۔ آخری دو رسائل 109 اور 110 ہیں، جنھیں المقتنی بہاء الدین نے 1042ء میں تحریر کیا۔ رسائل کا آغاز رسالة الوداع (الوداعی پیغام) سے ہوتا ہے، جسے الحاکم بأمر الله نے تحریر کیا، جس میں اس نے اپنے پیروکاروں کی روحانی فلاح، ذاتی سکون اور حق کی پیروی کے لیے کی گئی کوششوں کی وضاحت کی ہے۔[4]

مصنفین

[ترمیم]

رسائل الحکمہ کے اہم مصنفین تین بزرگ ہیں: 1. حمزہ بن علی — جنھیں "عقل"، "قائم الزمان" اور "ہادی المستجیبین" کے لقب دیے گئے۔ 2. اسماعیل بن محمد التمیمی — حمزہ کے داماد اور دینی نائب، جنھیں "نفس" اور "صفوۃ المستجیبین" کہا جاتا ہے۔ 3. بہاء الدین ابو الحسن السموقی — جنھیں "المقتنی" اور "التالي" کہا جاتا ہے، یہ پانچویں اور آخری حد ہیں اور انھوں نے سب سے زیادہ رسائل لکھے اور حمزہ کی تحریروں کی تشریح کی۔ کچھ رسائل کے مصنفین نامعلوم ہیں۔[5] [6][7]

مواد

[ترمیم]

رسائل میں نوافلاطونیت، غنوصیت (باطنی معرفت)، افلاطونی کائنات کا تصور اور فارابی، بطلیموس، برقلس جیسے فلسفیوں کے افکار شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ روحانیات، ہم عصر ادیان و فلسفوں اور مخالفین کے رد (جیسے نصیریوں پر تنقید) پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔

زبان کے اعتبار سے یہ عربی کی ایک ترقی یافتہ شکل میں لکھی گئیں، جس میں عرب عیسائیوں کے اسلوب کی جھلک ہے۔ ان میں اسلامی اسماعیلی فکر، نوافلاطونیت اور مسیحی عناصر کا امتزاج نظر آتا ہے۔[8][9]

روحانی پیغام

[ترمیم]

رسائل کے مطابق فاطمی خلیفہ الحاکم بأمر اللہ خدا کے ظہور کا مظہر تھے، جو انسان میں تجلی کی صورت میں ظاہر ہوا۔ ان کے غیاب کو دائمی موت نہیں بلکہ ایک وقفہ سمجھا گیا ہے اور امید کی گئی ہے کہ وہ دوبارہ ظاہر ہو کر دروزی حکمت کو آشکار کریں گے اور بشر کے سنہری دور کا آغاز کریں گے۔ یہ رسائل نہ صرف مذہبی فکر کا اظہار ہیں بلکہ 11ویں صدی کے مصر کی فکری و روحانی فضا کی جھلک بھی پیش کرتے ہیں۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. W.B Stevenson (1954)۔ The Muslim World: A Quarterly Review of History, Culture, Religions & the Christian Mission in Islamdom۔ University of California, Berkeley Press۔ ص 38۔ ISBN:9781468067279
  2. Mordechai Nisan (2002)۔ Minorities in the Middle East: a history of struggle and self-expression۔ McFarland۔ ص 96–۔ ISBN:978-0-7864-1375-1۔ 2017-10-17 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-03-17
  3. Torki۔ Studia islamica۔ Maisonneuve & Larose۔ ص 164–۔ ISBN:978-2-7068-1187-6۔ 2020-01-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-03-17
  4. Mircea Eliade؛ Charles J. Adams (1987)۔ The Encyclopedia of religion۔ Macmillan۔ ISBN:978-0-02-909730-4۔ 2020-01-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-03-17 {{حوالہ کتاب}}: |archive-date= / |archive-url= timestamp mismatch (معاونت)
  5. Nejla M. Abu Izzeddin (1993)۔ The Druzes: a new study of their history, faith, and society۔ BRILL۔ ص 108–۔ ISBN:978-90-04-09705-6۔ 2020-01-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-03-17 {{حوالہ کتاب}}: |archive-date= / |archive-url= timestamp mismatch (معاونت)
  6. Me'ir Mikha'el Bar-Asher؛ Gauke de Kootstra؛ Arieh Kofsky (2002)۔ The Nuṣayr−i-ʻalaw−i Religion: An Enquiry Into Its Theology and Liturgy۔ BRILL۔ ص 1–۔ ISBN:978-90-04-12552-0۔ 2020-01-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-03-17
  7. Conférences de M. Daniel De Smet., Université Catholique de Louvain, p.149, 2008. آرکائیو شدہ 2012-07-04 بذریعہ وے بیک مشین
  8. D. De Smet؛ Ismāʻīl Tamīmī؛ Ḥamzah ibn ʻAlī ibn Aḥmad (2007)۔ Les Epitres Sacrees Des Druzes Rasa'il Al-hikma: Introduction, Edition Critique Et Traduction Annotee Des Traites Attribues a Hamza B. 'ali Et Isma'il At-tamimi۔ Peeters۔ ISBN:978-90-429-1943-3۔ 2020-01-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-03-17
  9. Encyclopaedia Britannica؛ inc (2003)۔ The New Encyclopaedia Britannica۔ Encyclopaedia Britannica۔ ISBN:978-0-85229-961-6۔ 2019-12-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-03-17 {{حوالہ کتاب}}: |مصنف آخری2= باسم عام (معاونت)

بیرونی روابط

[ترمیم]
  • مؤسسة التراث الدرزي
  • جمعية الدروز الأميركية