مندرجات کا رخ کریں

حکیم محمد شریف خاں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(حکیم محمد شریف خان سے رجوع مکرر)
حکیم محمد شریف خاں
حکیم شریف مغل شہنشاہ کے شاہی حکیم کی حیثیت سے اپنے زمانۂ ملازمت میں

معلومات شخصیت
پیدائش 1724ء
دہلی، صوبہ دہلی، سلطنت مغلیہ
وفات 1807ء(1807-00-00) (82–83 سال)
دہلی، سلطنت مغلیہ
اولاد حکیم محمد صادق علی خاں
عملی زندگی
مادر علمی نقشبندی مدرسہ، دہلی
پیشہ حکیم ،  طبیب ،  مصنف   ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ شہرت دہلی مکتبِ طب یونانی کے ممتاز رکن
مغل شہنشاہ شاہ عالم ثانی کے درباری طبیب

حکیم محمد شریف خاں دہلوی (1724ء – 1807ء) اٹھارھویں صدی عیسوی کے اواخر میں مغلیہ ہندوستان کے ممتاز سنی مسلم حکیم اور کہنہ مشق طبیب تھے۔ ان کا اہم کارنامہ قرآن کا اردو ترجمہ ہے۔[1]

ابتدائی زندگی اور پیشہ

[ترمیم]

محمد شریف خاں 1724ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔[2] ان کے آبا و اجداد بابر (حکومت: 1526ء – 1530ء) کے عہد میں موجودہ ازبکستان سے ہندوستان آئے تھے۔[3] محمد شریف خاں نے دہلی کے ایک مدرسے میں تعلیم حاصل کی، جسے نقشبندیہ سلسلے کے معروف عالم شاہ ولی اللہ دہلوی کے صاحبزادے چلاتے تھے۔ وہ مغل شہنشاہ شاہ عالم ثانی (حکومت: 1759ء – 1806ء) کے درباری حکیم مقرر ہوئے جنھوں نے انھیں ”اشرف الحکما“ کا خطاب عطا کیا۔ غالباً انھوں نے شہنشاہ کے فرزند اکبر شاہ ثانی (حکومت: 1806ء – 1837ء) کا بھی علاج کیا۔[3][4]

کارنامے

[ترمیم]

چونکہ حکیم شریف دہلی میں مقیم تھے، اس لیے ان کے حکیم خاندان ”شریفی خاندان“ کو دہلی کے مکتبِ حکمت کے طور پر شہرت حاصل ہوئی۔[3][4]

محمد شریف خاں ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو ”علما اور اطبا“ پر مشتمل تھا اور ان کا سلسلۂ نسب بالآخر عبید اللہ محمود احرار (متوفی 1490ء) تک پہنچتا تھا جو ماوراء النہر میں نقشبندیہ سلسلے کے ایک با اثر صوفی شیخ تھے۔[4]

وہ ایک کثیر التصانیف مصنف تھے اور طب پر تقریباً سترہ کتابیں لکھیں۔ ان میں سب سے مشہور ”علاج الامراض“ ہے، جو آج بھی اس فن میں ایک اہم ماخذ سمجھی جاتی ہے۔ انھیں اس بات کے لیے بھی شہرت حاصل ہے کہ انھوں نے طب یونانی کے مجرب نسخوں کو ایک جامع اور مستند مجموعے کی صورت میں مرتب کیا۔[4]

انھوں نے قرآن مجید کا اردو ترجمہ بھی کیا، جسے وسیع طور پر اردو زبان میں قرآن کا پہلا ترجمہ تصور کیا جاتا ہے۔[4]

وہ اس دور میں طب یونانی میں یورپی سائنس کے بعض پہلو متعارف کرانے کے ذمہ دار بھی تھے۔ انھوں نے فارسی اور عربی میں بھی تصانیف لکھیں، جن میں ہندوستانی ادویات کی ایک لغت بھی شامل ہے۔[4]

وہ حکیم اجمل خاں کے پڑدادا تھے، جو برطانوی ہند میں اپنے زمانے کے معروف حکیم، عالم اور سیاست دان تھے۔[5]

وفات

[ترمیم]

حکیم محمد شریف خاں 1807ء میں وفات پا گئے اور دہلی میں صوفی بزرگ قطب الدین بختیار کاکی کے مزار کے قریب دفن کیے گئے۔[3][4]

مزید پڑھیے

[ترمیم]

ان کی زندگی اور تصانیف کے بارے میں دیکھیے:

  • C.A. Storey, Persian Literature: A Bio-Bibliographical Survey. Volume II, Part 2: E.Medicine (London: Royal Asiatic Society, 1971), pp. 283–5 no. 494.
  • Carl Brockelmann, Geschichte der arabischen Litteratur, Supplement, 3 vols. (Leiden: Brill, 1937-1942), vol. 2, p. 864 no. 56a

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. محمد ایوب قادری (1988)۔ اردو نثر کے ارتقاء میں علما کا حصہ (پہلا ایڈیشن)۔ لاہور: ادارۂ ثقافت اسلامیہ۔ ص 83
  2. A Comprehensive History of India: 1818-1858 (بزبان انگریزی). Orient Longmans. 1985. p. 797. ISBN:978-81-7007-003-0.
  3. 1 2 3 4 "Greek Medicine: THE SHARIFI FAMILY TRADITION". www.greekmedicine.net (بزبان انگریزی). Retrieved 2019-08-23.
  4. 1 2 3 4 5 6 7 Muhammad Sharif Khan profile on Encyclopedia Iranica Published 15 July 2009, Retrieved 23 August 2019
  5. "Sharif Manzil & Hindustani Dawakhana - crumbling memories of India's First Unani family". the-south-asian.com (بزبان انگریزی). Apr 2002. Retrieved 2019-08-23.

مآخذ

[ترمیم]