حیات اللہ انصاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حیات اللہ انصاری
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1912  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات سنہ 1999 (86–87 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ علی گڑھ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ  (برائے:لہو کے پھول) (1970)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر

حیات اللہ انصاری صحافی و افسانہ نگار لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ فرنگی محل کے عربی مدرسے سے سند حاصل کی۔ علی گڑھ سے بی۔ اے کیا۔ ابتدا میں ترقی پسند ادب کی تحریک سے وابستہ رہے۔ پھر کانگرس میں شامل ہو گئے۔ وہ ایم پی بھی رہے۔ کچھ دنوں ہفتہ وار ’’ہندوستان‘‘ کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد آل انڈیا کانگرس کے سرکاری اخبار ’’قومی آواز ‘‘ کے ایڈیٹر ہوئے۔ اخبار نویسی کے علاوہ افسانے بھی لکھتے رہے۔ 1936ء میں افسانوں کا ایک مجموعہ ’’انوکھی مصیبت‘‘ لکھنؤ میں چھپا۔ بعد میں بھرے بازار کے نام سے یہی مجموعہ چھپا۔ 1969ء میں ہندوستان کی جہدوجہد آزادی کی تاریخ پر مبنی اور پانچ جلدوں پر مشتمل ناول ’’لہو کے پھول‘‘ شائع ہوا۔ دہلی دوردرشن پر یہ ناول ایک سیریل کی صورت میں ’’لہو کے پھول‘‘ ہی کے عنوان سے پیش ہوا ہے۔ ’’مدار‘‘ اور ’’گھروندہ‘‘ ان کے دو اور ناول ہیں۔ آخرالذکر ناول پر ’’ٹھکانہ‘‘ کے عنوان سے ہندی فلم بھی بنی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]