حیات (مقالہ ثانی)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


The various levels of the scientific classification system. حیات ساحہ (حیاتیات) مملکت (حیاتیات) قسمہ جماعت طبقہ خاندان جنس نوع

Enlarge
حیاتیاتی جماعت بندی کے آٹھ تصنیفیاتی رتبوں کا تراتب (hierarchy)۔ یہاں درمیانی چھوٹے رتبات کو شامل نہیں کیا گیا۔

زندگی کیا ہے؟ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ، حیات کی مختلف انداز میں تعریف کرتے ہیں جو کہ اس مضمون میں مختصرا درج تو کی جائیں گی مگر اصل میں اس مضمون کا متن زندگی کی سائنسی توجیہ یا بالفاظ دیگر یوں کہہ لیں کہ اس کی حیاتیاتی اور طبی نقطہ نظر سے وضاحت تک محدود رہے گا۔

مختلف تعریفیں[ترمیم]

علمی تعریف[ترمیم]

حیاتیات کے نقطہ نظر سے زندگی، تمامتر حیوی (vital) مظاہر کے ایک جسم میں جمع ہوجانے کا نام ہے۔ اور چونکہ تمام جانداروں کی بنیادی اکائی خلیہ ہوتی ہے لہذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ تمام افعال جو کہ ایک خلیہ انجام دیتا ہے، مل کر حیات کہلاتے ہیں۔ بات کو مزید گہرائی میں لے جایا جائے تو حیاتی کیمیاء یہ بتاتی ہے کہ تمام خلیات بھی مزید چھوٹے سالمات یا molecules سے مل کر بنتے ہیں جو کہ ایک خاص ترتیب میں آجائیں تو وہ افعال انجام دیتے ہیں کہ جو کوئی اور سالماتی ترتیب (غیرنامیاتی ترتیب) نہیں دے سکتی اور یہی سالمات کا آپس میں مربوط ہونا زندگی ہے۔ پھر بات یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی بلکہ سالمات کی بنیادی اکائی چونکہ جوہر (atom) ہیں اور جوہر کائنات میں پائے جانے والے مادے کی خالص شکل ، عنصر (element) ، کا وہ چھوٹے سے چھوٹا ذرہ ہوتا ہے جو کہ گو بنیادی ذرہ تو نہیں ہوتا مگر اس عنصر کے تمام خواص کو اپنے اندر رکھتا ہے جس سے اس کا تعلق ہو، اور یہاں جوہر کی منزل پر آ کر اگر ان سائنسی معلومات کے گھوڑوں کو واپس الٹا زندگی کی طرف دوڑایا جائے تو ان جوہروں سے حیات تک کا سفر مختصرا یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ؛ جوہر(یا عناصر) آپس میں ایک خاص ترتیب پاکر سالمات (یا مرکب، بطور خاص نامیاتی مرکب) بناتے ہیں اور پھر یہ سالمات آپس میں مل کر خلیات بناتے ہیں، خلیات ایسے اجسام ہوتے ہیں کہ جو بے شمار پیچیدہ کیمیائی تعملات کو آپس میں منظم طریقے سے چلا سکتے ہیں اور انہی تعملات کا ایک نتیجہ خلیات کے اندر ایک برقی جُہد (electrical potential) کا پیدا ہوجانا ہے، یہ جہد اور دیگر تعملات مل کر خلیے کے اندرونی اور بیرونی ماحول کے درمیان ایک استتباب (homeostasis) کی کیفیت پیدا کرکہ خلیہ کو زندگی بخشتے ہیں اور ثانوی نتیجہ کے طور پر اس جاندار (پودا یا جانور) کو بھی کہ جس کے یہ خلیات ہوں۔

تعریف بہ زبان سہل[ترمیم]

سادہ الفاظ میں یوں کہ سکتے ہیں کہ کوئی جسم جو کہ روزمرہ زندگی کے ایسے افعال انجام دیتا ہے کہ جو وہ اجسام جن کو غیرجاندار کہا جاتا ہے انجام نہیں دے سکتے ، مثلا حرکت، غذا کھانا ، اپنی نسل پیدا کرنا ، نشونما وغیرہ ، تو وہ زندہ کہلاتا ہے۔ بنیادی طور پر چند ایسے خواص ہوتے ہیں جو کہ صرف حیاتی اجسام سے ہی منسلک کئے جا سکتے ہیں ، ان میں اوپر بیان کردہ افعال کے ساتھ ساتھ حیاتی تنظیم (organization) اور ردعمل (irritability) بھی شامل ہیں۔ کرہ ارض پر پائے جانے والے جانداروں میں جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ایک بات مشترک ہے ، وہ یہ کہ یہ تمام بنیادی طور پر عناصر سے مل کر بنے ہیں اور ان میں کاربن، آکسیجن ، آبساز اور نائٹروجن وغیرہ شامل ہیں۔ زندگی کی یہ تعریف نامیاتی حیات کے لئے تو مکمل طور پر قابل عمل ہے مگر چند صورتیں ایسی بھی ہیں کہ جہاں اس تعریف کا دائرہ وسیع کرنا پڑتا ہے مثلا وائرس اور دیگر متبادل حیاتیات کے مظاہر۔

مابعدالطبیعیاتی تعریف[ترمیم]

مابعدالطبیعیات یا metaphysics میں زندگی کی تعریف یوں کی جاتی ہے کہ ؛ حیات، دراصل عمل اخصاب (fertilization) سے پر کسی جسم میں پڑنے والی روح کے واقع ہونے سے لے کر موت پر اس روح کے اس جسم سے نکل جانے تک کا وقفہ ہوتا ہے۔ اخصاب ، نر اور مادہ کے تولیدی خلیات کے ملاپ کو کہا جاتا ہے۔

اسلامی نقطہ نظر[ترمیم]

زندگی کی علمی تعریف کے بیان میں ذکر آچکا ہے کہ زندگی بنیادی طور پر جوہروں (باالفاظ دیگر عناصر) سے مل کر بنی ہے اور یہ بات عیاں ہے کہ مٹی یعنی گِل اور پانی ، خواہ وہ سمندر میں ہو ، پہاڑوں پر یا خشکی پر تمام عناصر اسی میں پائے جاتے ہیں (گو ان کا تناسب مختلف جگہوں پر مختلف ہوسکتا ہے)۔ اور مٹی اور پانی میں ان عناصر یا جوہروں کی موجودگی ، مٹی کو اس قابل بناتی ہے کہ اگر مناسب حالات مہیا کئے جائیں تو اس سے نیکلیوٹائیڈ اور رائبو مرکزائی تیزاب کی تخلیق کے عمل کو تحریک کیا جاسکتا ہے (جریدہ سائنٹیفک امریکن میں شائع ہونے والا مارٹن اور فجی کاوا کا تحقیقی مقالہ)

قرآن میں متعدد آیات میں زندگی کی بناوٹ میں مٹی اور پانی کے شامل ہونے کا ذکر وضاحت سے آیا ہے، حوالے کے طور پر چھٹی سورت الانعام کی آیت دو ذیل میں درج کی جارہی ہے۔


هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن طِينٍ ثُمَّ قَضَى أَجَلاً وَأَجَلٌ مُّسمًّى عِندَهُ ثُمَّ أَنتُمْ تَمْتَرُونَوہی تو ہے جس نے پیدا کیا تم کو مٹی سے پھر مقرر کردی (زندگی کی) ایک مدت اور ایک (دوسری) مدت (قیامت) اور بھی ہے جو مقرر ہے اللہ کے نزدیک اس کے باوجود تم شک میں مبتلا ہو۔

  • مزید آیات
    • سورت السجدہ آیات پانچ تا نو
    • سورت الرحمن آیت چودہ

مظاہر ِحیات[ترمیم]

گو کہ زندگی کے مختلف نقطۂ نظر کے حوالے سے حیات کی بھی مختلف تعریفیں پیش کی جا سکتی ہیں مگر چند ایسے بنیادی اور حیاتیاتی خواص بھی موجود ہیں کہ جو بلاشک و شبہہ صرف اور صرف حیات میں ہی ظاہر ہوتے ہیں۔

  • استِتباب ، یعنی خلیات کے اندر بالفاظ دیگر جاندار میں ہونے والے کیمیائی تعملات (جن کو مجموعی طور پر استِقلاب کہا جاتا ہے) میں توازن جس کی وجہ سے درون خلیہ (intra cellular) اور بیرون خلیہ (extra cellular) فضاؤں میں ایک موزوں تناسب قائم ہوتا ہے اور اندرونی ماحول میں اسی تناسب کو استتباب (homeostasis) کہا جاتا ہے۔
  • منظمہ ، یعنی حیات کی بنیادی اکائیوں (خلیات) کی ایک منظم ترتیب ، اس کو منظمہ یا organization کہا جاتا ہے۔
  • استِقلاب ، یعنی جاندار میں ہونے والے کیمیائی تعملات جو کہ غیرنامیاتی اور نامیاتی مرکبات کے ذریعے نئے مرکبات تالیف کرتے ہیں اور اس دوران توانائی بھی تیار ہوتی ہے جو کہ حیات کے لئے لازمی ہے ، اس عمل کو استقلاب یا metabolism کہتے ہیں۔
  • اس کے علاوہ بھی کثیر التعداد مظاہر ایسے ہیں جو کہ زندگی کے ساتھ منسلک ہیں مثلا، نشونما، تلاوم یا adaptation ، تولید، تحریک اور حرکت منعکسہ وغیرہ۔ ان کی تفصیل کے لئے ان کے اپنے صفحات مخصوص ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]