حیدر علی قلمداران قمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

حیدر علی قلمداران 1330 ھجری بمطابق 1913ء دیزدجان۔ قم ایران میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق ایک کسان گھرانے سے تھا۔ آپ کے والد کا نام اسماعیل تھا،۔ آپ ابھی پانچ برس کے تھے کہ آپ کی والدہ وفات پا گئیں۔ اور جب آپ 15 برس کے ہوئے تو آپ کے والد بھی انتقال کر گئے۔

ابتدائی تعلیم اور تحریری خدمات[ترمیم]

آپ کو علم و آگاہی کا بہت شوق تھا۔ اسی شوق کا نتیجہ ہی تھا کہ قلمداران کے پاس سکول فیس نہیں تھی اس لیے وہ سکول کے دروازے پر کان لگا کر پڑھتے تھے۔ اس طرح اپنا علمی پیاس بجھاتے تھے۔ اس کے علاوہ آپ سڑکوں پر سے کاغذ کے ٹکڑے اٹھا کر ان پر سبق لکھتے تھے، کیونکہ آپ کے پاس کاپیاں کتابیں خریدنے کی استطاعت نہ تھی۔ چنانچہ 30 سال کی عمر تک آپ نے مطالعہ کے ذریعے مختلف علوم و فنون میں ید طولی حاصل کر لیا۔ آپ نے مختلف رسائل و جرائد میں اسلام سے متعلق مضامین لکھنا شروع کیے۔ روزنامہ سرچشمہ اور استوار میں آپ کے مضامین شائع ہوتے تھے۔ آیت اللہ طالقانی اور انجینئر بازرگان بھی ان مجلون میں لکھتے تھے۔ اپنی پختہ شاعری اور کمال علم کی وجہ سے آپ نے قارئین کے دل میں جلد اپنا مقام بنا لیا۔ اسی دوران آپ کی ملاقات مشہور ایرانی شیعہ مجتہد آیت اللہ محمد حسن شریعت سنگلچی سے ہوئی۔ آپ نے ان کے درس اور خطبوں میں باقاعدہ شرکت کا آغاز کیا۔ سنگلچی کیونکہ ایک اصلاح پسند مجتہد تھے اور خرافات و رسومات سے پاک تشیع کی دعوت دیتے تھے۔ اس طرزفکر نے حیدر علی قلمداران کو بہت متاثر کیا اور آپ نے بھی اپنے استاد کے مشن کو آگے بڑھانے کا عزم کیا۔ اور اسلام و شعائر اسلام کی حفاظت اور دین کے چہرے کو داغ سے بچانے میں مگن ہو گئے۔ چنانچہ جب ایک ایرانی مجلہ نے "اسلامی حجاب" کے خلاف ایک مقالہ شائع کیا تو حیدر علی قلمداران نے اس مقالہ کا منہ تور جواب دیا۔ آپ نے مختلف علمی شخصیات اور مجتہدین سے بھی روابط بڑھائے۔

آیت اللہ خالصی کی کتب کے تراجم میں معاونت[ترمیم]

آپ نے آیت اللہ خالصی زادہ کی بہت سی کتابوں کا فارسی ترجمہ کیا جن میں "المعارف المحمدیہ"،"اسلام سبیل السعادہ "اور "احیاء الشریعہ" کی تین جلدوں کا ترجمہ شامل ہیں۔ اس کام پہ آیت اللہ خالصی زادہ نے کئی مرتبہ ان کا شکریہ ادا کیا۔ آپ نے آیت اللہ کالصی زادہ کی کتابوں کا فرانسی زبان میں بھی ترجمہ کیا۔ آپ مختلف دینی مسائل پر آیت اللہ خالصی زادہ سے بذریعہ خطوط و مراسلات گفتگو کرتے۔ یہاں تک کہ آیت اللہ خالصی زادہ آپ کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہونے لگے۔ چنانچہ آیت اللہ خالصی زادہ نے حیدر علی قلمداران کی کتاب "ارمغان آسمان" کے مقدمہ میں حیدر علی قلمداران کے علم اور ان کی اسلام و دین فہمی کا اعتراف کیا۔ اور نوجوانوں کیلے ایک ماڈل قرار دیا۔ اس دور کے غا فل و ناواقف مسلمانوں اور اسلامی تعلیمات سے غفلت کے زمانے میں جناب حیدر علی قلمداران جیسے نوجوانون کا اسلامی حقائق و معارف کو بیان کرنا اور جاہلوں کے درمیان حق کو بیان کرنا ان کی دلیری اور شجاعت کو ظاہر کرتا ہے۔

دیگر اسلامی شخصیات و علما سے ہم نشینی[ترمیم]

حیدر علی قلمداران نے عراق اور کربلا کے سفر کے دوران علامہ خالصی کے علاوہ علامہ کاشف الغطاء اور علامہ سید ہبہ الدین شہرستانی مولف کتاب"الھیہ والاسلام" سے بھی ملاقاتیں کیں۔ آپ نے مختلف خطوط اور مراسلات کے ذریعے ان سے مختلف مسائل پہ جوابات طلب کیے۔

ایران کے پہلے وزیر اعظم مہدی بازرگان کے ساتھ قلمداران کے تعلقات[ترمیم]

انجینئر بازرگان جو ایران کے پہلے وزیر اعظم بنے ان کے ساتھ بھی انقلاب ایران سے پہلے حیدر علی قلمداران کے گہرے مراسم تھے۔ انجینئر بازرگان نے اپنی کتاب "بعچت و ایڈیالوجی"میں حیدر علی قلمداران کی کتاب"حکومت در اسلام" سے استفادہ کیا۔ اور کتاب"ارمگان آسمان" کو بھی بہت پسند کیا۔ مہدی بازرگان کے دوست ڈاکٹر علی شریعتی کو بھی اس کتاب "حکومت در اسلام" نے بہت متاثر کیا۔ جب حیدر علی قلمداران کو جیل سے آزاد کیا گیا تو مھندس بازرگان نے چار مرتبہ قم میں حیدر علی قلمداران کے گھر آکر ان سے ملاقات کی۔

ڈاکٹر علی شریعتی اور حیدر علی قلمداران[ترمیم]

ڈاکٹر علی شریعتی نے جب قلمداران کی کتاب "ارمغان الہی" کو پڑھا تو آپ نے حیدر علی قلمداران کو ایک دانشمند،روشن فکر اور مفکر قرار دیا۔ چنانچہ ڈاکٹر علی شریعتی نے جو اس وقت ملک ایران سے باہر تھے اپنے ایک دوست ڈاکٹر اخروی سے کہا کہ میری شدید خواہش ہے کہ اس اصلاح پسند شخصیت سے ملاقات کروں۔ ڈاکٹر علی شریعتی جو اس وقت پیرس میں مقیم تھے انہوں نے حیدر علی قلمداران سے خط کتابت کا طویل سلسلہ شروع کیا۔ لیکن ڈاکٹر صاھب کی ان سے ملاقات نہ ہو سکی۔ استاد مرتضی مطھری بھی ڈاکٹر علی شریعتی کی کتابوں سے بہت متاثر تھے۔ لیکن آپ نے ان سے خفیہ طور پر روابط رکھے۔ ان کی کتاب "ارمغان آسمان" کو پڑھا تو ب اس کتاب کی آپ نے بہت تعریف کی۔

آیت اللہ برقعی قمی کے ساتھ ملاقات اور اصلاح شیعت کا آغاز[ترمیم]

آپ کی ملاقات آیت اللہ برقعی قمی سے رہی اور بہت سی کتابوں میں آیت اللہ برقعی کے ساتھ مل کر آپ نے تحقیق کی۔ آیت اللہ برقعی نے حیدر علی قلمداران کو ایک عظیم مسلمان رہنما قرار دیا۔ آیت اللہ برقعی نے اپنی کتاب "خرافات وفور در زیارت قبور" دراصل حیدر علی قلمداران کی کتاب"زیارت و زیارت نامہ-راہ نجات از شر غلاۃ" سے متاثر ہو کر لکھی۔

آیت اللہ حسینعلی منتظری سے مراسم[ترمیم]

آیت اللہ العظمی حسینعلی منتظری سے بھی آپ کے دوستانہ مراسم تھے۔ چنانچہ انقلاب ایران کے بعد ﺟﺐ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺟﯿﻞ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺁﻳﺖ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻌﻈﻤﯽ ﺣﺴﻴﻨﻌﻠﯽ ﻣﻨﺘﻈﺮﯼ ﺳﮯ ﺳﻔﺎﺭﺵ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺳﻔﺎﺭﺵ ﭘﺮ ﻗﻠﻤﺪﺍﺭﺍﻥ ﮐﻮ ﺭﮨﺎ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺟﺐ ﺁﭖ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ"ﺧﻤﺲ" ﮐﮯ ﭼﮭﭙﻨﮯ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﺗﻮ ﺁﯾﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﻨﺘﻈﺮﯼ ﻧﮯ 1000 ﺭﯾﺎﻝ ﺁﻗﺎﺋﯽ ﻣﮭﺪﯼ ﮬﺎﺷﻤﯽ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺑﮭﯿجے۔ ﺁُﭖ ﮐﯽ ﺟﻦ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺷﮩﺮﺕ ﭘﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺸﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺤﺮﮎ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ "ﺷﺎﮨﺮﺍﮦ ﺍﺗﺤﺎﺩ" ﺍﻭﺭ " ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺨﻤﺲ" ﮨﮯ۔ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﮐﺘﺎﺏ "ﺍﻣﺎﻣﺖ ﻭﺧﻼﻓﺖ"ﮨﮯ۔ ﺁﭖ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ "ﺍﻟﺤﮑﻮﻣۃ ﻓﯽ ﺍﻻﺳﻼﻡ" ﺟﯿﺴﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮑﮭﯽ۔ﺍﻥ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﺷﮩﺮﺕ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﯾﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﻨﺘﻈﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺭﺱ ﺍﻭﺭ ﻟﯿﮑﭽﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﻘﻼﺏ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺳﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﻮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺟﺐ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻣﮭﺪﯼ ﺑﺎﺯﺭﮔﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﮐﺮ ﮐﺘﺎﺏ "ﺍﻟﺰﮐﺎﺕ" ﻟﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﺍ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺁﯾﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﮑﺎﺭﻡ ﺷﯿﺮﺍﺯﯼ ﺗﮏ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﮐﺘﺎﺏ ﻟﮑﮭﯽ۔ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ "ﮐﺘﺎﺏ ﺧﻤﺲ" ﻟﮑﮭﯽ ﺟﺲ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﻠﭽﻞ ﻣﭽﺎ ﺩﯼ۔ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﮎ ﻭ ﺑﺪﻋﺎﺕ ﻭ ﺧﺮﺍﻓﺎﺕ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺍﺷﺎﻋﺖ ﺗﮭﺎ۔

تصنیفات و تالیفات[ترمیم]

آپ نے مختلف کتب و رسائل لکھے اور ترجمہ کا کام بھی کیا آپ کی مشہور کتب و رسائل کے نام۔ درج ذیل ہیں

  • ﮐُﺤﻞُ ﺍﻟﺒﺼﺮﻓﯽ ﺳﯿﺮﺓ ﺧﯿﺮﺍﻟﺒﺸﺮ ﺍﺛﺮﺣﺎﺝ ﺷﯿﺦ ﻋﺒﺎﺱ ﻗﻤﯽ
  • ﺍﻟﻤﻌﺎﺭﻑ ﺍﻟﻤﺤﻤﺪﻳﺔ
  • ﺇﺣﻴﺎﺀ ﺍﻟﺸﺮﻳﻌﺔ ﻓﯽ ﻣﺬﻫﺐ ﺍﻟﺸﯿﻌﺔ
  • ﺁﺋﻴﻦ ﺩﻳﻦ ﻳﺎ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﺍﺳﻼﻡ
  • ﺍﺭﻣﻐﺎﻥ ﺁﺳﻤﺎﻥ
  • ﺍﺭﻣﻐﺎﻥ ﺍﻟﻬﻲ
  • ﺩﺭﺍﺛﺒﺎﺕ ﻭﺟﻮﺏ ﻧﻤﺎﺯﺟﻤﻌﻪ
  • ﺣﺞ ﻳﺎ ﮐﻨﮕﺮﺓ ﻋﻈﻴﻢ ﺍﺳﻼﻣﻲ
  • ﺭﺳﺎﻟﺔ »ﻣﺎﻟﮑﻴﺖ ﺩﺭ ﺍﻳﺮﺍﻥ ﺍﺯ ﻧﻈﺮ ﺍﺳﻼﻡ
  • ﺗﺮﺟﻤﺔ ﮐﺘﺎﺏ ﻓﻠﺴﻔﺔ ﻗﻴﺎﻡ ﻣﻘﺪﺱ ﺣﺴﻴﻨﻲ ﺍﺛﺮ ﻋﻼﻣﻪ ﺧﺎﻟﺼﯽ
  • ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺩﺭﺍﺳﻼﻡ
  • ﺁﻳﺎ ﺍﻳﻨﺎﻥ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻨﺪ
  • ﻋﻠﻢ ﻏﯿﺐ ﺧﺎﺹّ ﺧﺪﺍ
  • ﺑﺤﺚ ﺩﺭ ﻭﻻﯾﺖ ﻭﺣﻘﯿﻘﺖ ﺁﻥ.
  • ﺑﺤﺚ ﺩﺭﺷﻔﺎﻋﺖ ﻭﺣﻘﯿﻘﺖ ﺁﻥ
  • ﺑﺤﺚ ﺩﺭ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﻭﺗﻌﻤﯿﺮﻣﻘﺎﺑﺮ. -
  • ﺑﺤﺚ ﻏﻠﻮّ ﻭﻏﺎﻟﯿﺎﻥ ﻭﻓﺘﻨﻪ ﻭﻓﺴﺎ ﺩ ﺁﮞ ﺑﺤﺚ ﻭﻻﯾﺖ
  • ﺯﮐﺎﺕ :ﻣﺮﺣﻮﻡ ﻣﻬﻨﺪﺱ ﻣﻬﺪﻱ ﺑﺎﺯﺭﮔﺎﻥ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﯿﻠﮯ ﻣﺪﺩ ﮐﯽ۔
  • ﺧﻤﺲ ﺩﺭﮐﺘﺎﺏ ﻭﺳﻨّﺖ
  • ﺷﺎﻫﺮﺍﻩ ﺍﺗﺤﺎﺩ « ﯾﺎ »ﻧﺼﻮﺹ ﺍﻣﺎﻣﺖ
  • ﺫﺑﻴﺢ ﺍﻟﻠﻪ ﻣﺤﻼﺗﻲ « ﻧﮯ ﺁﯾﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﺮﻗﻌﯽ ﮐﻮ ﻣﻨﮑﺮ ﺣﺪﯾﺚ ﻏﺪﯾﺮ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺘﺎﺏ »ﺿﺮﺏ ﺷﻤﺸﻴﺮ ﺑﺮﻣﻨﮑﺮﺧﻄﺒﺔ ﻏﺪﻳﺮ « ﻟﮑﮭﯽ ۔ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻗﻠﻤﺪﺍﺭﺍﻥ ﻧﮯ »ﺟﻮﺍﺏ ﻳﮏ ﺩﻫﺎﺗﻲ ﺑﻪ ﺁﻗﺎﯼ ﻣﺤﻼﺗﻲ!« ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﯽ۔
  • ﺧﻤﺲ ﺍﺯﻧﻈﺮﺣﺪﻳﺚ ﻭﻓَـﺘﻮﻱ
  • ﺟﻠﺪ ﺩﻭﻡ ﻛﺘﺎﺏ »ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺩﺭ ﺍﺳﻼﻡ «ﺑﺎ ﻧﺎﻡ »ﻭﻇﺎﯾﻒ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺩﺭﺍﺳﻼﻡ

وفات[ترمیم]

آپ نے جمعہ 29 رمضان 1409 ھجری بمطابق 1989 عیسوی میں وفات پائی ۔

نماز جنازہ[ترمیم]

آپ کی نماز جنازہ مشہور ایرانی شیعہ مصلح اور موحد عالم ڈاکٹر مصطفی حسینی طباطبائی نے پڑھائی ،جو کتاب تفسیر المیزان کے مصنف آیت اللہ مصطفی حسینی طباطبائی کے پوتے ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]