خائن احمد پاشا
| خائن احمد پاشا | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
| مناصب | |||||||
| گورنر مصر | |||||||
| برسر عہدہ 1523 – 1524 | |||||||
| |||||||
| معلومات شخصیت | |||||||
| مقام پیدائش | جارجیا | ||||||
| وفات | سنہ 1524ء ایالت مصر | ||||||
| وجہ وفات | سربریدگی | ||||||
| طرز وفات | سزائے موت | ||||||
| شہریت | |||||||
| مذہب | اسلام [1] | ||||||
| عملی زندگی | |||||||
| پیشہ | سیاست دان ، مصنف [1] | ||||||
| پیشہ ورانہ زبان | عثمانی ترکی [1]، ترکی [1]، عربی [1] | ||||||
| عسکری خدمات | |||||||
| درستی - ترمیم | |||||||
خائن احمد پاشا ("غدار احمد پاشا "؛ وفات 1524ء) ، ایک عثمانی گورنر ، بیلربے اور ریاست کار تھا ،جو 1523ء میں مصر کا عثمانی گورنر بنا ۔ جب وہ وزیر اعظم نہ بن سکا اور اس کی بجائے اس کے حریف پارگلی ابراہیم پاشا کو وزیر اعظم بنا دیا گیا (جون 1523ء) تو وہ مایوس ہو گیا، اس نے سلطنت عثمانیہ سے خود مختاری کا اعلان کرکے، سلطان مصر ہونے اعلان کر دیا۔ [2] اس نے اپنے اقتدار کو قانونی حیثیت دینے کے لیے اپنی تصویر اور نام کے سکے بنوائے اور جنوری 1524 میں قاہرہ قلعے اور مقامی عثمانی دستوں پر قبضہ کر لیا۔ [3] تاہم ، اس کے برطرف کردہ دو امیروں نے حمام میں اس پرقاتلانہ حملہ کیا لیکن خوش قسمتی سے وہ بچ نکلا اور قاہرہ سے فرار ہو گیا۔ عثمانی حکام نے بالآخر اسے پکڑ لیا اور اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ [4] اس کی بغاوت نے نوزائیدہ ایالت مصر میں ایک مختصر مدت کے لیے عدم استحکام کی صورت حال پیدا کردی۔ اس کی وفات کے بعد ، اس کے حریف پارگلی ابراہیم پاشا نے مصر کا دورہ کیا اور صوبائی فوج اور شہری انتظامیہ میں اصلاحات کیں۔ [5] [6]
احمد پاشا جارجیائی نژاد تھا۔ [4] انھوں نے اندرون محل مکتب سے تعلیم حاصل کی تھی۔ [3]
لفظ "خائن" کے فارسی میں معنی "غدار" کے ہیں۔
حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 3 4 5 6 https://islamansiklopedisi.org.tr/ahmed-pasa-hain
- ↑ Kaya Şahin (29 مارچ 2013)۔ Empire and Power in the Reign of Süleyman: Narrating the Sixteenth-Century Ottoman World۔ Cambridge University Press۔ ص 54۔ ISBN:978-1-107-03442-6
- 1 2 Süreyya, Bey Mehmet, Nuri Akbayar, and Seyit Ali. Kahraman. Sicill-i Osmanî. Beşiktaş, İstanbul: Kültür Bakanlığı Ile Türkiye Ekonomik Ve Toplumsal Tarih Vakfı'nın Ortak Yayınıdır, 1890. Print.
- 1 2 Yayın Kurulu "Ahmet Paşa (Hain)", (1999), Yaşamları ve Yapıtlarıyla Osmanlılar Ansiklopedisi, İstanbul:Yapı Kredi Kültür Sanat Yayıncılık A.Ş. volume 2, p.146 ISBN 975-08-0072-9
- ↑ André Raymond (2001)۔ Cairo: City of History۔ ترجمہ از Willard Wood (Harvard ایڈیشن)۔ Cairo, Egypt; New York, New York: American University in Cairo Press۔ ص 191۔ ISBN:978-977-424-660-9
- ↑
Kaya Şahin (2013) [2013]۔ "The Secretary's Progress (1523-1534): An Ottoman Grand Vizier in Action: The Egyptian Inspection"۔ Empire and Power in the Reign of Süleyman: Narrating the Sixteenth-Century Ottoman World۔ Cambridge Studies in Islamic Civilization (reprint ایڈیشن)۔ Cambridge: Cambridge University Press۔ ص 55-56۔ ISBN:9781107034426۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-02-03۔
[İbrahim Pasha] reached Cairo on April 2 [1525]. He immediately set out to secure control of the province through a mixture of violence and charity. [...] However, İbrahim wanted to leave a larger impact on Egypt, and his next step was to lay down the grounds for a viable ottoman administration.
| سیاسی عہدے | ||
|---|---|---|
| ماقبل | مصر کا عثمانی والی 1523–1524 | مابعد |
| شاہی القاب | ||
| ' خود مختاری کا اعلان کر دیا |
سلطان مصر 1523–1524 |
بغاوت ختم کردی گئی |
- 1524ء کی وفیات
- سلطنت عثمانیہ کے مخالف بغاوتیں
- سزائے موت یافتہ فرماں روا
- پاشا
- مصر کے عثمانی گورنر
- عثمانی مصر
- عثمانی شخصیات کے نامکمل مضامین
- سزائے موت یافتہ عثمانی شخصیات
- مصر کے سولہویں صدی کے عثمانی گورنر
- سولہویں صدی میں عثمانیہ سلطنت سے سزائے موت یافتہ شخصیات
- سزائے موت یافتہ شخصیات از سلطنت عثمانیہ
- سلطنت عثمانیہ کے جارجیائی
- سولہویں صدی کی عثمانی شخصیات
- جارجیائی نژاد عثمانی شخصیات