"توہین رسالت قانون (معترضین کے دلائل)" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
 
2۔ اس آرڈیننس کے تحت عفو و درگذر اور توبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر کسی سے بھولے سے بھی کوئی غلطی ہو گئی ہے تو موجودہ آرڈیننس کے تحت آپ کو توبہ کا کوئی موقع نہیں ملے گا اور ہر حال میں قتل کی سزا ملے گی۔
 
==موجودہ آرڈیننس کے غلط استعمال کو کسی صورت نہیں روکا جا سکتا==
 
سلف فقہائے احناف کا اوپر بیان کردہ فتوی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے اُن تمام فتنوں پر قابو پایا جا سکتا ہے جو کہ موجودہ آرڈیننس کی خرابی کے باعث معاشرے میں پیدا ہو رہے ہیں۔
 
موجودہ آرڈیننس کے حامی حضرات کا کہنا ہے کہ قانون بالکل صحیح ہے اور سارا قصور حکومت اور عدالتوں کا ہے اور اگر وہ اس قانون کوصحیح طرح سے لاگو کریں تو یہ فتنے پیدا نہیں ہوں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ حکومت کی غلطی ہے اور نہ عدالتوں کی، بلکہ موجودہ آرڈیننس میں بذات خود یہ سقم موجود ہے کہ شریر لوگ اس کو کھلونا بنا کر دوسروں سے اپنی ذاتی دشمنیاں بہت آرام سے نکالتے ہیں اور بدنام ہوتا ہے بے چارہ دینِ اسلام۔ آپ جس مرضی کو لا کر حکومت اور عدالتوں میں بٹھا دیں، مگر موجودہ حالت میں آپ اس قانون کے غلط استعمال کو نہیں روک سکتے۔
 
جبکہ فقہائے احناف کے بیان کردہ طریقے کے مطابق اگر آرڈیننس میں "عفو و درگذر اور توبہ" کا دروازہ کھلا ہو، اور پہلی مرتبہ میں ہی "فوراً" ہی قتل نہ کر دیا جائے، تو پھر یہ سقم خود بخود دور ہو جائیں گے اور کوئی شریر انسان انکو اپنی ذاتی دشمنیاں نکالنے کے لیے ہرگز استعمال نہیں کر سکے گا۔ نہ کسی بے گناہ کو قتل کیا جائے گا، اور نہ محمد رحمت اللعالمین (ص) کا دین بدنام ہو گا۔
بہت ضروری ہے کہ فقہائے احناف کی ان پیش کردہ صحیح تعبیرات کو موجودہ آرڈیننس کا حصہ بنایا جائے تاکہ موجودہ دور کے علماء حضرات نے جو غلط تعبیرات عدالتوں کے حوالے کی ہوئی ہیں، انکا خاتمہ ہو سکے اور کسی بے گناہ کو سزا نہ ہونے پائے۔
 
==کعب بن اشرف یہودی کا واقعہ ==
144

ترامیم

فہرست رہنمائی