"کتاب" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
4 بائٹ کا اضافہ ،  5 سال پہلے
م
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م
م
کتاب کا لفظ حکم کے معنی میں بھی وارد ہے‘ قرآن مجید میں ہے :
’’ لولا کتب من اللہ سبق لمسکم فیما اخذتم عذاب عظیم (الانفال : ٦٨) اگر پہلے (معاف کردینے کا) حکم‘ اللہ کی طرف سے نہ ہوتا تو (کافروں سے) جو (فدیہ کا مال) تم نے لیا تھا‘ تمہیں اس میں ضرور بڑا عذاب پہنچتا
قرآن مجید میں جہاں اہل کتاب کا لفظ آتا ہے تو اس کتاب سے تورات‘ انجیل یا یہ دونوں کتابیں مراد ہوتی ہیں۔ [[(المفردات ص ٤٢٥۔ ٤٢٣‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ‘ ایران‘ ١٣٤٢ ھ)]]
=== کتاب کا اصطلاحی معنی ===
کتاب کا اصطلاحی معنی یہ ہے : وہ صحیفہ جو ایسے متعدد مسائل جامع ہو جو جنسا متحد ہوں اور نوعا اور صنفا مختلف ہوں اور وہ صحیفہ ابواب اور فصول پر منقسم ہو‘ جیسے کتاب الطہارۃ‘ کتاب الزکوۃ وغیرہ۔

فہرست رہنمائی