"چندرگپت موریا" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
clean up, replaced: قوائد ← قواعد (3) using AWB
(clean up, replaced: قوائد ← قواعد (3) using AWB)
 
== یونانی اثرات کی عدم موجودگی ==
[[موریا|موریا سلطنت]] کسی بھی صورت سے [[سکندر اعظم]] کی عالی شان ناپائیدار فوجی مہم کا نتیجہ نہ تھی۔ انیس مہینے جو اس کو [[ہندوستان]] میں گزرے تمام تباہ کن جنگوں کی نذر ہوگئے اور اس کی موت کی وجہ سے اس کے تمام منصوبے خاک میں مل گئے اور چندر گپت کو ضرورت نہ تھی کہ وہ سلطنت کے مفہوم کو سکندر کی مثال حاصل کرے۔ اس کے اور اس کے ہم وطنوں کی نظر کے سامنے کیانی سلطنت کا عظیم انشان کارخانہ موجود تھا اور یہی سلطنت تھی جس نے اس کے دل و دماغ پر اثر کیا تھا۔ انہوں نے اسی کے نمونے پر اپنی سلطنت کے آئین کو بنایا جس حد تک وہ خالص ہندی نہ تھے۔ چندر گپت کے دربار اور انتظام میں جہاں کہیں غیر ممالک کے اثر کا شائبہ جن کا ذکر ہماری متفرق اسناد میں پایا جاتا ہے وہ یونانی نہیں بلکہ ایرانی ہیں۔ صوبے دار کے لیے سترپ کا ایرانی خطاب ایک بڑے عرضہ چوتھی صدی عیسوی تک ہندوستان میں مروج رہا۔
 
== پاٹلی پتر ==
سلوکس نے اپنے ایک سفیر میگھستینز Maghasthenes کو اس کے دربار میں بھیجا، جس نے اس عہد کے حالات تفصیل سے قلمبند کئے ہیں۔ میگھستینز پاٹلی پتر کے بارے میں لکھتا ہے کہ یہ شہر نو ۹ میل چوڑا اور ڈیرھ میل لمبا تھا۔ اس کے گرد لکڑی کی مظبوط فصیل تھی جس میں چونستھ ۴۶ دروازے تھے اور اس کے اوپر پانچ سو500 برج تھے۔ فصیل کے باہر ایک وسیع اور عمیق قندق تھی جس میں دریائے سون کا پانی بھرا ہوا تھا۔ شہر کے اندر چندر گپت موریا کا محل تھا جو لکڑیوں کا بنا ہوا تھا اور بہت عالی شان تھا۔ اس کے ستونوں اور دیواروں پر سونے کا پانی پھرا ہوا تھا اور ان پر سونے کی بیلیں اور چاندی کے پرندے منقوش تھے۔ تمام عمارتیں ایک وسیع میدان میں تھیں۔ جس میں مچھلی کے تلاب اور انواع قسم کے نمائشی درخت اور بیلیں پائی جاتی تھیں۔
ہم تک صرف پاٹلی پتر دارلسلطنت کے انتظام کی تفصیل پہنچی ہے۔ مگر ہم اس سے یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ سلطنت کے اور بڑے شہروں یعنی ٹیکسلا، اجین وغیرہ کا بھی اسی اصول سے انتظام ہوتا ہوگا۔ راجہ اشوک کے صوبوں کے نام سے فرمان میں کلنگ کے شہر ٹوسل کے ان افسروں کو مخاطب کیا گیا ہے جو اس کے انتظام کے مجاز تھے۔
 
== بادشاہ اور دربار ==
اس عہد کی طرح موریہ بھی نیم فوجی حکومت تھی اور طاقت کا دارو مدار فوج پر تھا۔ وہ اپنی فوج کے بل پر ہی اپنی حکومت قائم کی اور لوگوں کے دلوں پر اپنی ہیبت قائم رکھ سکے۔ موریا عہد میں فوج کی تعداد میں اضافہ ہوا اور اس کی تعد بڑھ کر چھ لاکھ سے بھی تجاوز ہوگئی۔ پلینی Pliny کے بیان کے مطابق چندر گپت کی فوج میں چھ لاکھ 600000 پیادہ 30000 تیس ہزار سوار اور نو ہزار 9000 ہاتھی شامل تھے۔ مگھشنز کے بیان کے مطابق اس عظیم انشان فوج کی نگرانی ایک مجلس کے سپرد تھی جو تیس اراکین پر مشتمل تھی اور جو مزید چھ ذیلی مجلسوں میں تقسیم بٹی ہوئی تھی۔ ہر ذیلی مجلس کے سپرد فوج کا خاص حصہ تھا۔ پہلی امیر بحر کی ہمراہی میں بحری جنگ کے معاملات۔ دوسری باربرداری، سامان رسد اور فوجی خدمات جس میں طبلچیوں، سائیسوں، گھسیاروں اور دیگر کاری گروں کو مہیا کرنا۔ تیسری پیادہ فوج۔ چوتھی سوار فوج کا انتظام۔ پانچویں رتھوں کا انتطام۔ چھٹی ہاتھیوں کا انتظام۔
نیایت قدیم زمانے میں ہندی فوج عام طور پر چار حصوں یعنی سواروں، پیادے، ہاتھی اور رتھوں میں تقسیم کیا جاتا تھا اور طبعی طور پر فوج کے ہر حصہ ایک جدا گانہ افسر کے ماتحت ہوا کرتا تھا۔ مگر اس نظام میں رسد اور امیر بحر کا کے محکمے کا اضافہ چندر گپت کی جدت طبع معلوم ہوتی ہے۔ اس کا یہ فوجی نظام بظاہر مکمل تھا۔
چندر گپت کے فوجی نظام میں بھی کوئی یونانی اثر نہیں پایا جاتا ہے اور یہ مبنی ہے اس قدیم ہندی نمونے پر۔ یہ اس کی عظیم انشان فوج محض ایک ترقی یافتہ صورت اس عظیم فوج کی تھی جو کسی زمانے میں مگدھ میں موجود تھی۔ ہندی بادشاہ عموماً فتح کے لیے زیادہ تر ہاتھیوں پر اعتماد کرتے تھے۔ ان سے اتر کر جنگی رتھوں اور پیادہ فوج کی کثرت پر سوار فوج نسبتاً کم اور بیکار ہوتی تھی۔ اس کے برخلاف [[سکندر اعظم|سکندر]] نے نہ ہاتھیوں سے کام لیا اور نہ رتھوں سے بلکہ اس نے تمام انحصار نہایت اعلیٰ درجے کے قوائدداںقواعدداں رسالے پر کیا۔ جس کو وہ نہایات ہنر مندی اور جلاوت سے کام لاتا تھا۔ خاندان سلوکس کے بادشاہ بھی ایشائی طریقہ پر کار بند ہوئے اور اسی پر قناعت کی اور ہاتھیوں پر بھروسہ کرنے لگے۔
مگھیشنز کے بیان کی تصدیق کسی اورذرائع سے نہیں ہوتی ہے پھر بھی اس سے اتنا اندازہ ہوجاتا ہے کہ [[موریا|موریا عہد]] میں فوج کا محکمہ منظم اور مستحکم تھا۔ اشوک نے عدم تشدد کے اصول کو اپنایا اور اس محکمہ کی طرف سے غفلت برتی۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ ملک فوجی لحاظ سے کمزور ہوگیا اور داخلی انتشار کے ساتھ عرصہ تک بیرونی حملوں کا شکار ہوتا رہا۔
 
== قائع نویس اور نگرانی ==
چندر گپتا دور دراز مقامات کے حکام پر خاص لوگوں یعنی وقائع نویسوں کے ذریعے اپنی نگرانی قائم رکھتا تھا۔ جن کو یونانی مصنفین نے منتظم اور مہتم لکھا ہے اور ان کا ذکر اشوک کے فرامین میں شاہی ملازمین (پلسانی کا ستون کا فرمان نمبر ۶) یا اخبار نویس کے نام سے کیا گیا ہے (پٹنی وید کا سنگی فرمان نمبر ۶) ان افسروں کا یہ کام تھا کے واقعات پر نظر رکھیں اور خفیہ طور پر ان کی خبر صدر حکومت کو دیتے رہیں۔ ایرین کا بیان ہے کہ ایسے افسر ہندوستان میں خود مختیار اقوام کی حکومتیں اور شاہی حکومتیں دونوں مقرر کرتی تھیں۔ یہ حکومتیں اس بات کی کسر نہ کرتی تھیں کہ چھاؤنی یا بازار کی فاحشہ عورتوں کو ان وقائع نویسوں کے شریک کے طور پر استعمال کریں اور یقناً یہ عورتیں اکثر اپنے افسران بالا دست کے پاس بہت سے خفیہ بازاری چہ می گوئیوں کے حالات پہنچاتی ہوں گی۔ ایرین کے خبر رساں نے اس کو یقین دلایا تھا کہ یہ خبریں جو بھیجی جاتی تھیں ہر حال میں درست ہوتی تھیں۔ مگر اس بیان کی صحت کے متعلق بیان کی صحت کے متعلق شک و شبہ کی گنجائش ہے۔ باوجود اس امر کے قدیم ہندوستان کی اقوام اپنی ریاست گوئی اور دیانت داری میں دور دراز ممالک میں شہرت رکھتی تھی۔
مرکزی حکومت مقامی عمال کے ذریعے تمام چیزوں کی نہایت سخت نگرانی کرتی تھی اور اس کی ایسی ہی نگرانی آبادی کی تمام جماعتوں اور ذاتوں پر قائم تھی۔ یہاں تک کہ برہمن منجم اور جوتشی اور قربان گاہ کے مذہبی پیشوا جن کو مگھیشنز غلطی سے ایک علیحدہ جماعت قرار دیتا ہے اس سرکاری نگاہداشت سے نہ بچ سکتے تھے اور ان کو ان کی پیشن گوئیوں سے صحیح یا غلط ہونے کے مطابق یا تو انعام و اکرام تقسیم ہوتا تھا اور یا ان کو سزا دی جاتی تھی۔ کاریگروں اور صناعوں کے طبقہ میں اسلحہ سازوں اور جہاز سازوں کو سرکار کی طرف سے تنخواہ ملتی تھی اور یہ کہا جاتا تھا کہ ان کو سوائے سرکار کے اور کسی کے کام کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ لکڑی کاٹنے والے، نجار، لوہار اور کان کن بعض خاص قوائدقواعد کے پابند تھے۔ مگر ان قوائدقواعد کا ذکر ہم تک نہیں پہنچا۔
 
== ضابطہ تعزیرات ==

فہرست رہنمائی