"چندرگپت موریا" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
clean up, replaced: ← (2), ← (13) using AWB
(clean up, replaced: قوائد ← قواعد (3) using AWB)
(clean up, replaced: ← (2), ← (13) using AWB)
| father =
| mother =
| Religion = Jainism
| Wife = Daughter of Seleucus Nicator
| brothers =
|birth_place = [[پاٹلی پوترا]], [[بہار (بھارت)]], [[بھارت]]
|death_date = 298 BC
|death_place = [[Shravanbelgola]], [[کرناٹک]]<ref>[http://books.google.com/books?id=i-y6ZUheQH8C&printsec=frontcover#v=onepage&q&f=false Chandragupta Maurya and his times] By Radha Kumud Mookerji, 4th ed. 1966, p.40. ISBN 81-208-0405-8; 81-208-0433-3</ref>
}}
'''چندر گپت موریا''' (Chandragpta Maura) [[ہندوستان]] کی [[موریا|موریا سلطنت]] کا بانی تھا۔۔ عام روایات کے مطابق یہ نند[چندر خاندان کا فرد تھا جوکسی بنا پر راجہ کی ناراضی سے ڈر کر [[پنجاب]] کی طرف بھاگ گیا تھا۔ [[پنجاب]] میں چندر گپت [[پنجاب]] و سرحد کے غیر مطمعین قبائل کا رہنما بن گیا۔ اس نے اپنے وزیر [[چانکیا]] یا [[کوٹلیا]] chanikya or Koutilya کی مدد سے یونانی بالادستی کے خلاف بغاوت کردی اور ایک سال کے اندر یونانی حکومت کے اثر و نفوز کو مٹا کر ایک نئے شاہی خاندان کی بنیاد رکھی۔ جو اس کی ماں کے نام سے موریہ تاریخ میں مشہور ہوا۔ چندر گپت یونانی اثرات کو زائل کرنے کے بعد مگدھ کی ریاست پر حملہ آور ہوا۔ اس جنگ میں نند خاندان کا آخری حکمران مارا گیا۔
چندر گپت سے [[تاریخ ہند]] کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ جو شمالی ہند کے اتحاد اور ہندو تمذن کی نشونماہ نظام حکومت کی توسیع اور برہمنت کے اثر و رسوخ کے لحاظ سے خاص اہمیت کا حامل ہے۔ یہ پہلا حکمران ہے جس نے شمالی ہند کی تمام ریاستوں کو زیر کرکے ایک متحدہ حکومت کی بنیاد رکھی اور اپنی مملکت کو خلیج بنگال سے لیکر بحیرہ عرب تک وسیع کیا۔ اس نے اپنے چوبیس سالہ (322ء تا 298ء ق م) دور میں بڑی بڑی جنگیں لڑیں، جس میں سب سے اہم جنگ [[سکندر اعظم|سکندر]] کے سالار سلوکس Seleuces سے لڑی۔
 
== چندر گپت کے کارنامے ==
چندر گپت جوانی کے عالم میں تخت پر بیٹھا اور اس نے صرف چوبیس سال حکومت کی۔ جس وقت وہ تخت و تاج سے دست بردار ہوا یا مرگیا اس کی عمر زیادہ سے زیادہ پچاس سال کی ہوگی۔ اپنی زندگی کے اس تھوڑے سے عرصہ میں اس نے بڑے بڑے کام کئے مقدونی فوجوں کو ہندوستان سے نکالنا، سلوکس نکوٹار کو کامل شکست دے کر ملک سے نکالنا، کم سے کم ایک طرف سے لے کر دوسری طرف تک تمام شمالی ہند کو زیر کرنا، ایک زبر دست فوج تیار کرنا اور ایک عظیم انشان اور وسیع سلطنت کا کامل نظم و نسق، یہ تمام کارنامے ایسے ہیں جو کسی طرح بھی بے وقعت نہیں ہو سکتے ہیں۔ چندر گپت کی طاقت ایسی مستحکم ہوچکی تھی کہ نہایت امن و امان کے ساتھ اس کے بیٹے اور پوتے تک منتقل ہوگئی اور یونانی بادشاہوں نے اس سے اتحاد و ارتباط کی خواہش کی یونانیوں نے [[سکندر اعظم]] اور سلوکس کے ہندوستانی حملوں کی یاد کو پھر کبھی تازہ نہ کیا اور صرف اسی کفایت کی اس کے باشاہوں کے ساتھ تین پشتوں تک دوستانہ مصلحتی اور تجارتی تعلقات قائم رکھے۔
اٹھارہ برس کے عرصہ میں اس نے مقدونی افواج کو [[پنجاب]] و [[سندھ]] سے باہر نکالا، سلوکس نکوٹار کو ذلیل کیا اور اپنے آپ کو بلاشرکت غیر سے کم از کم شمالی ہند اور آریانہ کے ایک بڑے حصہ کا شہنشاہ بنا لیا۔ یہ اس کے ایسے کارنامے ہیں جو اس کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ دنیا کے عظیم انشان بادشاہوں کی صف میں جگہ پائے۔ وہ سلطنت جو چندر گپت کی سلطنت کی طرح وسیع ہو اور جس میں مختلف عناصر جمع ہوگئے ہوں کمزور شخص کے ہاتھ میں رہے نہیں سکتی ہے۔ وہ زبردست ہاتھ جس نے اس سلطنت کو حاصل کیا ہو اس پر حکومت کرنے میں کامیاب بھی ہوا ہو اور تمام نظم و نسق کا کام نہایت درشتی کے ساتھ کیا جاتا تھا۔ سلوکس کے واپس جانے کے چھ ۶ سال بعد چندر گپت مرگیا۔
جین روایات بیان کرتی ہیں کہ چندر گپت موریا مذہباً جین تھا اور اس موقع پر جب بارہ سال علی التصال قحط پڑا تو وہ تخت و تاج سے دست بردار ہوگیا اور جین کے ایک بزرگ بھدراہاہو کے ہمراہ ہند کی طرف چلا گیا اور سنیاسی کی حثیت سے موجودہ ریاست [[میسور]] کے سراون بلگول کے مقام پر رہتا رہا۔ بالآخر اسی جگہ جہاں اب بھی اس کا نام یادگار ہے فاقہ کرکے جان دے دی۔ غالباً اس روایت میں کچھ نہ کچھ حقیقت ہے۔
 
== یونانی اثرات کی عدم موجودگی ==
 
== فوجی نظام ==
اس عہد کی طرح موریہ بھی نیم فوجی حکومت تھی اور طاقت کا دارو مدار فوج پر تھا۔ وہ اپنی فوج کے بل پر ہی اپنی حکومت قائم کی اور لوگوں کے دلوں پر اپنی ہیبت قائم رکھ سکے۔ موریا عہد میں فوج کی تعداد میں اضافہ ہوا اور اس کی تعد بڑھ کر چھ لاکھ سے بھی تجاوز ہوگئی۔ پلینی Pliny کے بیان کے مطابق چندر گپت کی فوج میں چھ لاکھ 600000 پیادہ 30000 تیس ہزار سوار اور نو ہزار 9000 ہاتھی شامل تھے۔ مگھشنز کے بیان کے مطابق اس عظیم انشان فوج کی نگرانی ایک مجلس کے سپرد تھی جو تیس اراکین پر مشتمل تھی اور جو مزید چھ ذیلی مجلسوں میں تقسیم بٹی ہوئی تھی۔ ہر ذیلی مجلس کے سپرد فوج کا خاص حصہ تھا۔ پہلی امیر بحر کی ہمراہی میں بحری جنگ کے معاملات۔ دوسری باربرداری، سامان رسد اور فوجی خدمات جس میں طبلچیوں، سائیسوں، گھسیاروں اور دیگر کاری گروں کو مہیا کرنا۔ تیسری پیادہ فوج۔ چوتھی سوار فوج کا انتظام۔ پانچویں رتھوں کا انتطام۔ چھٹی ہاتھیوں کا انتظام۔
نیایت قدیم زمانے میں ہندی فوج عام طور پر چار حصوں یعنی سواروں، پیادے، ہاتھی اور رتھوں میں تقسیم کیا جاتا تھا اور طبعی طور پر فوج کے ہر حصہ ایک جدا گانہ افسر کے ماتحت ہوا کرتا تھا۔ مگر اس نظام میں رسد اور امیر بحر کا کے محکمے کا اضافہ چندر گپت کی جدت طبع معلوم ہوتی ہے۔ اس کا یہ فوجی نظام بظاہر مکمل تھا۔
چندر گپت کے فوجی نظام میں بھی کوئی یونانی اثر نہیں پایا جاتا ہے اور یہ مبنی ہے اس قدیم ہندی نمونے پر۔ یہ اس کی عظیم انشان فوج محض ایک ترقی یافتہ صورت اس عظیم فوج کی تھی جو کسی زمانے میں مگدھ میں موجود تھی۔ ہندی بادشاہ عموماً فتح کے لیے زیادہ تر ہاتھیوں پر اعتماد کرتے تھے۔ ان سے اتر کر جنگی رتھوں اور پیادہ فوج کی کثرت پر سوار فوج نسبتاً کم اور بیکار ہوتی تھی۔ اس کے برخلاف [[سکندر اعظم|سکندر]] نے نہ ہاتھیوں سے کام لیا اور نہ رتھوں سے بلکہ اس نے تمام انحصار نہایت اعلیٰ درجے کے قواعدداں رسالے پر کیا۔ جس کو وہ نہایات ہنر مندی اور جلاوت سے کام لاتا تھا۔ خاندان سلوکس کے بادشاہ بھی ایشائی طریقہ پر کار بند ہوئے اور اسی پر قناعت کی اور ہاتھیوں پر بھروسہ کرنے لگے۔
مگھیشنز کے بیان کی تصدیق کسی اورذرائع سے نہیں ہوتی ہے پھر بھی اس سے اتنا اندازہ ہوجاتا ہے کہ [[موریا|موریا عہد]] میں فوج کا محکمہ منظم اور مستحکم تھا۔ اشوک نے عدم تشدد کے اصول کو اپنایا اور اس محکمہ کی طرف سے غفلت برتی۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ ملک فوجی لحاظ سے کمزور ہوگیا اور داخلی انتشار کے ساتھ عرصہ تک بیرونی حملوں کا شکار ہوتا رہا۔
 
== ملکی نظام ==
چندر گپت کی سلطنت کے اندورنی اور ملکی انتظامت کی جتنی تفصلیں ہم تک پہنچی ہیں اگرچہ وہ اتنی وسیع تو نہیں جتنی کہ چاہیے تھی مگر بہرحال اس قدر تو ہیں کہ ہم اس کے ذریعے سے اس زمانے سے اس کے زمانے کے سلسلہ حکومت کو کافی ددافی طور پر سمجھ سکیں۔
دالسلطنت یعنی پاٹلی پتر میں نظن و نسق کے لیے مجلس بلدیہ مقرر تھی، جس میں تیس آدمی شامل تھی اور محکمہ جنگ کی طرح چھ کمٹیوں میں تقسیم تھی یہ کمٹیاں دراصل عام معمولی پنچایتوں کی ایک سرکاری صورت تھی تھی جس کے ذریعے سے قدیم زمانے سے [[ہندوستان]] کی مختلف ذاتیں اور پیشہ ور اپنے باہمی قضیوں کا فیصلہ کیا کرتے تھے۔
بلدیہ کی پہلی کمیٹی کے ذمے صنعت و حرفت کے متعلق تمام معاملات کی نگرانی کرتی تھی اور غالباً مزدوری کی شرح کا تعین بھی اسی کے ہاتھ میں تھا اور شاید ہر وقت اس امر کے لیے تیار رہتی ہو کہ کاریگروں کو مجبور کرے کہ عمدہ اور خالص چیزیں استعمال کریں اور حکومت نے جتنی مزدوری ان کے لیے مقرر کردی ہو اتنا ہی تمام دن میں انجام دیں۔ صناع اور کاریگروں کے متعلق یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ خاص طور پر شاہی ملازم ہیں اور کوئی شخص کسی صناع کے ہاتھ یا آنکھ کو گزند پہنچا کر اس کی کار کردگی کم کردیتا ہے تو اس کی سزا موت ہوا کرتی تھی۔
بلدیہ کی دوسری کمیٹی کے اختیار میں غیر ممالک میں رہنے والوں اور مسافروں کے معاملات تھے اور وہ وہی فرائض ادا کیا کرتے تھے جو کل محکمہ خارجہ کے افسر ادا کرتے ہیں۔ تمام اجنبیوں کو سرکاری افسر اپنی نگاہوں میں رکھتے تھے اور ان کے لیے ان کے حسب حثیت مکان بدرقہ اور ضرورت کے وقت طبی امداد پہنچاتے تھے۔ جو اجنبی مر جاتے ان کی تجہیز و تکفین معقول طور پر کی جاتی تھی۔ ان کی جائدادوں کا انتظام اسی کمیٹی کے اراکین کرتے اور ان کا منافع ان کے وارثوں کو بھیجتے رہتے۔ ان تمام کام انتظامات کا وجود ہی اس بات کا نہایت بین ثبوت ہے کہ تیسری صدی قبل مسیح میں [[ہندوستان]] کی [[موریا|موریا سلطنت]] کے تعلقات بیرونی سلطنتوں کے ساتھ قائم تھے اور کاروبار کے لیے غیر ممالک کے رہنے والوں کی ایک بڑی تعداد دارلسطنت آتی جاتی رہتی تھی۔
تیسری پنچایت کے ذمے یہ کام تھا کہ وہ اموات اور پیدائش کا باقیدہ طور پر اندراج کرتی رہے اور ہم کو صاف بتایا گیا کہ یہ انداراج اول حکومت کو اعداد سے باخبر رکھنے کے لیے اور دوسرے محاصل کے عائد کرنے میں آسانی کے لیے ہوا کرتی تھی۔ یہ محصول جس کا ذکر کیا گیا ہے کچھ رقم فی کس کے حساب سے سالانہ وصول کیا جاتا تھا۔
 
== ضابطہ تعزیرات ==
عوام و ناس کی ایمان داری اور دیانت داری اور جرائم کے عمل کا ثبوت میگستیز کے اس بیان سے ملتا ہے کہ جب چندر گپتا کے پراؤ میں جس میں 400000 آدمی جمع رہتے تھے تو روزانہ چوری کی مقدار آٹھ انگریزی پونڈ سے زیادہ نہیں ہوتی تھی۔ مگر جب کوئی جرم سرز ہوتا تو اس کی سزا بہت سخت دی جاتی تھی۔ ْقطع عضو کے خفیف زخم دینے کی سزا کو بھی ویسا زخم لگایا جاتا تھا اور اس کے علاوہ اس کا ہاتھ بھی کاٹ ڈالا جاتا تھا۔ اگر زخمی کوئی کاریگر ہوتا جو شاہی ملازم ہو تو اس کی سزا موت ہوتی تھی۔ چھوٹی گواہی دینے کے جرم کی سزا ہاتھ اور پاؤں کا قطع کرنا تھی اور غیر مصرحہ جرموں کی سزا یہ دی جاتی تھی کہ مجرم کے سر کے بال کٹوادیے جاتے تھے اور یہ سزا تمام سزاؤں میں سب سے زیادہ شرمناک سمجھی جاتی تھی۔ کسی متبرک درخت کو گزند پہنچانا، فرخت شدہ مال پر بلدیہ کے محصول سے گریز کرنا اور شاہی جلوس میں جب کہ وہ شکار کے لیے جارہا ہو دخل دینا۔ یہ سب ایسے جرائم جن کی سزائے موت تھی۔ درشتی اور سختی کی ان بیان کی ہوئی مثالوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قانون تعزیرات بہ ہیئت مجموعی نہایت سخت اور ظالمانہ ہوگا اور انسانی زندگی کی اس میں کچھ زیادہ پروا نہ کی جاتی ہوگی۔
 
== سڑکیں اور سواریاں ==
86,585

ترامیم

فہرست رہنمائی