"زبور" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
2 بائٹ کا اضافہ ،  6 سال پہلے
م
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
(لغوی معنی)
(ٹیگ: القاب)
مکوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
مزامیر ۱۲۰ تا ۱۳۴ اناشیدِ صعود کہلاتے ہیں۔ کہا جانا ہے کہ یہ مزامیر تب پڑھے جاتے تھے جب زائرین ہیکلِ سلیمانی کی طرف بڑھا کرتے تھے۔ مزمور ۱۱۹ طویل ترین مزمور ہے جو کہ ۱۷۶ آیات اور ۸ حصص پر مشتمل ہے، ہر حصے میں ۲۲ آیات ہیں، ہر حصہ عبرانی حروفِ تہجی کے بالترتیب حروف سے شروع ہوتا ہے۔ مزمور ۱۱۷، جوکہ ۲ آیات پر مشتمل ہے سب سے چھوٹا مزمور ہے۔
 
مفسرین اور ماہرین مزامیر کو کئکئی اقسام میں بانٹتے ہیں جن میں حمدیہ، مرثیا ئی، شکر گذاری، حکمت، لطوریائی مزامیر شامل ہیں۔
==اسلام میں==
اسلام میں زبور حضرت داؤد علیہ سلام پر نازل ہوئی اور یہ چار آسمانی کتابوں میں سے ایک ہے۔ زبور چاروں آسمانی کتابوں ( قرآن کریم، انجیل اور تورات ) سے پہلے نازل ہوئی۔

فہرست رہنمائی