"جمیعت اقوام" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
3 بائٹ کا اضافہ ،  4 سال پہلے
م
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م
LeagueذLeague of Nations
 
[[ملف:180px-League of nations symbol.gif|framepx|thumb|left|لیگ آف نیشنز]][[پہلی جنگ عظیم]] ختم ہوئی تو اس کے فوراً بعد [[انگلستان]] ، [[فرانس]] ، [[جرمنی]] ، [[ڈنمارک]] [[ناروے]] ، اور [[سویڈن]] میں ایسی انجمنیں معرض وجود میں آئیں جن کا مقصد جنگ کی روک تھام کرنا اور لوگوں کو امن کی اہمیت کا احساس دلانا تھا۔ ساتھ ہی ایک ایسی عالمی تنظیم کے قیام کی تحریک کا شروع ہوئی جو بقائے امن کے لیے مربوط کوشش کر سکے۔ چنانچہ ورسائی کے معاہدہ امن کی بنیاد پر یکم جنوری 1920ء کو ’’جمعیت الاقوام‘‘ قائم ہوئی۔ ابتداء میں اس ادارے میں 28 اتحادی اور 14 غیر جانبدار ممالک شامل ہوئے۔ بعد میں ارکان کی تعداد 60 تک پہنچ گئی۔ 1935ء میں [[جاپان]] اور [[جرمنی]] اس انجمن سے نکل گئے ۔ 1937ء میں [[اٹلی]] نے بھی اس سے قطع تعلق کر لیا ۔ [[روس]] اور [[افغانستان]] 1934ء میں اس کے رکن بنے۔
 
[[ملف:1920assemb.jpg|framepx|thumb|left|انجمن کا پہلا اجلاس 1920 میں]]جمعیت الاقوام میں ہر وہ خود مختار ملک اور مقبوضہ علاقہ شامل ہوسکتا تھا جو بین الاقوامی ذمہ داری قبول کرنے اور فوجی امور و معاملات میں انجمن کے فیصلوں کی پابندی کرنے کی اہلیت رکھتا تھا۔ انجمن اقوام کا مقصد دنیا بھر کے ملکوں میں انصاف اور احترام کوفروغ دینا اور اس طرح آئندہ جنگوں کا سدباب کرنا تھا۔ انجمن کا صدر مقام جینوا میں تھا۔ اس کی دو سرکاری زبانیں تھیں۔ انگریزی اور فرانسیسی ۔ منشور کے مطابق ہر رکن ملک حلف لیتا تھا کہ وہ کسی دوسرے رکن ملک سے تنازع کی صورت میں پر امن زرائعذ رائع سے مفاہمت کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ اور مصالحت اور مفاہمت کے تمام امکانات مسدود ہونے کے بعد ’’نو ماہ کے وقفےسے ‘‘ جنگ کا راستہ اختیار کر سکے گا۔ خلاف ورزی کی صورت میں انجمن کے دوسرے تمام رکن ممالک جارح ملک سے اقتصادی اور مالی روابط قطع کر لینے کے پابند تھے۔
 
[[ملف:League of Nations Anachronous Map.png|framepx|thumb|left|جمعیت الاقوام اور دنیا]]جمعیت الاقوام کو انتظامی اختیارات حاصل نہ تھے۔ اور نہ وہ رکن ممالک کی حکمت عملیوں کی تدوین و ترتیب میں کوئی عمل دخل رکھتی تھی۔ البتہ بین الاقوامی تنازعات کے سلسلے میں بیچ بچاؤ کرانے ، رکن ممالک کو جنگ سے محفوظ رکھنے اور امداد باہمی کی بنیاد پر دفاع کا انتظام کرنا اس کے فرائض میں شامل تھا۔ اس کے علاوہ مزدوروں کے حالات ، صحت عامہ ، مواصلات ، اقتصادی اور مالی امور ، اسلحے اور عورتوں اور بچوں کی ناجائز خرید فروخت ایسے معاملات میں اسے عمل دخل حاصل تھا۔ یعنی جنگ کے سدباب کے ساتھ ساتھ انجمن اقوام عالم نے عالمی سطح پر اقتصادی اور معاشرتی امور کی دیکھ بھال کی ذمے داری بھی سنبھال رکھی تھی۔ انجمن نے اپنے فرائض کی بجاآوری کے لیے کئی شعبے قائم کر رکھے تھے ۔ ان میں سے ایک اسمبلی تھی ، دوسری کونسل ، تیسرا سیکٹریریٹ ، چوتھا بین الاقوامی دفتر محنت اور پانچواں بین الاقوامی عدالت انصاف تھی۔ کونسل کو ابتدا میں متحارب ملکوں میں مفاہمت کرانے میں کامیابی ہوئی ۔ مثلاً 1921ء میں جب [[یوگوسلاویہ]] نے [[البانیہ]] اور 1925ء میں [[بلغاریہ]] نے [[یونان]] پر حملہ کیا تو کونسل نے ہی بچ بچاؤ کرایا۔ اسی طرح جب [[سویڈن]] اور فن لینڈ کے درمیان جزیرہ [[ہالینڈ]] کے بارے میں اور [[ترکی]] اور [[عراق]] میں سرحدی تنازعہ پیدا ہوا تو کونسل کی کوششوں ہی سے مفاہمت ہوئی۔

فہرست رہنمائی