"لسانی ثنویت" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
3,063 بائٹ کا اضافہ ،  11 سال پہلے
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
(نیا صفحہ: ثنائیِ لسان زبان سماجی لسانیات کی ایک اصطلاح ہے۔ اس سے مراد کسی بھی زبان میں دو ایسے لہجے یا ورائٹی ک...)
 
[[ثنائیِ لسان|ثنائیِ لسان (diglossia)]] ایک ایسی کیفیت کا نام ہے کہ جب کسی [[معاشرے]] میں اسکی زبان یا بولی دو (یا ایک سے زیادہ) رتبات یا درجات میں تقسیم ہوچکی ہو یا یوں بھی کہ سکتے ہیں کہ اس معاشرے کے افراد میں اپنی زبان کے سلسلے میں تفریق پائی جاتی ہے ، اس تفریق کو [[علم]] [[لسانیات]] میں ثنائیِ لسان اور یا پھر انشقاق اللسان (diglossia) بھی کہا جاتا ہے۔ اسی مفہوم کو آسان الفاظ میں یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اگر کسی معاشرے میں عوام اور خواص کی گفتار الگ الگ استعمال ہو تو اس معاشرے (کی متعلقہ زبان) کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ ثنائی اللسان کی کیفیت سے دوچار ہے۔ عام طور پر کسی زبان میں اس قسم کی ثنائی اللسانی یا دوزبانی کی وجہ سے اس میں اعلی{{ا}} اور ادنی{{ا}} کی تفریق نمایاں ہونے لگتی ہے اور یہ عمل صدیوں پر محیط ہو سکتا ہے؛ اعلی{{ا}} اور ادنی{{ا}} کی اس تفریق کے پس منظر میں ایک اھم کردار، امرا اور غربا کے درمیان فاصلے بھی ہوتا ہے جو عمومی طور پر تعلیمیافتہ اور غیرتعلیمیافتہ طبقات سے منسلک ہوتا ہے۔ اس دوزبانی کو طوالت بخشنے والی ایک وجہ اس صورتحال سے مستقل صرف نظر کرتے رہنے یا اس کو نظر انداز کرتے رہنے کی آتی ہے؛ نظراندازی کا یہ سلسلہ دانستہ یا نادانستہ چلتا رہتا ہے کیونکہ اس کا براہ راست تعلق اس معاشرے میں موجود شرح خواندگی سے ہوتا ہے؛ دنیا کا کوئی بھی معاشرہ ایسا نہیں کہ جس کی زبان میں ثنائی لسان نا پائی جاتی ہو کیونکہ عام طور پر گھریلو زبان بے تکلفانہ ہونے کی وجہ سے ہی ثنائی لسان کا آغاز ہوجاتا ہے۔ وہ معاشرے کہ جن میں شرح خواندگی زیادہ ہوجاتی ہے ان میں ثنائی لسان کی کیفیت موجود ہوتے ہوئے بھی کسی بڑے انشقاق یا تفریق کا باعث نہیں بنتی؛ اس کی بہترین مثال میں انگریزی اور جاپانی وغیرہ آجاتی ہیں۔
ثنائیِ لسان زبان سماجی لسانیات کی ایک اصطلاح ہے۔ اس سے مراد کسی بھی زبان میں دو ایسے لہجے یا ورائٹی کا موجود ہونا ہے جن میں سے ایک ورائٹی رسمی مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور دوسری عمومی مقاصد کے لیے۔ اس کی بہترین مثال کلاسیکی عربی اور عام عربی ہیں۔ کلاسیکی عربی جو قرآن کی زبان بھی ہے عرب ممالک میں رسمی مقاصد جیسے وعظ، لکھائی پڑھائی، دفاتر وغیرہ میں استعمال کی جاتی ہے جبکہ عام عربی بول چال اور گھر و گلی محلے میں استعمال کی جاتی ہے۔ رسمی ورائٹی اہل زبان سے محروم ہوتی ہے یعنی یہ زبان ماں کی گود میں نہیں بلکہ سکول جاکر سیکھی جاتی ہے جبکہ عام ورائٹی کے اہل زبان موجود ہوتے ہیں۔ عربی کے کیس میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کلاسیکی عربی اور عام عربی میں خاصا فرق موجود ہے۔ عام عربی تمام عرب ممالک میں مختلف ہے یعنی سعودی عرب کی عربی اردن کی عربی سے مختلف ہوگی جبکہ کلاسیکی ورائٹی ایک جیسی رہے گی۔
==معاشرتی لسانیات==
اس تعریف کو بعد میں مزید وسعت دے کر اس میں وہ کیس بھی شامل کردئیے گئے جہاں رسمی اور عام ورائٹی ایک ہی زبان سے تعلق نہیں رکھتیں۔ چناچہ نائجیریا میں ہاسا اور یوروبا وہاں کی مقامی زبانیں ہیں جن کے اہل زبان بھی موجود ہیں اور وہ غیر رسمی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہیں جبکہ انگریزی وہاں لوگوں کی دوسری یا تیسری زبان ہے۔ اور یہ رسمی مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یہی اصول اردو پر بھی لاگو ہوتا ہے اگرچہ اردو کے رسمی ہونے کے میزان پر اوپر کی طرف انگریزی جو کہ زیادہ رسمی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے اور نیچے کی طرف پنجابی، بلوچی، سندھی، پشتو، براہوی اور کشمیری آجاتی ہیں جو زیادہ عمومی اور غیر رسمی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
معاشرتی لسانیات (sociolinguistics) میں ثنائی لسان ایک اھم تصور ہے جس کی مدد سے معاشرے کے افراد میں ہونے والے تبادلۂ معلومات یا خیالات (جس کو [[رمز (ابلاغ)|رموز]] کہا جاتا ہے) اور ان کے مابین روابط کی معاشرتی ساخت کے مطالعے میں مدد ملتی ہے۔
==اردو==
==انگریزی==
==عربی==
جیسا کہ ابتداء میں مذکور ہوا کہ بنیادی طور پر ثنائی لسان دنیا کی ہر زبان میں پایا جاتا ہے کیونکہ اس کی اصل ابتداء گھریلو (مادری) زبان کی بے تکلفی اور آزاد بیانی میں ہوتی ہے اور معاشرے میں اقتصادی اور تعلیمی لحاظ سے پائے جانے والے مختلف طبقات اس ثنائی لسان میں اضافے اور اس کو نمایاں کرنے کا سبب بنا کرتے ہیں۔ آج کل بولی جانے والی عربی زبان میں بھی یہ صورتحال دیکھنے میں آتی ہے؛ وہ عربی جو کہ روایتی کہلائی جاسکتی ہے وہ رسمی مقاصد جیسے لکھائی پڑھائی اور دفاتر وغیرہ میں استعمال کی جاتی ہے جبکہ عام عربی بول چال وہ ہے جو گھر و گلی محلے میں استعمال کی جاتی ہے۔ یہاں ایک قابل غور بات یہ ہے کہ اس اعل{{ا}}ی یا روایتی عربی کو قرآن کی عربی سے الگ سمجھا جانا چاہیے کیونکہ آج کل کی رسمی عربی بھی قرآن کی عربی سے خاصی مختلف ہے۔ عربی میں اس ثنائی لسان کے بارے میں متعدد نظریات پیش کئے گئے ہیں اور اسی طرح اس کی ابتداء کے زمانے کے بارے میں؛ ان میں سب سے اھم اور منطقی نظریے کے مطابق عربی میں آج وہ لہجے جن کو ثنائی لسان میں شمار کیا جاتا ہے فی الحقیقت الگ الگ متعدد زبانیں تھیں جو کہ اسلام کی جغرافیائی حدود پھیلنے کے وقت اس میں سما گئیں اور قرآن و مسلمان ہوجانے والوں کی عبادات کی زبان ہونے کے ناطے ان کی زبان عربی میں بدل گئی۔ ان میں متعدد دور دراز کے علاقے جو کہ مرکز اسلام سے دور تھے وہ اپنے اپنے اجداد کے تاریخی لہجے اور زبانیں بولا کرتے تھے جن کو بعد میں گو کہ عربی کی یکسانیت میں شامل کر لیا گیا لیکن بہرحال ثنائی لسان کی کیفیت وجود میں آئی۔
==ہندی==
 
 
[[زمرہ:معاشری لسانیات]]
 
[[en:Diglossia]]
12

ترامیم

فہرست رہنمائی