"انوراگ کشیپ" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
 
== کیرئیر ==
فلمیں بنانے کی خواہش انوراگ کشیپ کو جون 1993ء میں جیب میں 5000-6000 رپیوں کے ساتھ ممبئی کھینچ لے آئی۔ ممبئی شہر میں پہلا 8 یا 9 ماہ ان لیئے لیے انتہائی مشکل رہے،
جس کے دوران انہیں سڑکوں پر سونا پڑا اور کام کی تلاش میں گھومنا بھی پڑا۔ جلد ہی انہیں پرتھوی ٹھیٹر میں کام مل گیا مگر ان کا پہلا پہلے مکمل نہ ہوسکا کیونکہ اس پلے کے ہدایتکار
کی اچانک وفات ہوگئی۔
ٹی وی پر شارٹ فلم اے ٹرین ٹو مہاکالی لکھی۔
2000ء میں انوراگ کشیپ نے خود ایک فلم کی ہدایت دی، مگر [[پانچ]] نامی اس فلم سینسر بورڈ پر سینسر نے رخنہ اندازی کی اور تا حال وہ التوا میں پڑی ہوئی ہے۔
اس کے بعد انہوں نے 1993ء کئکئی ممبئی بم دھماکوں پر فلم فرائیڈے بنائے جو سنسر کے التواکے باعث 2007ء میں ریلیز ہوئی۔ 2007ء میں کشیپ نے نو اسموکنگ نامی فلم بنائی جو تسلی بخش کارکردگی نہ دے سکی۔ ان کی اگلی فلم 2009ء کی دیو ڈی ٹھی جو دیوداس کا جدید روپ تھی یہ فلم کامیاب رہی۔
2009ء میں انوراگ گشیپ کی فلم گُلال اور 2011ء میں دی گرل ان دی یلو بوٹ نے کافی خراج تتحسین وصو ل ۔ انوراگ کشیپ کو سب سے زیادہ شہرت 2012ء کی ان کی دو حصوں میں بنی فلم گینگ آف واسی پور سے ملی ۔ اس کے بعد انوراگ کشیپ کی ہدایت کاری میں 2013 کو ممبئی ٹاکیز، 2014ء کو اگلی اور 2015ء کو بمبئی والویٹ بنی۔ 
 

فہرست رہنمائی