"چندرگپت موریا" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
[[ہندوستان]] کے دیسی قانون کی رو سے ہمیشہ تمام مزروغہ زمین بادشاہی ملک قرار دی گئی ہے اور بادشاہ کا یہ حق تسلیم کرلیا گیا ہے کہ لگان یا محصول وصول کرے جو یا تو اس کی پیداوار یا اس پیداوار کی قیمت کا ایک معتدبہ حصہ ہوتا تھا۔ اس زمانے میں بندوبست اراضی کی تفصیل ہم تک نہیں پہنچی اور ہم کو یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا ہر سال نیا بندوبست ہوا کرتا تھا یا اس سے زیادہ مدت میں برائے نام تمام پیدا وار کا چوتھائی حصہ سرکار محصول کے طور پر جمع کیا کرتی تھی۔ جیسے کہ اس زمانے میں بھی ہوتی ہے اور یہ ناممکن تھا کہ تمام صوبوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔ اس کے علاوہ چند اور غیر مصرحہ ابواب میں بھی وصول کئے جاتے تھے۔ چونکہ فوج میں سپاہی پیشہ نوکر رکھے جاتے تھے اور ان کے لیے جنگجو اقوام سے منتخب کیا جاتا تھا اس لیے کاشکار فوجی خدمت سے مستثنیٰ تھے اور مگھیشنز نہایت تعجب اور حیرت سے بیان کرتا ہے کہ عین اس وقت جب دو حریف بادشاہوں کی فوجوں میں مقابلہ ہورہا اور کاشکار نہایت اطمینان سے امن کے ساتھ کام کرتا تھا۔
 
== قائعوقائع نویس اور نگرانی ==
چندر گپتا دور دراز مقامات کے حکام پر خاص لوگوں یعنی وقائع نویسوں کے ذریعے اپنی نگرانی قائم رکھتا تھا۔ جن کو یونانی مصنفین نے منتظم اور مہتم لکھا ہے اور ان کا ذکر اشوک کے فرامین میں شاہی ملازمین (پلسانی کا ستون کا فرمان نمبر ۶) یا اخبار نویس کے نام سے کیا گیا ہے (پٹنی وید کا سنگی فرمان نمبر ۶) ان افسروں کا یہ کام تھا کے واقعات پر نظر رکھیں اور خفیہ طور پر ان کی خبر صدر حکومت کو دیتے رہیں۔ ایرین کا بیان ہے کہ ایسے افسر ہندوستان میں خود مختیار اقوام کی حکومتیں اور شاہی حکومتیں دونوں مقرر کرتی تھیں۔ یہ حکومتیں اس بات کی کسر نہ کرتی تھیں کہ چھاؤنی یا بازار کی فاحشہ عورتوں کو ان وقائع نویسوں کے شریک کے طور پر استعمال کریں اور یقناً یہ عورتیں اکثر اپنے افسران بالا دست کے پاس بہت سے خفیہ بازاری چہ می گوئیوں کے حالات پہنچاتی ہوں گی۔ ایرین کے خبر رساں نے اس کو یقین دلایا تھا کہ یہ خبریں جو بھیجی جاتی تھیں ہر حال میں درست ہوتی تھیں۔ مگر اس بیان کی صحت کے متعلق بیان کی صحت کے متعلق شک و شبہ کی گنجائش ہے۔ باوجود اس امر کے قدیم ہندوستان کی اقوام اپنی ریاست گوئی اور دیانت داری میں دور دراز ممالک میں شہرت رکھتی تھی۔
مرکزی حکومت مقامی عمال کے ذریعے تمام چیزوں کی نہایت سخت نگرانی کرتی تھی اور اس کی ایسی ہی نگرانی آبادی کی تمام جماعتوں اور ذاتوں پر قائم تھی۔ یہاں تک کہ برہمن منجم اور جوتشی اور قربان گاہ کے مذہبی پیشوا جن کو مگھیشنز غلطی سے ایک علاحدہ جماعت قرار دیتا ہے اس سرکاری نگاہداشت سے نہ بچ سکتے تھے اور ان کو ان کی پیشن گوئیوں سے صحیح یا غلط ہونے کے مطابق یا تو انعام و اکرام تقسیم ہوتا تھا اور یا ان کو سزا دی جاتی تھی۔ کاریگروں اور صناعوں کے طبقہ میں اسلحہ سازوں اور جہاز سازوں کو سرکار کی طرف سے تنخواہ ملتی تھی اور یہ کہا جاتا تھا کہ ان کو سوائے سرکار کے اور کسی کے کام کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ لکڑی کاٹنے والے، نجار، لوہار اور کان کن بعض خاص قواعد کے پابند تھے۔ مگر ان قواعد کا ذکر ہم تک نہیں پہنچا۔
گمنام صارف

فہرست رہنمائی