"معرکہ بلاط الشہداء" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
م
صفائی بذریعہ خوب, replaced: عیسائی ← مسیحی (4)
م (صفائی بذریعہ خوب, replaced: عیسائی ← مسیحی (4))
 
== غال پر حملہ ==
عبدالرحمن اب غال کے حدود میں داخل ہوگیا۔ وادی رہون مسلمانوں کے قدموں میں تھی۔ مخالف قوتیں خس و خاشاک کی طرح بہتی جارہی تھیں۔ معمولی سی مزاحمت کے بعد مسلمان افواج نے ارلس کے شہر پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد [[کوہ پائرینیس]] کو پار کرنے کے بعد [[بورڈیکس]] کے شہر کو سر کرتے ہوئے اسامی لشکر [[برگنڈی]] کی طرف بڑھا ۔ راستہ میں [[دریائے ڈارون]] کے کنارے ڈیوک آف ایکی ٹین نے راہ روکنے کی کوشش کی مگر منہ کی کھائی اور کثیر مالی و جانی نقصان کے بعد راہ فرار اختیار کی۔ اس زمانہ میں فرنگیوں کا بادشاہ [[تھیوڈور سوم]] تھا لیکن اصل طاقت پیرس کے میر [[چارلس مارٹل]] کے ہاتھوں میں تھی۔ غال کے قومی دفاع کا ذمہ دار درحقیقت یہی شخص تھا۔ چنانچہ [[ایکی ٹین]] کے ڈیوک نے چارلس مارشل سے امداد طلب کی ۔ غال موت و زیست کے مسئلہ سے دوچار تھا ۔ چنانچہ یورپ کے دیگر ممالک سے بھی غال کے لیے امدادی فوجیں روانہ کی گئیں۔ [[عیسائیمسیحی دنیا]] مسلمانوں کے خلاف آخری معرکہ آرائی کے لیے اب پوری طرح مستعد تھی۔ چنانچہ چارلس مارٹل اپنی افواج کے ساتھ توغ کے قریب اسلامی افواج کے مدمقابل خیمہ زن ہوا۔
 
== جنگ ==
مسلمانوں اور عیسائیوںمسیحیوں کی تعداد کا کوئی مقابلہ نہ تھا۔ علاوہ ازیں مسلمان افواج میں [[بربر]] اور [[عرب]] گروہ کے درمیان کشیدگی موجود تھی۔ [[مال غنیمت]] کی فراوانی بھی ان کی جنگ سے جی چرانے پر مجبور کر رہی تھی۔ لیکن امیر عبدالرحمن نے اپنی پر تاثیر شخصیت سے کام لے کر فوج میں نئی روح پھونک دی اور مقابلہ آرائی کے لیے تیار کیا۔ ایک ہفتہ افواج آمنے سامنے پڑی رہیں لیکن امیر سے اب ضبط نہ ہو سکا۔ بڑھ کر حملہ کر دیا صبح سے شام تک خونریز جنگ ہوئی مگر رات پھیل جانے کے سبب دوسرے دن تک ملتوی کر دی گئی مسلمان بڑی بہادری اور خوش دلی سے میدان جنگ میں اترے تھے انہیں اپنی فتح کا کامل یقین تھا سات آٹھ روز تک چھوٹی چھوٹی جھڑپیں ہوتی رہیں۔ نویں دن دونوں فوجوں کے درمیاں صبح سے شام تک بڑی خوفناک جنگ ہوئی لیکن یہ معرکہ آرائی بھی فیصلہ کن نہ تھی ۔ دسویں دن علی الصبح ہی جنگ کا آغاز کر دیا گیا دنوں اطراف سے بڑھ بڑھ کر ایک دوسرے پر حملے ہوتے رہے تلواروں کی جھنکار اور گھوڑوں کی ہنہناہٹ سے میدان جنگ میں عجیب شور محشر برپا تھا۔ مسلمانوں کا پلہ بھاری تھا اور آثار دکھائی دے رہے تھا کہ عیسائیمسیحی فوج تھک ہار کر اب میدان سے پسپا ہونے کو ہے کہ اچانک ایک شخص نے افواہ اڑا دی مسلمانوں کا مال غنیمت خطرے میں ہے۔ مال غنیمت کے چھکڑے کے چھکڑے لدے ہوئے ساتھ تھے۔ سپاہی دوڑ کر اپنے خیموں پر ٹوٹ پڑے تاکہ مال غنیمت کی حفاظت کر سکیں اس افراتفری کو روکنے کے لیے امیر عبدالرحمن نے بڑی کوشش کی لیکن بے سود ۔ عین اس وقت جب کہ وہ اپنی افواج کو منظم کرنے میں لگے ہوئے تھے ایک تیر آکر انہیں لگا اور وہ گھوڑے سے نیچے گر گئے۔ امیر کی عدم موجودگی میں فوج میں ابتری پھیل گئی اور فتح کی امید جب ایک واہمہ بنتی نظر آئی تو بڑی تیزی سے یہ لشکر رات کی تاریکی میں جنوب کی طرف سے اپنے فوجی مرکز سپٹی مینیا تک پسپا ہوگیا۔ صبح طلوع ہوئی تو میدان صاف اور خاموش پا کر عیسائیمسیحی افواج حیران و ششدر رہ گئیں انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ مسلمان فوج مال غنیمت کے انبار چھوڑ کر پسپائی اختیار کر چکی ہے۔ وہ اسے کوئی جنگی چال سمجھتے ہوئے برے حزم و احتیاط کے ساتھ میدان میں قدم رکھ رہے تھے۔ بہرحال چارلس مارشل نے تعاقب مناسب نہ سمجھا اور اپنی افواج کے ساتھ شمال کی طرف واپس چلا گیا۔
 
== اہمیت ==
[[زمرہ:خلافت امویہ کی شرکت والی لڑائیاں]]
[[زمرہ:فرانس میں اسلام]]
 
 
[[زمرہ:تاریخ ہسپانیہ]]
 
[[زمرہ:مسلم ہسپانیہ]]
[[زمرہ:خلافت امویہ]]
43,445

ترامیم

فہرست رہنمائی