"سبحان قریشی" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
5 بائٹ کا اضافہ ،  4 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
م (خودکار: خودکار درستی املا ← سے، سے، اور)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
}}
 
'''محمد سبحان قریشی''' [[پاکستان]] کے صوبہ [[خیبر پختونخوا]] سے تعلق رکھنے والے ایک [[ماہر حیاتیات]] ہیں جو [[ڈیری سائنس پارک]] کے بانی اور چیف پیٹرن ہیں۔ اس کے علاوه وه [[جامعہ زرعیہ پشاور]] میں بطور ڈین اور چارلس سٹرٹ یونیورسٹی، [[آسٹریلیا]] میں بطور ایڈجنکٹ پروفیسر بھی کام کرتے ہیں۔<ref>[http://www.aup.edu.pk/dean.php?f_id=3 Dean Faculty of Animal Husbandry & Veterinary Sciences: Prof. Dr. Muhammad Subhan Qureshi]. جامعہ زرعیہ پشاور.پشاور۔</ref>
 
==ابتدائی زندگی اور کیریئر==
قریشی ایک روایتی، فکری خاندان سے ہیں اور [[خیبر پختونخوا]] کے [[ضلع بنوں]] سے تعلق رکھتے ہیں۔بنوںہیں۔ بنوں میں اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد قریشی نے 1982ء میں [[لاہور]] کی [[یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز]] سے گریجویشن کی اور اس کے بعد [[پشاور]] میں ایک ویٹرنری آفیسر کے طور پر صوبائی لائیوسٹاک ڈیپارٹمنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ دریں اثنا، انہوں نے [[جامعہ زرعیہ فیصل آباد]] میں شمولیت اختیار کی اور جانوروں کی تخلیق نو میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کی۔
 
===ڈیری سائنس پارک کا قیام===
1998ء میں مویشیوں کے وسائل کے عادلانه استعمال پر اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالہ کی روشنی میں قریشی نے "وزیراعلیٰ لائیوسٹاک ترقیاتی منصوبہ" صوبائی وزیر اعلیٰ سردار [[مہتاب احمد خان عباسی]] کی نصیحت پر تیار کی۔بعدکی۔ بعد ازاں 2003ء میں قریشی کا منصوبہ وزیر اعلیٰ [[اکرم خان درانی]] کی طرف سے بھی منظور کیا گیا۔<ref>{{cite web |url=http://www.pakissan.com/english/allabout/livestock/chief.minister.nwfp.shtml |title=Chief Minister NWFP approved Livestock plan |publisher=پاکسان.کوم}}</ref> 2005ء میں قریشی نے ایک مکمل پروفیسر کے طور پر [[جامعہ زرعیہ پشاور]] میں شمولیت اختیار کی اور انہیں فیکلٹی آف اینیمل ہسبینڈری اینڈ ویٹرنری سائنسز کے ڈین کی حیثیت سے ترقی دی گئی.گئی۔ انہوں نے پاک آسٹریلیا ڈیری منصوبے میں ڈیری ماہر کے طور پر کردار ادا کیا.کیا۔ انہوں نے چارلس سٹرٹ یونیورسٹی، واگا واگا، [[آسٹریلیا]] میں پہلے وزٹنگ پروفیسر اور پھر ایڈجنکٹ پروفیسر کے طور پربھی کام کیا۔ بزنس انکیوبیشن تصورات کو متعارف کرانے کے لیے قریشی نے ڈیری سائنس پارک پر کانفرنسوں کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ اس سلسلے میں تین بین الاقوامی ورکشاپس جامعہ زرعیہ پشاور میں 2011ء، 2013ء اور 2015ء میں منعقد ہوئیں جن میں سے ہر ایک میں تعلیمی اداروں، کاروباری اور کاشت کار برادری اور علاقائی ممالک کی ترقیاتی اور سرکاری تنظیموں سے تعلق رکهنے والے 500 سے زائد شرکاء نے شرکت کی۔<ref name="brecorder">{{cite web |url=http://www.brecorder.com/agriculture-a-allied/183:pakistan/1239487:workshop-on-dairy-science-park/ |title=Workshop on Dairy Science Park |publisher=[[بزنس ریکارڈر]] }}</ref><ref>{{cite web |url=http://www.aup.edu.pk/dairy-science-park.php |title=Dairy Science Park |publisher= جامعہ زرعیہ پشاور }}</ref><ref>{{cite web |url=http://epaper.thefrontierpost.com/article/352281/ |title=Minister to open workshop on Dairy Science Park |publisher=[[دی فرنٹیئر پوسٹ]] }}</ref><ref>{{cite web |url=http://www.brecorder.com/agriculture-a-allied/183:pakistan/1251151:two-day-global-moot-on-dairy-science-park-held-at-aup/ |title=Two-day global moot on 'dairy science park' held at AUP |publisher=بزنس ریکارڈر }}</ref>
 
==مطبوعات==

فہرست رہنمائی