تبدیلیاں

Jump to navigation Jump to search
م
خودکار درستی+ترتیب (9.7)
| subject =
| movement =
| notableworks = تصوراتِ اقبال<br />امریکہ کا سیاسی نظام <br />اُردو میں افسانوی ادب<br />کششِ ثقل
| influences =
| influenced =
 
== حالات زندگی ==
صلاح الدین احمد 25 مارچ، 1902ء کو لاہور، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے<ref name="پاکستان کرونیکل">[[عقیل عباس جعفری]]: [[پاکستان کرونیکل]]، ص 230، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء</ref><ref name="bio-bibliography.com">[http://www.bio-bibliography.com/authors/view/7348 مولانا صلاح الدین احمد، ''سوانح و تصانیف ویب''، پاکستان]</ref>۔ ابتدا ہی سے انہیں ادبی صحافت کا بڑا اچھا ذوق تھا۔ زمانہ طالب علمی میں انہوں نے ایک وقیع اردو رسالہ خیالستان جاری کیا۔ پھر [[1934ء]] میں انہوں نے اردو کا ایک انتہائی اہم جریدہ [[ادبی دنیا (جریدہ)|ادبی دنیا]] کی ادارت سنبھالی۔ وہ '''اردو بولو، اردو لکھو، اردو پڑھو''' کی تحریک کے سرخیل تھے، اسی وجہ سے انہیں پنجاب کا بابائے اردو کہا جاتا ہے۔<ref name="پاکستان کرونیکل"/>
 
== اردو کے لیے خدمات ==
 
زمانی لحاظ سے اُن کی خدمات کا پہلا عرصہ [[قیام پاکستان]] تک کا ہے جب کہ اُردو اور ہندی کا تنازع اُسی طرح عروج پر تھا جیسا کہ [[ہندوستان]] کی دو بڑی اقوام کے مابین مذہب کا جھگڑا۔ اگرچہ یہ لسانی مناقشہ قطعی طور پر مصنوعی تھا اور اُس زبان کے خلاف ایک محاذ تھا جو عوام میں رائج اور مقبول تھی۔ اُس وقت کی ہندوقیادت کا یہ خیال تھا : '''اُردو کا مستقبل مسلمانوں کے فرقے کا نجی معاملہ ہے اور اگر وہ اِسی زبان میں لکھنا پڑھنا چاہیں تو اُن پر کوئی پابندی مناسب نہ ہو گی۔ البتہ قومی سطح پر فوقیت ہندی یا ہندوستانی کو حاصل ہو گی۔'''
یہی وہ نقطۂ نظر تھا جس کے باعث اُردو کے قومی سطح پر فروغ یا نفاذ کے خلاف سرگرمیاں شروع ہوئیں اورہر سطح پر اُردو کے فروغ کا راستہ روکا گیا۔ ہندی نواز طبقہ اُردو دُشمنی میں ہر نوع کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ اُردو کے خلاف جلسے بھی منعقد کیے جانے لگے اور قراردادیں بھی پاس ہونے لگیں۔ الغرض کوئی موقع ضائع نہ کیا گیا۔ جون [[1945ء]] میں [[پنجاب ساہتیہ منڈل]] کا ایک جلسہ زیرِصدارت بہاری لال چاننہ منعقد ہوا جس میں یہ قرارداد پاس کی گئی: ''چونکہ ریڈیو کی زبان [[عربی زبان|عربی]] اور [[فارسی زبان|فارسی]] الفاظ کی کثرت کے باعث حدِ درجہ ناقابلِ فہم ہے، اِسی لیے اِس محکمے کے عملے میں فوری تبدیلیاں کی جائیں اور پچھتّر فی صد اسامیاں ایسے لوگوں سے پُر کی جائیں جو ہندی دان طبقے کے نمائندے ہوں اور جو زبان کے معاملے میں ہم سے انصاف کر سکیں۔''
اُردو کے خلاف اِس محاذ کے باعث یہ ضروری سمجھا گیا کہ اِس لسانی مناقشے میں بھرپور دفاعی پالیسی اپنائی جائے۔ چنانچہ اُردو کے تحفظ کے لیے تمام مسلمانانِ ہند اور اُن کی نمائندہ جماعتیں ایک ہو گئیں اور اُسی شدومد کے ساتھ اُردو دفاع کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا، جس قدر کہ جارحیت تھی۔ بقول ڈاکٹر [[فرمان فتح پوری]]: {{اقتباس|مسلم لیگ، [[محمڈن ایجوکیشن کانفرنس|مسلم ایجوکیشنل کانفرنس]]، [[خلافت کمیٹی]] اور [[انجمن ترقی اردو|انجمن ترقی اُردو]]نے اُردو کو برصغیر کے مسلمانوں کی ثقافتی رگ سمجھ کر اُس کو بچانے کی کوشش کی۔ [[آل انڈیا مسلم لیگ|مسلم لیگ]] نے سیاسی سطح پر اُردو کا دفاع کیا اور اپنے مطالبات میں اُردو کی حفاظت کو بھی شروع ہی سے پیشِ نظر رکھا۔}}
مولانا صلاح الدین احمدنے اِس صورتِ حال میں جو کردار ادا کیا وہ کسی جہاد سے کم نہیں۔ اُردو کو اپنے ایمان کا حصہ بناتے ہوئے اُردو کے فروغ اور اُس کے خلاف کارروائیوں کے سدِّ باب کے لیے تن، من اور دھن کی بازی لگا دی۔ اِسی سلسلے میں انہوں نے جو نمایاں اقدامات کیے،وہ یہ ہیں:
# جریدے ادبی دنیا کے اداریوں میں فروغ و دفاعِ اُردو کو مستقل اہمیت دی۔
# ادبی دنیا میں اپنے تنقیدی شذرات میں اُردو کے دفاع کے لیے بطورِ خاص لکھا۔
# ادبی دنیا میں اُردو کے حق میں اور ہندوستان کی لسانی صورتِ حال پر مضامین لکھوائے اور شائع کیے۔
# '''اُردو بولو تحریک''' شروع کی اور اِس کے لیے مختلف سلوگنز بنائے۔ (اِس کی تفصیل آگے آئے گی۔)
# ''' پنجاب اُردو کانفرنس''' کی بنا ڈالی۔
# اُردو یونیورسٹیوں کے قیام کی تجویز پیش کی اور اِن کی عملی شکل کے لیے جدوجہد کی۔
# '''مجلسِ تعمیرِ جامعہ اُردو'''تشکیل دی، جس کا ایک اہم شعبہ '''دارالتحقیق علم و ادب''' قرار پایا۔
{{اقتباس|آپ کی تحریک، اُردو بولو، نہایت قابلِ قدراور لائقِ عمل ہے۔ یوں تو [[پنجاب، پاکستان|پنجاب]] میں اور خاص کر لاہور میں بہت سی انجمنیں اور بزمیں ہیں اور کام بھی کرتی ہیں لیکن اِن سب کے کام مِلا کر بھی اِس تحریک کو نہیں پہنچتے۔ یہ بنیادی کام ہے۔ اِس وقت تو شاید لوگ اِسے زیادہ اہمیت نہ دیں لیکن ایک ایسا وقت آئے گا جب اِس کے حیرت انگیز نتائج کا قائل ہونا پڑے گا۔ اِس کی کامیابی پر ہمارے بہت سے مسائل کی کامیابی کا انحصار ہے۔<ref name="nlpd.gov.pk"/>}}
 
=== اکادمی پنجاب کی بنیاد ===
اُردو کے فروغ اور نفاذ کے لیے ''اُردوبولوتحریک'' کے علاوہ مولانا صلاح الدین احمد نے اپنے وسائل سے '''اکادمی پنجاب''' کی بنیاد رکھی۔ اِس سلسلے میں اُن کو [[فقیر سید وحید الدین]]،اے ڈی اظہر اور [[وزیر آغا|ڈاکٹر وزیرآغا]] کا تعاون حاصل تھا۔ اِس اکادمی کے مقاصد میں اُردو زبان و ادب کی نشوونما کے لیے متنوع جہتوں میں کام کرنا تھا۔ '''اکادمی پنجاب''' کے مقاصد کا تعین کرتے ہوئے [[ڈاکٹر انور سدید]] نے درج ذیل پانچ نکات پیش کیے ہیں:
# قومی زبان کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنا۔
== مولانا صلاح الدین احمد کے فن و شخصیت پر کتب ==
* مولانا صلاح الدین احمد : شخصیت اور فن، [[ڈاکٹر انور سدید]]، [[اکادمی ادبیات پاکستان]]، [[2007ء]]
* مولانا صلاح الدین احمد، ڈاکٹر طارق ہاشمی، [[مقتدرہ قومی زبان]]، اسلام آباد
 
== مولانا صلاح الدین احمد کے فن و شخصیت پر تحقیقی ==
 
== وفات ==
صلاح الدین احمد 14 جون، 1964ء کو [[ساہیوال]]، پاکستان میں وفات پا گئے اور لاہور میں [[میانی صاحب قبرستان]] میں سپرد خاک ہوئے۔<ref name="پاکستان کرونیکل"/><ref name="bio-bibliography.com"/>
<ref name="bio-bibliography.com"/>
 
== مزید دیکھیے ==
{{حوالہ جات}}
 
[[زمرہ:1964ء کی وفیات]]
[[زمرہ:1902ء کی پیدائشیں]]
[[زمرہ:پاکستانی1964ء مسلمکی شخصیاتوفیات]]
[[زمرہ:پاکستانیاردو کالم نگارصحافی]]
[[زمرہ:اردو کالم نگار]]
[[زمرہ:پاکستانی جریدہ مدیران]]
[[زمرہ:پاکستانی کالم نگار]]
[[زمرہ:پاکستانی مترجمین]]
[[زمرہ:اردوپاکستانی صحافیمسلم شخصیات]]
[[زمرہ:شخصیات برائے تحقیقی مقالات]]
[[زمرہ:لاہور کے صحافی]]
[[زمرہ:پاکستانی جریدہ مدیران]]
[[زمرہ:ماہرین اقبالیات]]
[[زمرہ:شخصیات برائے تحقیقی مقالات]]

فہرست رہنمائی