"کفر" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
37 بائٹ کا ازالہ ،  2 سال پہلے
م
خودکار درستی+ترتیب+صفائی (9.7)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
م (خودکار درستی+ترتیب+صفائی (9.7))
 
قرآن شریف میں یہ لفظ چندمعنوں میں استعمال ہواہے ناشکری،انکار، اسلام سے نکل جانا۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :
# لَئِنۡ شَکَرْتُمْ لَاَزِیۡدَنَّکُمْ وَلَئِنۡ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ ﴿۷﴾﴿7﴾
 
'''اگر تم شکر کرو گے تو تم کو اور زیادہ دیں گے اور اگر تم ناشکری کرو گے تو ہمارا عذاب سخت ہے'''<ref>(پ13،ابرٰہیم:7)</ref>
# وَاشْکُرُوۡا لِیۡ وَلَا تَکْفُرُوۡنِ ﴿۱۵۲﴾﴿152﴾
 
'''میرا شکر کرونا شکری نہ کرو'''<ref>(پ2،البقرۃ:152)</ref>
# وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَکَ الَّتِیۡ فَعَلْتَ وَ اَنۡتَ مِنَ الْکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۹﴾﴿19﴾
 
'''فرعون نے موسی علیہ السلام سے کہا کہ تم نے اپنا وہ کام کیا جو کیا اور تم ناشکر ے تھے'''<ref>(پ19،الشعرآء:19)</ref>
# یَکْفُرُ بَعْضُکُمْ بِبَعْضٍ وَّیَلْعَنُ بَعْضُکُمْ بَعْضًا
 
'''اس دن تمہارے بعض بعض کا انکار کریں گے اور بعض بعض پر لعنت کریں گے''' ۔<ref>(پ۲۰،عنکبوتپ20،عنکبوت:۲۵25)</ref>
# وَّ کَانُوۡا بِعِبَادَتِہِمْ کٰفِرِیۡنَ ﴿۶﴾﴿6﴾
 
'''یہ معبود ان باطلہ ان کی عبادت کے انکاری ہوجاویں گے۔'''<ref>(پ26،الاحقاف:6)</ref>
 
ان تمام آیات میں کفر بمعنی انکار ہے نہ کہ اسلام سے پھر جانا۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :
# قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ ۙ﴿۱﴾لَاۤۙ﴿1﴾لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوۡنَ ۙ﴿۲﴾ۙ﴿2﴾
 
'''فرمادو کافر و میں تمہارے معبودوں کو نہیں پوجتا۔'''<ref>(پ30الکٰفرون:1۔2)</ref>
 
'''پس وہ کافر (نمرود )حیران رہ گیا'''۔<ref>(پ3،البقرۃ:258)</ref>
# وَالْکٰفِرُوۡنَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۵۴﴾﴿254﴾
 
'''اور کافر لوگ ظالم ہیں''' ۔<ref>(پ3،البقرۃ:254)</ref>
ان جیسی اور بہت سی آیات میں کفر ایمان کا مقابل ہے جس کے معنی ہیں بے ایمان ہوجانا، اسلام سے نکل جانا۔ اس کفر میں ایمان کے مقابل تمام چیزیں معتبر ہوں گی یعنی جن چیزوں کا ماننا ایمان تھا ان میں سے کسی کا بھی انکار کرنا کفر ہے۔ لہٰذا کفر کی صدہا قسمیں ہوں گی۔ خدا کا انکار کفر، اس کی تو حید کا انکا ر یعنی شرک یہ بھی کفر، اسی طر ح فرشتے،دوزخ وجنت، حشر نشر، نماز، روزہ،قرآن کی آیتیں،غرض کہ ضروریات دین میں سے کسی ایک کا انکار کفر ہے۔ اسی لیے قرآن شریف میں مختلف قسم کے کافروں کی تردید فرمائی گئی ہے جیسا کہ ان شاء اللہ تعالیٰ شرک کی بحث میں آوے گا۔
 
== حقیقتِ کفر ==
 
جیسے کہ صدہاچیزوں کے ماننے کا نام ایمان تھا لیکن ان سب کا مدار صرف ایک چیز پر تھا یعنی پیغمبر کوماننا کہ جس نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو کما حقہ مان لیا۔ اس نے سب کچھ مان لیا۔ اسی طر ح کفر کا مدار صرف ایک چیز پر ہے یعنی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کاانکار، ان کی عظمت کا انکار، ان کی شان اعلی کا انکار، اصل کفر تو یہ ہے باقی تمام اس کی شاخیں ہیں مثلا جورب کی ذات یا صفات کاانکار کرتا ہے وہ بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا منکر ہے کہ حضور نے فرمایا : اللہ ایک ہے۔ یہ کہتا ہے کہ دو ہیں۔ اسی طر ح نماز، رو زہ وغیرہ کسی ایک کا انکار درحقیقت حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کاانکار ہے کہ وہ سر کار فرماتے ہیں کہ یہ چیزیں فرض ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ نہیں۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ادنی توہین ،ان کی کسی شے کی توہین، قرآنی فتوے سے کفر ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :
# وَیَقُوۡلُوۡنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَکْفُرُ بِبَعْضٍ ۙ وَّیُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا ﴿۱۵۰﴾ۙ﴿150﴾ۙ ۙاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوۡنَ حَقًّاحَقًا
 
'''اور وہ کفار کہتے ہیں کہ ہم پیغمبر وں پر ایمان لائینگے اور بعض کا انکار کریں گے اور چاہتے ہیں کہ ایمان وکفر کے بیچ میں کوئی راہ نکالیں یہی لوگ یقینا کا فر ہیں'''(<ref>پ6،النسآء:150۔151)</ref>
# وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۰۴﴾﴿104﴾
 
'''کافروں ہی کے لیے درد ناک عذاب ہے۔'''<ref>(پ1،البقرۃ:104)</ref>
# وَالَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ رَسُوۡلَ اللہِ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۶۱﴾﴿61﴾
 
'''اور جو لوگ رسول اللہ کو ایذا دیتے ہیں ان ہی کے لیے دردناک عذاب ہے ۔'''<ref>(پ10،التوبۃ:61)</ref>
یعنی صرف کافر کو دردناک عذاب ہے اور صرف اسے درد ناک عذاب ہے جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ایذا دے۔ لہٰذا پتا لگا کہ صرف وہ ہی کافر ہے جو رسول کو ایذادے اور جو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت واحترام، خدمت، اطاعت کرے وہ سچا مومن ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :
 
وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَہَاجَرُوۡا وَجٰہَدُوۡا فِی سَبِیۡلِ اللہِ وَالَّذِیۡنَ اٰوَوۡا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوۡنَ حَقًّاحَقًا ؕ لَہُمۡ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیۡمٌ ﴿۷۴﴾﴿74﴾
 
'''اورجوایمان لائے اورانہوں نے ہجرت کی اوراللہ کی راہ میں جہادکیااوروہ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ سچے مسلمان ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی ۔'''<ref>(پ10،الانفال:74)</ref>
رب تعالیٰ فرماتا ہے :
 
اَلَمْ یَعْلَمُوۡۤا اَنَّہٗ مَنۡ یُّحَادِدِ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ فَاَنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خَالِدًا فِیۡہَا ؕ ذٰلِکَ الْخِزْیُ الْعَظِیۡمُ ﴿۶۳﴾﴿63﴾
 
'''کیا انہیں خبر نہیں کہ جو مخالفت کرے اللہ اور اس کے رسول کی تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے ہمیشہ اس میں رہے گا۔ یہ بڑی رسوائی ہے ۔'''
اسی لیے حضو رصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی آواز پر اونچی آواز کرنے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ادنیٰ گستاخی کرنے کو قرآن نے کفر قرار دیا جس کی آیات ایمان کی بحث میں گز ر چکیں۔ شیطان کے پاس عبادات کافی تھیں مگر جب اس نے آدم علیہ السلام کے متعلق کہا کہ
 
قَالَ اَنَا خَیۡرٌ مِّنْہُ ؕ خَلَقْتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ ﴿۷۶﴾قَالَ﴿76﴾قَالَ فَاخْرُجْ مِنْہَا فَاِنَّکَ رَجِیۡمٌ ﴿۷۷﴾﴿77﴾
 
'''میں ان سے اچھا ہوں کہ تو نے مجھے آگ سے اور انہیں مٹی سے پیدا کیا رب نے فرمایا یہاں سے نکل جا تو مردود ہو گیا۔''' <ref>(پ23،ص:76۔77)</ref>
تو فورا کافر ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام کے جادو گر وں نے موسیٰ علیہ السلام کا ادب کیا کہ جادو کرنے سے پہلے عرض کیا
 
قَالُوۡا یٰمُوۡسٰۤی اِمَّاۤ اَنۡ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنۡ نَّکُوۡنَ نَحْنُ الْمُلْقِیۡنَ ﴿۱۱۵﴾﴿115﴾
 
'''عرض کیا کہ اے موسی یا پہلے آپ ڈالیں یا ہم ڈالنے والے ہوں ۔'''<ref>(پ9،الاعراف:115)</ref>
اس اجازت لینے کے ادب کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں ایک دن میں ایمان ،کلیم اللہ کی صحابیت، تقویٰ، صبر، شہادت نصیب ہوئی۔ رب نے فرمایا :
 
فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیۡنَ ﴿ۙ۴۶﴾﴿ۙ46﴾
 
'''جادو گر سجدے میں گرادیئے گئے ۔'''<ref>(پ19،الشعرآء:46)</ref>
 
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات|2}}
 
[[زمرہ:اسلام اور دیگر مذاہب]]
[[زمرہ:اسلامی عقائد اور اصول]]
[[زمرہ:مذہبی اصطلاحات]]
[[زمرہ:عقائد]]
[[زمرہ:اسلام متعلقہ کلنک]]
[[زمرہ:اسلامی اصطلاحات]]
[[زمرہ:اسلامی عقائد اور اصول]]
[[زمرہ:عقائد]]
[[زمرہ:مذہبی اصطلاحات]]

فہرست رہنمائی