"راج کپور" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
75 بائٹ کا اضافہ ،  3 سال پہلے
م
(←‏برسات: املا)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
’برسات‘ سے راج کپور کی زندگی میں ایک اور شروعات بھی ہوئی۔ اُن کی نرگس کے ساتھ ایک کامیاب سکرین جوڑی بنی۔ اور اِسی دوران راج کپور نرگس کے کافی قریب آ گئے جس وجہ سے دونوں نرگس اور راج کپور کو کئی سال تک کافی ذہنی تناؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
 
راج کپور پہلے سے ہی کرشنا کپور سے شادی شدہ تھے اور یہ تناؤ کچھ اِس قدر بڑھ گیا کہ راج کپور کے کہنے پر نرگس نے کے آصف کی ’مغل اعظم‘ میں [[انار کلی]] کے رول سے اِنکار کر دیا تھا۔
 
اِنہی دنوں [[مشرقی بنگال]] سے آئے ہوئے کیمرامین رادھو کرماکر نے آر کے پروڈکشنس میں کام شروع کیااِور تبھی اُن کے ہاتھ لگا کے عباس کا [[محبوب خان]] کے لیے لکھا گیا سکرپٹ۔
 
یہ فلم ’آوارہ‘ کا سکرپٹ تھا ’آوارہ‘ بہت بڑی ہٹ ثابت ہوئی اور اِس فلم نے راج کپور کو [[چارلی چیپلن]] سے مماثلت رکھتی ہوئی ایک نئی شخصیت دے دی۔ اِسی پرسونا کو اُنہوں نے ’شری 420‘ اور ’جس دیش میں گنگا بہتی ہے‘ جیسی فلموں کے لیے اِستعمال کیا۔
 
اِسی دوران اِن کی تین اور فلمیں ریلیز ہوییں جو تھی ’بوٹ پالش‘، ’اب دلی دور نہیں‘ اور ’جاگتے رہو‘۔ تینوں فلمیں زیادہ کامیاب نہ رہیں۔ ’اب دلی دور نہیں‘ اُن کے کیریر کی سب سے کمزور فلم تھی۔ ناکامی کے اِس مختصر دور کے بارے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اِسی دور میں نرگس اور راج کپورعلیحدہ ہو گئے تھے اور نرگس نے [[سنیل دت]] کے ساتھ شادی کر لی۔
 
یہ دور راج کپور کے لیے کافی مشکل تھا جو آخر کار ’جس دیش میں گنگا بہتی ہے‘ کے ساتھ ختم ہوا- اِس فلم میں اُنہوں نے ساوتھ اِنڈیا کی ایک مشہور اداکارا پدمنی کو ہیروین لیا۔ اُن کی اگلی فلم ’سنگم‘ میں بھی راج کپور نے ساوتھ کی اداکارا ویجنتی مالا کو کاسٹ کیا۔ یہ فلم ’انداز‘ سے کافی ملتی جُلتی تھی اور باکس آفس پہ بڑی ہٹ رہی۔
 
لیکن اِس فلم کے لیے پہلے [[دلیپ کمار]] کو راجندر کمار کا رول آفر کیا گیا۔ اگر دلیپ کمار نے یہ آفر تسلیم کر لیا ہوتا تو شائد ’سنگم‘ ایک اُتنی ہی بڑی اور یاد گار فلم ثابت ہوتی جتنی کہ ’انداز‘- لیکن دلیپ کمار کا فیصلہ شائد غلط نہ تھا کیوں کہ ’سنگم‘ میں وہ راج کپور کے ساتھ پردے پر نظر تو آتے مگر کیسے یہ تو بحیثیت ڈایریکٹرخود راج کپور کے ہی ہاتھ میں تھا۔ ویسے بھی دلیپ کمار کو جوبھی ثابت کرنا تھا وہ ’انداز‘ فلم میں کر چکے تھے۔
 
’جس دیش میں گنگا بہتی ہے‘ اور ’سنگم‘ کی شوٹنگ کے دوران راج کپور کا نام اُن کی ہیروئینوں سے پھر جوڑا گیا اور بات یہاں تک پہنچی کہ اِن فلموں کے مکمل ہوتے ہی پدمنی اور وے جینتی مالا کی اُن کے گھر والوں نے شادی کرا دی۔
میں چھ سال تک بننے والی اپنی پسندیدہ فلم ’میرا نام جوکر‘ کے فلاپ ہونے پر بہت دل برداشتہ رہے لیکن انہوں نے اس تکلیف دہ ناکامی کی راکھ سے اٹھ کر پھرکامیاب فلمیں بنانا سیکھا۔
 
انہوں نے میرا نام ہے جوکر کے بعد مقبول اداکارہ [[ڈمپل کپاڈیا]] کو اپنی فلم ’بوبی‘ میں متعارف کرایا جس کے بعد [[زینت امان]] کی ’ستیم، شوم، سندرم‘ اور دیویا رانا کی’رام تیری گنگا میلی ہو گئی` جیسی فلمیں بنائیں۔ گو اس میں کوئی شک نہیں کہ ان فلموں کی ہیروئنیں حالات کی شکار عورتوں کے کردار میں آئیں لیکن ان فلموں پر ہیروئنوں کے بدن کی نمائش کا الزام بھی لگتا رہا ہے۔
 
’حنا‘ راج کپور کی آخری فلم تھی لیکن اِس کا ذمہ وہ اپنے بڑے بیٹے رندھیر کپور کو سونپ چکے تھے- ویسے بھی زیبا بختیار کے ساتھ بنائی گئی آر کے پروڈکشنس کی اِس فلم سے اُمید کم ہی تھی لیکن یہ فلم بھی کافی چلی۔
ان کا عہد جو دلیپ کمار کی المیہ اداکاری کے سائے میں گھرا رہا، اس میں راج کپور حقیقتاً ایک جوکر ہی کی طرح لوگوں کے لیے مسکراہٹیں تخلیق کرتے تھے تاہم انکا آنسو چھپانے کا فن انہیں دلیپ کمار سے کہیں زیادہ المیہ اور بہادر کردار کا درجہ ادا کر گیا۔
 
دو مئی سن انیس سو اٹھاسی کی رات راج کپور ہندوستانی فلموں میں اپنی گراں مایہ خدمات کے لیے داد صاحب پھلکے ایوارڈ لینے کے لیے آئے لیکن دمے کے ایک اچانک دورے کے سبب سٹیج پر آکر اپنا ایوارڈ وصول نہ کرسکے۔ اس سے ٹھیک ایک مہینے بعد وہ [[دل کا دورہ]] پڑنے سے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
 
== حوالہ جات ==
[[زمرہ:ہندی زبان کے فلم ہدایت کار]]
[[زمرہ:ہندی سنیما کے مرد اداکار]]
[[زمرہ:خودکار ویکائی]]

فہرست رہنمائی