"ولی رحمانی" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
2,047 بائٹ کا ازالہ ،  1 سال پہلے
غیر ویکی اسلوب
(1 مآخذ کو بحال کرکے 0 پر مردہ ربط کا ٹیگ لگایا گیا) #IABot (v2.0.8)
(غیر ویکی اسلوب)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
 
انہوں نے 1974ء سے 1996ء تک بہار قانون ساز کونسل کے ارکان کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ اپنے والد ماجد حضرت مولانا [[منت اللہ رحمانی]] رحمۃ اللہ علیہ کی وفات 1991 کے بعد سے [[خانقاہ رحمانی]] مونگیر کے موجودہ [[سجادہ نشین]] اور [[جامعہ رحمانی]] مونگیر کے سرپرست ہیں، آپ کے دادا مولانا [[محمد علی مونگیری]] بانی ندوۃ العلماء ہیں۔ اس خانقاہ کے روحانی سلسلہ میں [[فضل الرحمن گنج مراد آبادی|شاہ فضل الرحمن گنج مرادآبادی]] بہت ہی اہم کڑی ہیں۔ وہ اس وقت [[آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ]] کے جنرل سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے [[بھارت|ہیں]]۔ وہ رحمانی 30 کے بانی بھی ہیں، وہ پلیٹ فارم جہاں عصری تعلیم کے متعدد شعبوں میں معیاری اعلیٰ تعلیم و قومی [[مقابلاجاتی امتحانات]] کے لیے طلبہ کو تیار کیا جاتا ہے۔ <ref>{{حوالہ ویب|url=http://news.bbc.co.uk/2/hi/south_asia/8550548.stm|title=BBC Report on Rahmani30|language=en-US|accessdate=2020-04-16}}</ref> اس ادارے سے ہر سال NEET اور JEE میں 100 سے زائد طلبہ منتخب ہوتے ہیں۔ حضرت مولانا سید ولی رحمانی عوامی تقریر، اپنی شخصیت و ملی مسائل میں جرأت صاف گویئ و بےباکی اور دونوں ہی شعبوں میں تعلیم کے لیے مشہور ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کسی کو ایک وقت میں دونوں طرح کی تعلیم حاصل کرنی چاہیے اور کسی بھی چیز سے پہلے انسان کو انسان ہی ہونا چاہیے۔ شاہ عمران حسن نے مولانا ولی رحمانی کی سوانح عمری ''حیات ولی'' (حیات ولی) لکھا ہے۔<ref>{{حوالہ ویب|url=http://www.milligazette.com/news/13591-maulana-muhammad-wali-rahmani|title=The Milli Gazette|first=The Milli Gazette, OPI, Pharos|last=Media|website=milligazette.com|date=4 اپریل 2016}}</ref><ref>http://www.milligazette.com/news/15250-life-and-work-of-maulana-mohammad-wali-rahmani</ref>
 
حضرت مولانا ولی رحمانی صاحب کے انتقال کا مطلب ایک دور کا خاتمہ ہے۔ ایک ایسے دور کا خاتمہ جس میں مولانا مرحوم جیسی شخصیات حق کو حق کہتی، باطل کو باطل مانتی اور سچ کو سچ بتاتی تھیں۔ جب فرقہ پرست اقتدار پر مکمل طور پر قابض ہوں اور نظام ان افراد کے ہاتھوں میں ہو جو اپنے دلوں میں دوسروں کے لیے سوائے نفرت کے اور کوئی جذبہ نہیں رکھتے، تب حق کی آواز اٹھانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے، لیکن مولانا مرحوم ناممکن کو ممکن بنانا خوب جانتے تھے۔ وہ وہی بولتے تھے جسے درست اور سچ سمجھتے تھے۔ [https://www.ajkiduniya99.in/2021/04/mualana-wali-rahmani-ek-bebak-qayed-hayat-khidmat.html حضرت مولانا ولی رحمانی کا انتقال] اس معنیٰ میں کہ وہ ہمارے درمیان میں نہیں رہے، اتنا افسوس ناک نہیں ہے کہ ہر ایک کی موت کا ایک دن مقرر ہے، یہ زیادہ افسوس ناک اس معنیٰ میں ہے کہ مولانا مرحوم نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے جو سرگرمیاں شروع کی تھیں اور بورڈ کو، معاملہ چاہے شریعت پر حملے کا رہا ہو یا بابری مسجد کی شہادت اور قرآن مجید کی توہین کا، انہوں نے جس طرح فعال کیا تھا، اس میں جو روح پھونکی تھی، وہ کہیں سرد نہ پڑ جائے۔ یہ خدشہ ہے، <ref>{{Cite web|url=https://www.ajkiduniya99.in/2021/04/mualana-wali-rahmani-ek-bebak-qayed-hayat-khidmat.html|title=مولانا محمد ولی رحمانی ایک بے باک مرد مجاہد اور ملت کے بے لوث قائد تھے|website=Aj ki Duniya Urdu}}</ref>
 
== حوالہ جات ==
114

ترامیم

فہرست رہنمائی