"رافع بن مالک" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
534 بائٹ کا اضافہ ،  4 مہینے پہلے
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
اسلام قبول کرکے پلٹے تو مدینہ میں نہایت سرگرمی سے اشاعتِ اسلام کی خدمت انجام دی،مصنف اسد الغابہ لکھتے ہیں:
فلما قدموا المدينة ذكروا لقومهم الإسلام ودعوهم إليه، فشفا فيهم، فلم تبق دار من دور الأنصار إلا وفيها ذكر من رسول الله صلى الله عليه وسلم
== <ref>(اسد الغابہ،باب رافع بن مالک بن العجلان:۱/۳۵۲)</ref> یعنی جب یہ لوگ مدینہ آئے اور اپنی قوم میں اسلام کا چرچا کیا تو اس کی دعوت دی تو اسلام تمام انصار میں پھیل گیا اب کوئی گھر نہ تھا جہاں رسول اللہ ﷺ کا ذکر خیر نہ ہوتا ==ہو۔
دوسرے سال حضرت رافع ۱۲ ، آدمیوں کے ساتھ اور تیسرے سال ۷۰ آدمیوں کے ساتھ مکہ گئے اور اس اخیر بیعت میں بنو زریق کے نقیب منتخب ہوئے۔
== غزوات ==
رافع کی اسلامی زندگی کے دوران میں صرف دو لڑائیاں پیش آئیں، بدر اوراحد، بدر میں ان کی شرکت مشکوک ہے،ابن اسحاق نے ان کو اصحاب بدر میں شمار نہیں کیاہے اور موسیٰ بن عقبہ نے امام بن شہاب زہری سے نقل کیا ہے کہ وہ شریک تھے،اس باب میں بہترین حکم خود ان کا قول ہو سکتا ہے، بخاری کی جو عبارت ہے کہ "مجھے یہ خوش نہیں آتا کہ عقبہ کے مقابلہ میں میں بدر میں شریک ہوتا "اس قول سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شریک بدر نہ تھے۔

فہرست رہنمائی