"زید بن ثابت" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
1,107 بائٹ کا اضافہ ،  4 مہینے پہلے
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م (خودکار: درستی املا ← بنا، کیے، 0، ہو گئی، 3، 2، 4، ہو گیا، 1، 5، 6، امرا، 7، 8، لیے، کر دیا)
== مجلس شوریٰ کی رکنیت ==
حضرت ابوبکرؓ کے عہد میں انصار ومہاجرین کے ممتاز اصحاب کی جو مجلسِ شوریٰ تھی،حضرت زیدؓ بھی اس کے ایک رکن تھے، حضرت عمرؓ نے اپنے عہدِ خلافت میں اسی جماعت کو باضابطہ کونسل قراردیا تھا،حضرت زیدؓ اس کے بھی ممبر تھے۔
== امارتتقسیم مدینہمال منورہغنیمت ==
ایمان کے ۷۰ سے اوپر شعبے اورشاخیں ہیں،امانت،ایمان کا ایک ضروری جز ء ہے؛ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
حضرت زیدؓ میں علمی و دینی کمالات کے ساتھ انتظامی قابلیت بھی تھی اوران پر اتنا اعتماد تھا کہ حضرت عمرؓ نے جب مدینہ سے سفر کیا تو اپنا جانشین انہی کو مقرر کیا،حضرت عثمانؓ کا بھی یہی طرز عمل رہا، وہ جب حج کو مکہ معظمہ روانہ ہوتے تو زیدؓ کو کاروبار خلافت سپرد کرجاتے تھے۔
لا ایمان لمن لا امانۃ لہ
خلافت فاروقی میں زیدؓ کو تین مرتبہ حضرت عمرؓ کی ہم نشینی کا فخر حاصل ہوا۔
جس میں امانت نہیں اس میں ایمان بھی نہیں۔
16 ھ اور 17ھ میں دو مرتبہ حضرت عمرؓ کے حج کے موقع پر تیسری مرتبہ ان کے شام کے سفر کے زمانہ میں شام پہنچ کر زیدؓ کو آپ نے جب خط لکھا تو اس میں زید کا نام اپنے نام سے پہلے تحریر کیا یعنی "الی زید بن ثابت من عمر بن الخطاب" ہر دفعہ حضرت زیدؓ نے خلافت کی ذمہ داریوں کو نہایت ہوشیاری اور مستعدی سے انجام دیا، حضرت عمرؓ ان کے انتظام سےبہت خوش ہوتے اور واپس آکر ان کو کچھ جاگیر دیاکرتے تھے۔
آنحضرتﷺ کے عہدِ مبارک میں جو مال غنیمت آتا تھا اکثر آپ خود تقسیم فرماتے تھے، اس سے اس کام کی اہمیت پر بخوبی روشنی پڑتی ہے، حضرت عمرؓ کےعہد میں یرموک کا واقعہ نہایت اہم اور مشہور ہے اس میں مال غنیمت کی تقسیم حضرت زیدؓ کے سپرد تھی،اس کے ماسوا حضرت عمرؓ نے جب صحابہؓ کے وظائف مقرر کئے تو انصار کے وظائف کی تقسیم بھی انہی کے سپرد کی،انہوں نے عوالی سے تقسیم شروع کی اس کے بعد عبدالاشہل کا نمبر رکھا، اس کے بعد اوس کے محلہ کا،پھر قبائل خزرج کا اورسب سے اخیر میں اپنا حصہ لیا۔
<ref>(کتاب:۱/، ابی یوسف:۲۶)</ref>
== سیاسی خدمت ==
حضرت زید بن ثابتؓ بارگاہ خلافت کے مقربین خاص میں تھے ،حضرت عمرؓ کے احباب میں ان کا ممتاز درجہ تھا، حضرت عثمانؓ کے بھی وہ خاص معتمد تھے ،خلافت عثمانی میں جب آتش فتنۂ وفساد مشتعل ہوئی تو وہ خلیفۂ وقت کے طرفدار تھے اوراس شورش وانقلاب کے زمانہ میں انہوں نے ایک دن انصار کو مخاطب کرکے ایک تقریر کی جس کا ایک بلیغ فقرہ یہ تھا:
یا معشر الانصار کو نو انصاراللہ مرتین
یعنی اے انصار خدا کے دو مرتبہ انصار بنو۔
بعض صحابۂ کرامؓ حضرت عثمانؓ سے بد ظن تھے،ان میں حضرت ابو ایوبؓ انصاری بھی تھے،انہوں نے کہا کہ تم عثمانؓ کی مدد پر صرف اس وجہ سے لوگوں کو آمادہ کرتے ہوکہ انہوں نے تم کو بہت سے غلام دیئے ہیں، حضرت ابوایوبؓ بھی بہت بااثر بزرگ تھے اس لئے زید کوخاموش ہونا پڑا۔
== وفات ==
پچپن،چھپن سال کا سن مبارک تھا کہ پیام اجل آگیا اور 45ھ میں وفات پائی اس وقت تخت حکومت پر امیر معاویہ متمکن تھے اور مروان بن حکم مدینہ منورہ کا امیر تھا وہ زید سے دوستانہ تعلقات رکھتا تھا، چنانچہ اسی نے نماز جنازہ پڑھائی تمام لوگ سخت غمگین تھے، ابوہریرہ نے موت کی خبر سن کر کہا آج حبرالامۃ اٹھ گیا۔

فہرست رہنمائی