"زیاد بن لبید" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
23 بائٹ کا ازالہ ،  3 مہینے پہلے
م
خودکار: درستی املا ← 9، 2، 3، 4، ہو گئے، 1، 5، 6، 8
(مضمون میں اضافہ کیا ہے)
م (خودکار: درستی املا ← 9، 2، 3، 4، ہو گئے، 1، 5، 6، 8)
[[بیعت عقبہ|بیعتِ عقبہ]] میں شریک تھے،جب مدینہ میں مہاجرین کی آمد شروع ہوئی تو انصار کی ایک جماعت جو چار آدمیوں پر مشتمل تھی،مکہ پہنچی جس میں ایک زیادتھے،وہاں سے بہت سے صحابہ کے ساتھ مدینہ واپس آئے،اس بنا پر یہ لوگ انصاری بھی تھے اور مہاجر بھی۔
== غزوات ==
غزوات ،بدر،احد،خندق،اورتمام غزوات میں شریک تھے۔۹ھتھے۔9ھ میں آنحضرتﷺ نے یمن کا حاکم بنایا، یہ ملک ۵5 حصوں پر تقسیم تھا <ref>(استیعاب:۱1/۲۴۶،حالات246،حالات معاذ بن جبل)</ref> حضرت زیادؓ حضرت موت کے عامل تھے،صدقات کا محکمہ بھی ان کے زیر ریاست تھا ۔
آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد جب اہل یمن مرتد ہوگئے،اورزکوٰۃہو گئے،اورزکوٰۃ بند کردی تو حضرت ابوبکرؓ نے زیاد کو اس بارہ میں لکھا، انہوں نے شاہان کندہ پر شبخون مار کر فتح حاصل کی،اشعث بن قیس کا محاصرہ کرکے شکست دی اور اس کو دارالخلافت روانہ کیا،حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
وکان لہ بلاء حسن فی قتال اھل الردۃ
<ref>(تہذیب التہذیب :۳3/۳۸۳383)</ref>
یعنی انہوں نے مرتدین کی جنگ میں بڑی جانبازی دکھائی۔
خلافت صدیقی <ref>(طبری:۴4/۱۳۶136)</ref> اورفاروقی میں بھی اسی خدمت پر ممتاز رہے، <ref>(یعقوبی:۲2/۱۸۶186)</ref> اس فرض سے سبکدوشی کے بعد کوفہ کی سکونت اختیار کی،بعض کا خیال ہے کہ شام میں قیام کیا تھا۔
== یمن کے حاکم ==
9ھ میں آنحضرتﷺ نے یمن کا حاکم بنایا، یہ ملک 5 حصوں پر تقسیم تھا <ref>استیعاب:1/246،حالات معاذ بن جبل</ref> زیاد حضرت موت کے عامل تھے،صدقات کا محکمہ بھی ان کے زیر ریاست تھا ۔
[[41ھ]] میں انتقال ہوا، یہ امیر معاویہ کی حکومت کا پہلا سال تھا۔<ref>اسد الغابہ جلد 1 صفحہ 844حصہ چہارم مؤلف: ابو الحسن عز الدين ابن الاثير ،ناشر: المیزان ناشران و تاجران کتب لاہور</ref><ref>اصحاب بدر،صفحہ 144،قاضی محمد سلیمان منصور پوری، مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور</ref>
== فضل وکمال ==
زیادؓ فقہائے صحابہؓ میں تھے، <ref>(تہذیب :۳3/۳۸۳383)</ref> صحیح ترمذی میں ہےکہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺنے فعمایا کہ اب علم کے اٹھنے کا وقت آپہنچا،زیادؓ نے عرض کیا یہ کیسے ہوسکتا ہے،اب تو علم لوگوں کے رگ وپے میں سرایت کر چکا ارشاد ہوا:
ثکلتک امک یا زیاد !ان کنت لا راک من افقہ رجل بالمدینۃ اولیس الیھود والنصاریٰ یقرؤن التوراۃ والانجیل ولا ینغعون بشئی
یعنی اے زیاد تیری ماں تجھ کو روئے میں تجھ کو نہایت سمجھ دار شخص خیال کرتا تھا کیا دیکھتے نہیں کہ یہودو نصاریٰ تورات وانجیل پڑہتے ہیں ،لیکن ان سے کچھ نفع نہیں اٹھاتے۔
حضرت عبادہؓ نے اس حدیث کو سنا تو فرمایا سچ ہے، سب سے پہلے خشوع اٹھ رہا ہے۔
<ref>(اصابہ:۲2/۳3)</ref>
آنحضرت ﷺ سے چند حدیثیں روایت کیں، حلقہ روایت میں عوف بن مالک، جبیر بن نفیر، سالم بن ابی الجعدان کی مسند فضل و کمال کے حاشیہ نشین ہیں۔
== حوالہ جات ==
111,622

ترامیم

فہرست رہنمائی