"کعب بن عمرو" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
اضافہ کیا ہے
(درستی کے لیے)
(اضافہ کیا ہے)
=== اسلام ===
عقبہ ثانیہ میں بیعت کی
=== غزوات ===
تمام غزوات میں شریک رہے غزوۂ بدر میں نہایت جوش سے لڑے مشرکین کا علم ابو عزیز بن عمیر کے ہاتھ میں تھا، انہوں نے بڑھ کر چھین لیا، ایک مشرک مبنہ بن حجاج سہمی کو قتل کیا اور[[عباس بن عبد المطلب]] کو اسیر کرکے آنحضرتﷺ کے سامنے لائے،آپ ﷺ ان کے چھوٹے سے قد اور عباس کے ڈیل ڈول کو دیکھ کر نہایت متعجب ہوئے اورفرمایا کہ عباس کو گرفتار کرنے میں ان کی کسی فرشتہ نے اعانت کی، اس وقت ان کا سن کل 20 سال کا تھا۔
امام بخاری نے اپنی تاریخ میں بھی ان کی شرکت بدر تسلیم کی ہے۔
معرکہ خیبر میں جب کہ صحابہ قلعوں کا محاصرہ کیے ہوئے تھے ایک رات کسی یہودی کی بکری قلعہ میں جا رہی تھی، آنحضرتﷺ نے فرمایا مجھ کو اس کا گوشت کون کھلائے گا ابو الیسر نے کہا میں اور اٹھ کر نہایت تیز دوڑتے ہوئے پہنچے بہت بکریاں اندر جا رہی تھیں، انہوں نے دو بکریاں پکڑ لیں اوربغل میں دبا کر لے آئے، لوگوں نے ان کو ذبح کرکے گوشت پکایا۔<ref>مسند:2/427</ref> صفین اور دوسری لڑائیوں میں علی المرتضی کے ہمرکاب تھے۔
=== وفات ===
[[55ھ]] میں مدینہ میں انتقال کیا، اصحاب بدر میں یہ سب سے بعد میں فوت ہوئے، خیبر والی حدیث بیان کرکے رویا کرتے تھے اورکہتے تھے کہ مجھ سے فائدہ اٹھا لو، صحابہ میں صرف میں باقی رہ گیا ہوں ،وفات کے وقت عمر 70 سے اوپر تھی۔تھی۔بعض لوگوں نے ۱۲۰ سال لکھا ہے؛ لیکن یہ بدایۃ غلط ہے۔
== اخلاق وعادات ==
نہایت رحیم اور نرم دل تھے ،بنو حرام کے ایک شخص پر قرض آتا تھا اس کے مکان پر جا کر آوازدی، معلوم ہوا موجود نہیں، اتنے میں اس کا چھوٹا لڑکا باہر آیا پوچھا تمہارے باپ کہاں ہیں، بولا اماں کی چار پائی کے نیچے چھپے ہیں،انہوں نے پکارا کہ اب نکل آؤ تم جہاں پر ہو مجھے معلوم ہے وہ باہر آیا اوراپنی فقر کی داستان سنائی ابو الیسر کا دل بھر آیا اور کاغذ منگا کر تمام حروف کو مٹادیا اورکہا اگر مقدرت ہوتو ادا کرنا ورنہ میں معاف کرتا ہوں۔<ref>مسلم:2/450</ref><ref>اسد الغابہ جلد 2 صفحہ 877حصہ ہشتم مؤلف: ابو الحسن عز الدين ابن الاثير ،ناشر: المیزان ناشران و تاجران کتب لاہور</ref><ref>اصحاب بدر،صفحہ 189،قاضی محمد سلیمان منصور پوری، مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور</ref>

فہرست رہنمائی