"سقوط کابل 2021ء" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
2,211 بائٹ کا اضافہ ،  7 مہینے پہلے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
| campaignbox =
}}
15 اگست 2021ء کو [[طالبان]] جنگجو افغانستان کے دارالحکومت [[کابل]] میں داخل ہوئے۔ہوئے جس کے بعد انہوں دارلحکومت کابل کا مکمل کنٹرول لے لیا جبکہ افغانستان کے بیشتر صوبوں پر طالبان پہلے سے ہی قبضہ کرچکے تھے جن کا سلسلہ مئی 2021 میں اس وقت شروع ہوچکا تھا جب مذاکرات میں پے در پے سختیات اور بات آگے نہ بڑھنے کی وجہ سے اشرف غنی نے افغان فورسز کو طالبان کی خلاف ملک گھیر سخت آپریشن کا حکم دیا جس کے بعد طالبان نے بھی اس کے رد عمل میں شدید آپریشنزکرکے بیشتر صوبوں کو اپنے کنٹرول میں لینا شروع کیا۔دوسری طرف طالبان اور اس وقت کی افغان حکومت کی لڑائی میں امریکا مکمل طور پر قطر معاہدے پر عمل درآمد کرتے ہوئے مکمل طور پر کنارکش ہوکر انخلا کی تیاری میں مصروف عمل تھا ۔ جب طالبان کا ایک وفد صدارتی محل میں حکومتی نمائندوں سے اقتدار کی پُرامن منتقلی کے لیے مذاکرات کر رہا تھا اور مسلح طالبان کابل کا گھیراؤ کیے ہوئے تھے کہ جیسے ہی مذاکرات کا کوئی حل نکلے اور وہ اپنے رہنماؤں کی ہدایت پاتے ہی دارالحکومت میں داخل ہوجائیں، ایسے میں صدر اشرف غنی اچانک اپنے سیاسی رفقاء کو تنہا چھوڑ کر ملک سے روانہ ہوجاتے ہیں۔ہوگئے۔<ref>https://www.express.pk/story/2213804/10/</ref> مکرر صدر [[اشرف غنی]] کے ملک بدر ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی قبضہصدارتی محل سامنے تمام ہنگامی امور طالبان کے زیر اقتدار آئے۔ طالبان اور اشرف غنی کے مابین سابق افغان صدر [[حامد کرزئی]] اور چیف ایکزکٹیو[[عبداللہ عبداللہ]] نے ثالث کا آغازکردار ادا کرتے ہوئے اشرف غنی کو پرامن نکلنے اور اقتدار کی منتقلی کی راہ ہموار کی۔ جس کے بعد طالبان نے تمام حکومتی لوگوں کے لئے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے تمام امور اپنے کنٹرول میں لے لئے۔ [[صوبہ پنجشیر]] کے علاوہ تمام صوبے اب طالبان کے زیر اقتدار آچکے تھے۔ پنجشیر میں بھی چند دن میں ہی مذاکرات کا سلسلسہ چلا جو ناکام ہوا جس کے بعد طالبان نے [[شمالی اتحاد (افغانستان)|شمالی اتحاد]] کیخلاف شدید آپریشن کرکے سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح اور [[احمد شاہ مسعود]] کے بیٹے احمد مسعود کو پسپا کرکے پنجشیر کو اپنے قبضے میں لے ہوا۔لیا۔
 
صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ کابل کے لاکھوں افراد کو خوں ریزی سے بچانے کے لیے افغانستان چھوڑا کیوں کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں تصادم ہوتا، طالبان نے اسلحہ کے بل پر فتح حاصل کرلی لیکن وہ دلوں کو فتح نہیں کرسکے۔<ref>https://www.express.pk/story/2213659/10/</ref>

فہرست رہنمائی