"مباہلہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
107 بائٹ کا اضافہ ،  8 سال پہلے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
ایک قرآنی اصطلاح، [[تفسیر]] [[صراط الجنان فے تفسیر القران]] جلد 1، صفحہ 491 پر[[مفتی]] [[محمد قاسم]] [[قادری]] مباہلے کا عمومی مفہوم یہ بیان کرتے ہیں۔{{اقتباس|دو مد مقابل افراد آپس میں یوں [[دعا]] کریں کہ اگر تم حق پر اور میں باطل ہوں تو [[اللہ]] مجھے ہلاک کرے اور اگر میں حق پر اور تم باطل پو ہو تو اللہ تعالی تجھے ہلاک کرے۔ پھر یہی بات دوسرا فریق بھی کہے۔}}{{حوالہ<ref>القاموس درکار}}المحيط والقابوس الوسيط</ref>
 
==آیت مباہلہ==
 
==اثرات==
اس آیت کے نزول کے بعد نبی {{درود}} اپنے نواسوں[[حسن]]اور[[حسین]]اپنی بیٹی سیدہ[[فاطمہ]]اور دامادحضرت[[علی]]کو لے کے گھر سے نکلے، دوسری طرف عیسائیوں نے مشورہ کیا کہ اگر یہ نبی ہیں تو ہم ہلاک ہو جاہیں گئے۔اور ان لوگوں نے جزیہ دینا قبول کر لیا۔اسی واقعہ کی نسبت سے[[شعیہ]]اوراکثر[[سنی]]بھی[[پنجتن پاک]] کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، جس سے[[سلفی]] حضرات اختلاف کرتے ہیں۔{{حوالہ<ref>كتاب درکار}}آية المباهلة ص21 وص22</ref>
==مباہلہ کے احکام==
قرآن کی اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ مباہلہ صرف کافر کے ساتھ ہو سکتا ہے، مسلمان دوسرے مسلمان کے ساتھ عام مساہل میں مباہلہ نہیں کر سکتے۔ یہ صرف اسلام کی حقانیت کے لیے ہو سکتا ہے۔{{حوالہ درکار}}
 
==مزید دیکھیں==

فہرست رہنمائی