خالدہ ادیب خانم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خالدہ ادیب خانم المعروف خالدہ ادیب آدیوار (11 جون 1884 - 9 جنوری 1964) ترکی کی نامور مصنفہ، ناول نگار، صحافی، سیاسی و سماجی کارکن تھیں ۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

خالدہ ادیب خانم 11 جون 1884 کو پیدا ہوئیں۔ والد کا نام عثمان ادیب پاشا تھا جو ترک سلطان عبد الحمید کے وزیر خزانہ تھے۔ خالدہ خانم کے سلسلہ تعلیم کا آغاز 1889 میں ہوا اور ابتدائی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد 1910 میں بی اے کا امتحان نہایت اعلیٰ نمبروں کے ساتھ پاس کیا۔ دورانِ تعلیم آپ کی شادی آپ کے پروفیسر صحافی احمد صالح سے ہو گئی۔ بعض نجی وجوہات کے باعث خلع لے لی اور پھر شاہی فوج کے ڈاکٹر خالد بے سے شادی کر لی لیکن کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر خالد بے کا انتقال ہو گیا۔

تصنیف و تالیف کا آغاز[ترمیم]

کم عمری سے ہی خالدہ خانم نے اپنی تحریروں سے مقبولیت پانا شروع کی۔ اور محض سولہ سال کی عمر میں آپ نے ”ترکی پردے“ پر ایک نہایت عمدہ کتاب لکھی۔ بعد میں افسانہ نگاری بھی شروع کر دی۔ اور اپنے مخصوص اسلوبِ بیان کے باعث بہت جلد ترکی کی صفِ اول کی افسانہ نگاروں میں شمار ہونے لگیں۔ آپ کے افسانوی مجموعوں کی نہ صرف ترکی بلکہ یورپ میں بھی خوب پزیرائی ہوئی اورروسی، فرانسیسی، جرمن، انگریزی اور عربی زبان میں تراجم ہوئے۔

ٓ==فنِ شاعری== خالدہ خانم نے جب شاعری کی جانب توجہ کی توقلیل مدت میں اس شعبہ میں مہارت اور شہرت حاصل کر لی۔

صحافت[ترمیم]

خالدہ ادیب خانم ترکی کی ایک قوم پرست اور بے باک صحافی تھیں۔ ایک سیکولر اور جدیدیت پسند کی حیثیت سے انہوں نے ترکی کی جنگ آزادی میں حصہ لیا اور ترک عوام کی تحریک آزادی اور عظیم قربانیوں کو اپنی کہانیوں اور ناولوں میں منظر عام پر لائیں۔ 1909 میں ترکی میں سلطان عبد الحمید خان کی حکومت تبدیل ہوئی تو نوجوانانِ ترکی اپنے ملک کو ترقی دینے کی کوششوں میں مصروف ہو گئے۔ خالدہ خانم کی کوششوں کی بدولت مدبرین ترکی مطالباتِ نسواں کے حامی ہو گئے۔ اس مقصد کے لیے خالدہ خانم نے ترکی کے اخبارات میں مضامین لکھے جن کا خاطر خواہ اثر سامنے آیا۔ ترکی کی دستور پسند جماعت کی حمایت میں انہوں نے یورپ اور امریکا کے اخبارات میں مضامین کا سلسلہ شروع کیا۔ امریکا کے اخبارات نے ان مضامین کو نہایت فخر کے ساتھ شائع کیا اور کہا کہ یہ ہمارے ہی کالج کی ایک معلمہ ہیں جو آج اپنے ملک میں رہنما کی حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔[1]

1935 میں خالدہ ادیب خانم نے ڈاکٹر ایم اے انصاری کی دعوت پر ہندوستان کا دورہ کیا۔ اور انھوں نے ہندوستان کے اندر‘‘ کے نام سے اپنی یادداشتیں لکھیں ۔

وزارت[ترمیم]

خالدہ خانم نے بحیثیت ایک مصلح اپنے ملک میں چھوٹی چھوٹی نسوانی انجمنیں قائم کیں۔ وزارتِ تعلیم پر زور دیا کہ ترک عورتوں کو جدید تعلیم حاصل کرنے کی سہولیات بہم پہنچائے۔ ان سرگرمیوں کی بدولت انور پاشا اور طلعت پاشا نے خالدہ خانم کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کو سیاسی آئین وضوابط کی تشکیل میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جلد ہی خالدہ خانم کو شام کے صوبے میں تعلیمات کی وزیر مقرر کیا گیا۔ آپ نے ایک جامع لائحہ عمل مرتب کیا اور ملک میں ابتدائی مدارس اور ہائی سکولوں کاجال بچھا دیا۔

سیاسی و سماجی خدمات[ترمیم]

خالدہ خانم نے بحیثیت وزیر شام میں قیام کے دوران یتیم خانے قائم کیے، مذہبی تبلیغ کا بندوبست کیا،ارمن اور کرد بچوں کی تعلیم پر خاص توجہ دی۔ شام کے گورنر جنرل جمال پاشا ان سے سیاسی معاملات پر مشورے بھی کرتے تھے۔ آپ شام میں ہی تھیں کہ پہلی جنگ عظیم بھڑک اٹھی۔ آپ شام سے ترکی کے دار الحکومت استنبول آگئیں اور وزارتِ دفاع کی امداد میں مصروف ہوگئیں۔ آپ نے امریکا کے اخبارات میں مضامین لکھے اور وہ مجبوریاں بیان کیں جن کی بنا پر ترکی کو جنگ میں شامل ہونا پڑا۔” نیویارک ٹائمز“ نے ان کے مضامین کو نہایت قدرووقعت کے ساتھ شائع کیا۔ اسی دوران ترکوں کی وحدت یا پان توران ازم پر ان کی کتاب بہت مقبول ہوئی۔ اس کتاب میں ترکوں کی شجاعت کے جذبات کو اس طرح ابھارا گیا تھا کہ حکومت نے فوج میں اس کتاب کے ہزاوروں نسخے تقسیم کرائے۔ جنگ کے دور میں خالدہ خانم ترکی کی سراوٴں اور مساجد میں جاتیں اور ان کی امداد واعانت کے علاوہ لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتیں۔ نومبر 1918 میں پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ پر جب قسطنطنیہ پر اتحادی افواج کا قبضہ ہوا تو قوم پرست خاص طور پر ان کا نشانہ بنے۔ اس دوران مصطفی کمال پاشا کی تحریک آزادی کے حق میں خالدہ خانم کی لاکھوں کے مجمعوں میں تقاریرجاری رہیں اور اس کی پاداش میں انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ بہت سی تکالیف کا اور قید وبند کا سامنا کیا۔ وہ خفیہ طور پر مصطفی کمال پاشا سے جا ملیں۔ مصطفی کمال پاشا نے آپ کی قدر کی اور آپ کو ملک کی وزیر تعلیمات مقرر کیا۔ آپ نے ایک بار پھر اصلاحی اور تعلیمی کاموں کا سلسلہ شروع کیا۔

عدنان بے سے شادی[ترمیم]

1918 میں خالدہ خانم نے غیور اور قوم پرست لیڈر عدنان بے شادی کر لی۔ وہ انجمن اتحاد ترقی کے ممتاز ممبر اور محترم رہنما خیال کیے جاتے تھے۔ عدنان بے بعد میں انقرہ میں لارڈ چیف جسٹس کے عہدے پر بھی کام کرتے رہے اور پھر دولت انقرہ کی طرف سے انقرہ کے گورنر جنرل بھی مقرر کیے گئے۔

عسکری خدمات[ترمیم]

جولائی 1921 تک خالدہ خانم کی سیاسی وتعلیمی خدمات کا سلسلہ جاری رہا۔ لیکن جب انقرہ پر یونانی لشکر کے متوقع حملہ کی اطلاعات ملیں تو پورے اناطولیہ میں مصطفی کمال پاشا کی قیادت میں دفاعِ وطن کا جذبہ بیدار ہوااور اس موقع پر خالدہ خانم نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے ترکی خواتین کے میدان میں لانے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے ایک جنگی سکیم تیار ہوئی کہ خواتین کا لشکر تیار کیا جائے۔ خالدہ خانم نے اس مقصد کے لیے پورے ملک گیر دورہ کیا۔ ہزاروں عورتوں کو فوج میں بھرتی کیا۔ وزارتِ جنگ نے ان کی فوجی تربیت کا انتظام کیا۔ جب ہزاروں خواتین کو فوجی تربیت دی جا چکی تو ان کے باقاعدہ فوجی دستے بنا دیے گئے۔ یہ دستے اناطولیہ میں پلوں، تارگھریوں اور ریلوے سٹیشنوں کی حفاظت کی خدمات انجام دینے لگے۔ خواتین کے فوجی دستوں نے یونانیوں پر نہایت کامیاب شب خون مارے۔

جب ستمبر 1921 میں یونانیوں کا سب سے بڑا فوجی حملہ ہوا تو خالدہ خانمنسوانی دستہکے ہمراہ یہ نفس نفس میدانِ جنگ میں موجود تھیں اور فوجِ مخالف کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اگر غازی عصمت پاشا نسوانی لشکر کو پیش قدمی سے روک نہ دیتے تو خالدہ خانم یقینا اس جنگ میں شہید ہو جاتیں کیونکہ ان کا جوشِ جہاد بہت زیادہ بڑھا ہوا تھا۔ یورپ اور امریکا کے اخبارات میں ترکی خواتین کی عسکریت اور خالدہ خانم کی قیادت پر حیرانی کا اظہار کیا گیا۔ جنگ کے خاتمہ پر 1922 میں ان کے شوہر عدنان بے کو گورنر کے عہدہ پر فائز کیا گیا۔ چنانچہ خالدہ خانم اناطولیہ سے قسطنطنیہآ گئیں اور باقی زندگی وہیں بسر کی ۔

خالدہ خانم نے تمام عمر ترکی کی خدمت اور جمہوری نظریات کے فروغ میں گزاری۔ وہ اگرچہ زمانہ طالب علمی سے مغربی طرزِ زندگی کی عادی تھیں لیکن بعد میں انہوں نے ترکی لباس اور رہن سہن کو اپنا لیا۔ خاص طور پر میدانِ جنگ میں وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سنت میں سیاہ عمامہ بھی باندھتیں ۔

وفات[ترمیم]

خالدہ ادیب خانم نے ستر سال سے زیادہ عمر پائی۔ اور 9 جنوری 1964 کو ان کا انتقال ہوا ۔

حوالہ جات[ترمیم]