خالد بن حمد آل خلیفہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شاہ خالد بن حمد آل خلیفہ
شیخ
HH sheikh khalid.png
خالد بن حمد آل خلیفہ ایلزبتھ دوم کے ہمراہ (2016ء)
شریک حیات السحاب بنت عبداللہ آل سعود
نسل

فیصل بن خالد ال خلیفہ

عبداللہ بن خالد ال خلیفہ
خاندان آل خلیفہ
والد حمد بن عیسی آل خلیفہ
والدہ شيا بنت حسن الخرایش العجمی
پیدائش 23 ستمبر 1989ء (عمر 30 سال)
مذہب اسلام

شاہ خالد بن حمد آل خلیفہ، سلطنتِ بحرین کا بادشاه شاہ حمد بن عیسیٰ کا پانچواں بیٹا ہے۔[1] اور (پیدائش: اتوار، 23 ستمبر 1989ء بمطابق 22 صفر 1410ھ)، پہلے نائب صدر سپریم کونسل برائے نوجوانان اور کھیل صدر بحرین ایتھلیٹک ایسوسی ایشن ہیں۔[2][3]

تعلیمی اور فوجی قابلیت[ترمیم]

  • فارغ التحصیل از ابن خلدون نیشنل اسکول – 2007ء
    * فارغ التحصیل از برطانوی رائل ملٹری اکیڈمی سندھرسٹ – 8 اگست 2008ء
    * زائچہ میزان
    * شمسی خانہ: سنبلہ
    * قمری خانہ: جوزا (جڑواں)
    * تولد کے موقع پر چاند کی عمر: 22 فیصد روشنی کے ساتھ 13،8 دن
    * صفر ہلال کی تاریخ تولد 1410 سال ہجری بمطابق 31 اگست 1989ء صبح 8:47 پر
    * اس کے غروب کا وقت شام کے 6:01 پر اور سورج کے غروب ہونے کا وقت شام کے 5:58 بجے ہے
    * زائچہ: زوبرہ زائچہ (خیرتن اور زہره)، 20 ستمبر – دوسرا[4]

اہل خانہ[ترمیم]

  • 16 جون 2011ء کو شادی ہوئی
    * زوجہ: دو مقدس مساجد کا نگران شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز آل سعود اور شہزادی سحاب بنت عبد اللہ بن عبد العزیز آل سعود کی بیٹی

بیٹے[ترمیم]

o ہز ہائی نس شیخ فیصل – تاریخ تولد 12 دسمبر 2012ء
o ہز ہائی نس شیخ عبد اللہ – تاریخ تولد 6 فروری 2015ء

شاہی اعزاز[ترمیم]

  • خالد بن حمد کو شیخ عیسٰی بن سلمان کی تمغا فوجی بہادری سے نوازا گیا 20 اکتوبر 2015ء
    * خالد بن حمد کو فرسٹ کلاس آرڈر سے نوازا گیا 31 مارچ 2014ء
    * آنحضرت کو بادشاہ حمد کی تمغا نشاۃ ثانیہ فرسٹ کلاس سے نوازا گیا 13 دسمبر 2009ء
    * خالد بن حمد کو بحرین تمغا فرسٹ کلاس سے نوازا گیا 11 مارچ 2009ء

تمغے اور اعزازات[ترمیم]

  • بین الاقوامی کشتی فیڈریشن نے کشتی میں ان کو پانچویں اعزازی سنہری تمغا سے نوازا۔ آنحضرت ایسے پانچویں عالمی شخص کے طور پر جانے جاتے ہیں جن کو اس تمغا سے نوازا گیا ہے۔ بین الاقوامی کشتی فیڈریشن نے اس سے پہلے یہ تمغا چار ملکوں کے صدور کو دی ہے جن میں روس، آذربائیجان، قازقستان اور ہنگری شامل ہے۔ نتیجے کے طور پر، آنحضرت بین الاقوامی فیڈریشن کے ایسے افراد کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں جنہوں نے حفاظت ذات اور مخلوط مارشل آرٹس کے کھیل کو فروغ دینے اور اسے بہتر بنانے میں زیاده سے زیاده کردار ادا کیا ہے، 26 جنوری 2016ء
    * آنحضرت کو افریقی ایوارڈ برائے قیادت ملا ہے (سب سے زیادہ تخلیقی کھیلوں کے مقابلے) کے زمرے میں جس میں ثقافتی، سائنس، کھیل اور معاشی شعبے کے کچھ زمرے بهی شامل ہیں۔ اس ایوارڈ کو سماجی تنظیم نے عالمی کمپنیوں کے لیے مقرر کیا ہے – جس کا صدر دفتر ہندوستان میں ہے، 10 دسمبر 2014ء۔ یہ ایوارڈ ریاست افریقہ، ماریشس میں موصول کیا گیا۔
    * آنحضرت کو ہز ہائی نس شیخ محمد بن راشد المخطوم، نائب صدر متحدہ عرب امارات، دبئی کے وزیر اعظم اور حکمران کا تخلیقی کھیل کا ایوارڈ ملا، چھٹی راؤنڈ میں، (کھلاڑی جس نے شاندار کامیابی حاصل کی) کے زمرے میں، 25 نومبر 2014ء، دبئی، ریاست متحدہ عرب امارات ۔

درجات[ترمیم]

  • اعزازی صدر بحرین معذور کھیلوں کی فیڈریشن، اکتوبر 2006ء
    * اعزازی صدر بحرین مخلوط مارشل آرٹس فیڈریشن، اکتوبر 2006ء
    * اعزازی صدر خلیج چیمپئن شپ میڈیا کے کھیل، 2015ء
    * بانی انجمن کے ایچ کے ایم ایم اے، 2015ء
    * خالد بن حمد کو مغربی ایشیائی ایتھلیٹک ایسوسی ایشن کا صدر منتخب کیا گیا، مارچ 2013ء
    * خالد بن حمد کو بحرین ایتھلیٹک ایسوسی ایشن کا صدر مقرر کیا گیا، 14 اکتوبر 2012ء
    * خالد بن حمد کو سپریم کونسل برائے نوجوانان اور کھیل کے پہلے نائب صدر کا مقام دیا گیا، 6 ستمبر 2010ء
    * خالد بن حمد کو سپریم کونسل برائے نوجوانان اور کھیل کا رکن مقرر کیا گیا 19 مارچ 2010ء
    * خالد بن حمد گھڑسواری اور اینڈیورنس گھڑ دوڑ کی شاہی فیڈریشن کا صدر ره چکے ہیں، جون 2009ء – 2013ء
    * خالد بن حمد نے نجمہ کلب کے اعزازی صدر کا مقام سنبهالا 2006ء – 2014ء
    * خالد بن حمد نے بحرین شاہی گھڑسواری اور اینڈیورنس فیڈریشن کے پہلے نائب صدر کا مقام سنبهالا 2003ء – 2012ء

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Biography"۔ Official website۔
  2. "The Al Khalifa Dynasty"۔ Royal Ark۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 ستمبر 2013۔
  3. Gordon Rayner (17 فروری 2011)۔ "WikiLeaks: US wanted 'derogatory' information on Bahrain king's sons"۔ The Telegraph۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 ستمبر 2013۔
  4. "Royal Guard Commander Patronises Graduation Ceremony"۔ Bahrain News Agency۔ 2 مئی 2013۔