خالد بن سعید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(خالد بن سعید العاص سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search

خالد بن سعید (عربی: خالد بن سعيد بن العاص) ایک صحابی رسول تھے۔

نام و کنیت[ترمیم]

نام خالد۔ کنیت ابوسعید۔

اسلام[ترمیم]

سابقین اولین میں سے ہیں، صدیق اکبر کے بعد ہی اسلام قبول فرمایا تھا، بعض روایات کے مطابق تیسرے چوتھے یا پانچویں مسلمان ہیں۔ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو مذحج اور صفاء الیمین کے صدقات کا عامل مقرر فرمایاتھا، رحلتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک آپ اس عہدہ پر فائز تھے۔ [1] ۔

ہجرت حبشہ[ترمیم]

کفار کے ڈر سے عرصے تک مکے میں روپوش رہے اور آخر حبشہ کی ہجرت کے وقت اپنی زوجہ امیمہ اور بھائی عمر کو ساتھ لے کر حبشہ چلے گئے۔ غزوہ خیبر کے دنوں میں حبشہ سے مدینہ آ گئے

غزوات[ترمیم]

سب غزوات میں رسول اللہ کے ساتھ شریک ہوئے۔ پڑھے لکھے تھے اس لیے رسول اللہ کے خطوط بھی لکھتے پڑھتے تھے۔ میں بنو ثقیف کے وفد سے رسول اللہ کی طرف سے آپ ہی نے گفتگو کی اور ان کے ساتھ معاہدہ بھی آپ نے ہی تحریر کیا۔ رسول اللہ نے آپ کو یمن کا گورنر مقرر کیا اور آپ کے دونوں بھائیوں ہابان اور عمر کو نجرین اور تیماء کا گورنر بنایا۔ رسول اللہ کے وصال کے بعد آپ نے گورنری سے استعفا دے دیا۔ اور مدینہ چلے گئے۔

کاتب وحی[ترمیم]

خالد بن سعید سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تمام امور کی کتابت فرماتے تھے [2] سب سے پہلے ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ کی کتابت حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ نے کی تھی [3] مکہ مکرمہ میں وحی کی کتابت سے بہرہ ور ہوئے اور جب مدینہ منورہ تشریف لائے، تو بنیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں خطوط نویسی کا شرف حاصل ہوا، طبری کی صراحت کے مطابق خالد بن سعید کو خدمتِ نبوی میں بیٹھ کر ضروریات ومعاملات لکھنے کا شرف بھی حاصل ہے، بہت سے موٴرخین نے آپ کا ذکر کاتبینِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کیا ہے، ان میں ابن اسحاق، ابن سعد، ابن شبہ، طبری، جہشیاری، ابن الاثیر، ابن کثیر، مزی، عراقی، ابن سید الناس، ابن مسکویہ اورانصاری وغیرہ ہیں۔ [4]

وفات[ترمیم]

فتنہ ارتداد کی سرکوبی میں نمایاں حصہ لیا۔ فتوحات شام کے دوران میں شہادت پائی۔ایک قول کے مطابق خالد بن سعید کی شہادت 14ھ میں ہوئی ۔ [5] آپ کی ایک بیٹی ام خالد رسول اللہ کے مشہور صحابی زبیر بن العوام کے عقد میں تھیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (الاستیعاب1/399
  2. (التنبیہ والإشراف245
  3. الاصابہ1/406
  4. البدایہ والنہایہ5/35، طبقات ابن سعد4/69، المصباح المضئی21/ب، تاریخ طبری6/179، الوزراء والکتاب12، التاریخ الکامل2/313، تہذیب الکمال4/ب، شرح الفیہ عراقی245، عیون الاثر2/315، تجارب الامم1/291
  5. الاصابہ1/407