خالد بن معدان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خالد بن معدانؒ
معلومات شخصیت

خالد بن معدانؒ تابعین میں سے ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

خالد نام،ابو عبداللہ کنیت ،نسب نامہ یہ ہے،خالد بن معدان بن ابی کریب کلابی۔

فضل وکمال[ترمیم]

خالد کو علم وفن کے ساتھ خاص ذوق وشغف تھا اورہو ان کا مشغلہ حیات بن گیا تھا بحیر کا بیان ہے کہ میں نے ان سے زیادہ علم سے چسپاں رہنے والا نہیں دیکھا [1] اس ذوق نے ان کو حمص کا ممتاز عالم بنادیا تھا۔ [2]

حدیث[ترمیم]

حدیث کے وہ بڑے حافظ تھے،ستر صحابہ سے ملاقات کا شرف حاصل تھا ان میں سے ثوبان، ابن عمر،ابن عمروبن العاصؓ،عتبہ بن عبدالسلمیؓ،ابودرداء،معاذ بن جبلؓ،ابوعبیدہؓ ،ابوذر غفاریؓ اورعائشہ صدیقہؓ سے مرسل روایات کی ہیں۔ [3]

فقہ[ترمیم]

فقہ میں بھی انہیں پورا درک تھا صحابہؓ کرام کی جماعت کے بعد فقہائے شام کے تیسرے طبقہ میں ان کا شمار تھا۔ [4]

حلقہ درس[ترمیم]

ان کا حلقہ درس بھی تھا،لیکن شہرت سے اس قدر گھبراتے تھے کہ جب حلقہ زیادہ بڑھا تو شہرت کے خوف سے درس وتدریس کی مسند اٹھادی۔ [5]

تلامذہ[ترمیم]

ان کے تلامذہ میں بحیر بن سعید ،محمد بن ابراہیم تیمی،ثور بن یزید،حریز بن عثمان عامر بن حشیب،حسان بن عطیہ اورفضیل بن فضالہ وغیرہ لائق ذکر ہیں۔ [6]

کتابت علم[ترمیم]

انہوں نے اپنے تمام معلومات قلم بند کرلیے تھے،ان کے تلمیذ بحیر کا بیان ہے کہ ان کا سارا علم ایک مصحف میں تھا۔ [7]

ارباب علم کا اعتراف[ترمیم]

اس عہد کے بڑے بڑے ائمہ ان کے علمی کمالات کے معترف تھے سفیان ثوری کہتے تھے کہ میں خالد بن معدان پر کسی کو ترجیح نہیں دیتا (ایضاً) امام اوزاعی ان کی بڑی عظمت کرتے تھے اورلوگوں کو ان کی لڑکی عبدہ کے پاس بھیج کر ان کے طریقے معلوم کراتے تھے۔ [8]

عبادت[ترمیم]

اس علم کے ساتھ وہ عمل کی دولت سے بھی مالا مال تھے،ابن حبان ان کو بہترین خدا کے بندوں میں لکھتے ہیں [9] دن بھر میں ستر ہزار تسبیحیں پڑھتے تھے [10] عبادت وریاضت کا نشان پیشانی پر تاباں تھا۔ [11]

موت کا ذوق[ترمیم]

موت خاصانِ خدا کے لیے پیام وصل ہے ،اس لیے خالد اس سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اس کے شائق رہتے تھے ؛چنانچہ کہتے تھے کہ اگر موت کوئی ایسا علم ہوتی جس کی جانب مسابقت کی جاسکتی ،تو میں سب سے پہلے اس کے پاس پہنچتا اوراس شخص کے سوا جو اپنی قوت سے آگے بڑھ جاتا اورکوئی مجھ سے بازی نہ لے جاسکتا۔ [12]

وفات[ترمیم]

یزید بن عبدالملک کے عہد میں یہ ذوق پورا ہوا اور ۱۰۳ ھ میں وفات پائی وفات کے دن روزے سے تھے۔ [13]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (تذکرہ الحفاظ:۱/۱۸)
  2. (تذکرۃ الحفاظ ایضاً)
  3. (تہذیب التہذیب:۳/۱۱۹)
  4. (ایضاً)
  5. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۸۱)
  6. (تہذیب التہذیب:۳/۱۱۸)
  7. (تذکرہ الحفاظ:۱/۸۱)
  8. (تہذیب التہذیب:۳/۱۱۵)
  9. (ایضاً)
  10. (تذکرہ الحفاظ :۱/۸۱)
  11. (ابن سعد :۴/۱۶۲)
  12. (ایضاً)
  13. (ابن سعد ایضاً)