خالد جاوید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خالد جاوید
خالد جاوید

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 9 مارچ 1960ء (عمر 59 سال)
قومیت بھارتی
پیشہ ناول نگار، نقاد

خالد جاوید (پیدائش 9 مارچ 1960ء) ایک بھارتی ناول نگار اور اردو افسانہ نگار تھے۔  ان کے کچھ کام جن میں  "آخری دعوت"  نعمت خانہ "[1] اور "موت کی کتاب" [2][3] کو منفرد انداز اور داستان بیان کے لیے  بہت پزیرائی ملی۔فی الحال وہ جامعیہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔ ڈاکٹر خالد جاوید ادب کے مقبول ماہر اور  ابن صفی کے ماہر ہیں۔ وہ افسانوی تحریر بیان کے لیے  پاکستان اور بھارت میں بہت مقبول ہیں۔مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی  حیدرآباد نے ان کے ناول  موت کی کتاب اور آخری دعوت پر ان کو ایم فل کی ڈگری دی اور سینٹرل یونیورسٹی حیدرآباد نے ان کو مختصر کہانیوں کے مجموعہ   "برے موسم میں " پر ایم فل کی ڈگری سے نوازا۔

خالد جاوید بھارتی اردو افسانوی مصنف ہے جو پاکستان اور بھارت میں یکساں مقبولیت کا حامل ہے۔اس کی کچھ تحریریں  جیسے موت کی کتاب اور نعمت خانہ بے بہت مقبولیت حاصل کی۔ ادبی تنقید نگار شافع قدوائی اپنے ایک بیان میں کہتا ہے کہ ہندو کہتے ہیں کہ خالد جاوید کہانی کے رنگ وتخیل کے جادوئی تکنیک کے پیچھے نہیں دھکیلتا بلکہ اس کا انداز اس کی نئی فنکارانہ قابلیت سے منسلک رہتا ہے اور اس نے اسی قابلیت کے تحت ایک یادگار اور موثر  سیریز کو جنم دیا ہے ،امید ہے کہ موت کی کتاب کو ادبی حلقوں میں اہم جگہ ملے گی۔

اس کی مشہور کتابوں میں سے کچھ نام مندرجہ ذیل ہیں۔

"آخری دعوت "2007 میں پینگوئین کتاب گھر سے شائع ہوئی۔

"تعریف کی ایک دوپہر "  2008 میں کراچی میں پبلش کی گئی۔

" کہانی " موت" اور  "بدیسی زبان"  2008 میں دہلی میں تعلیمی پبلشنگ ہاؤس سے شائع ہوئی۔

اسی طرح " جبرئیل گریشیا مارکوئیز : فین " اور  " شخصیات " 2010 میں کراچی سے اور موت کی کتاب عرشیہ پبلیکشنز دہلی نے شائع کی۔" نعمت خانہ "2014  بھی عرشیہ پبلیکشنز دہلی اور  " موت کی کتاب " 2015  داکھال پرکاشن نے شائع کی۔ کتھا ایوارڈ  1997 کتھا میں اسے ملا۔اوپندرناتھ اشک ایوارڈ ، ہندوتانی اکیڈیمی کی طرف سے سال 1996 میں  ملا اور یو پی اردو ایوارڈ سال 2014 میں لکھنؤ میں یو پی اردو اکیڈیمی نے دیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Adnan Adil (28 جون 2015)۔ "REVIEW: Portrayal of the morbid: Naimat Khana by Khalid Javaid"۔ dawn.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 جولائی 2017۔
  2. "BBC Urdu - فن فنکار - موت کی کتاب: کتاب کی موت نہیں"۔ bbc.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 جولائی 2017۔
  3. कविता۔ "मौत की किताब : जो जिंदगी और मौत के सफों के बीच भरे खालीपन को आवाज देती है"۔ scroll.in۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 جولائی 2017۔