خالد سیف اللہ رحمانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خالد سیف اللہ رحمانی
خالد سیف اللہ رحمانی

معلومات شخصیت
رہائش حیدرآباد دکن
قومیت ہندوستانی
عملی زندگی
تعليم جامعہ رحمانی مونگیر، دارالعلوم دیوبند
وجۂ شہرت تصنیف وتالیف، فقہی بصیرت، فکر اسلامی، قاموس الفقہ، جدید فقہی مسائل
ویب سائٹ
ویب سائٹ http://khalidrahmani.in/

خالد سیف اللہ رحمانی بھارت کے نامور فقیہ، متعدد فقہی کتابوں کے مصنف اور شرعی علوم کے محقق ہیں۔ نیز آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے معتمد، اسلامک فقہ اکیڈمی کے معتمد عمومی، حیدرآباد دکن میں واقع المعہد العالی الاسلامی کے بانی، سہ ماہی بحث و نظر کے مدیر، دار العلوم ندوۃ العلماء کی مجلس انتظامی اور مجلس نظامت کے رکن اور متعدد مدارس اور تنظیموں کے سرپرست ہیں۔

پیدائش اور خاندانی پس منظر[ترمیم]

10 جمادی الاولیٰ 1376ھ مطابق نومبر 1956ء میں بہار کے ایک قصبہ جالے (ضلع دربھنگہ) کے معروف علمی گھرانہ میں آنکھیں کھولیں، تاریخی نام نور خورشید رکھا گیا جبکہ اصل نام خالد سیف اللہ طے پایا اور اسی نام سے معروف ہوئے۔ والد حکم زین العابدین علاقہ کے معروف لوگوں میں تھے، جبکہ دادا عبد الاحد صاحب دار العلوم دیوبند کے فاضل اور اس دور کے اہم علما میں تھے، وہ مدرسہ احمدیہ مدھوبنی کے شیخ بھی رہے ہیں جبکہ چچا مشہور عالم اور دینی و ملی رہنما قاضی مجاہد الاسلام قاسمی تھے، فقہ اور قضا کے باب میں جن کا مقام بلند معروف ومسلم رہا ہے۔

خالد سیف اللہ کا نانیہالی خاندان بہار کے مشہور بزرگ بشارت کریم گڑھلوی سے وابستہ تھا، اس خانوادہ کے مورث اعلیٰ ملا سید محمد علی ہیں جو’ ملا سیسو‘ کے نام سے مشہور تھے ،انہوں نے سید احمد شہید کی تحریک جہاد میں شرکت کی اور معرکہ بالاکوٹ کے بعد بہار لوٹے۔[1]

تعلیم وتربیت[ترمیم]

خالد سیف اللہ نے ابتدائی تعلیم اپنی دادی، والدہ اور پھوپھا مولانا وجیہ الدین صاحب سے حاصل کی، فارسی اور عربی کی ابتدائی کتابیں اپنے والد محترم سے پڑھیں، اس کے بعد مدرسہ قاسم العلوم حسینیہ دوگھرا (ضلع دربھنگہ) میں کسب فیض کیا، پھر یہاں سے جامعہ رحمانیہ مونگیر کا رخ کیا جو اس وقت بھارت کا معروف ادارہ اور تشنگان علم دین کا مرکز توجہ بنا ہوا تھا۔ انہوں نے یہاں متوسطات سے دورۂ حدیث تک کی تعلیم حاصل کی، یہاں منت اللہ رحمانی سے خصوصی استفادہ کا موقع ملا، ان کے علاوہ وہاں کے دیگر اساطین علم و اصحاب فضل اساتذہ سے بھی استفادہ کیا۔ خالد سیف اللہ کے اساتذہ میں مولانا سید شمس الحق صاحب، مولانا اکرام علی صاحب، مولانا حسیب الرحمن صاحب، مولانا فضل الرحمن قاسمی صاحب اور مولانا فضل الرحمن رحمانی وغیرہ شامل ہیں۔[2]

دار العلوم دیوبند میں دورہ حدیث[ترمیم]

مونگیر میں دورہ مکمل کرنے کے بعد دار العلوم دیوبند کا رخ کیا اور وہاں دورہ حدیث مکمل کیا۔ اس دوران میں جن اساتذہ سے اکتساب فیض کیا ان میں شریف حسین دیوبندی، مفتی محمود الحسن گنگوہی، محمد حسین بہاری، معراج الحق، سید انظر شاہ کشمیری، مفتی نظام الدین اور محمد سالم قاسمی سرفہرست ہیں۔ دار العلوم دیوبند سے فراغت کے بعد خالد سیف اللہ امارت شرعیہ پٹنہ آ گئے اور وہیں افتا وقضا کی تربیت حاصل کی۔

تدریسی زندگی[ترمیم]

1397ھ میں محمد حمید الدین حسامی عاقل کی دعوت پر خالد سیف اللہ دار العلوم حیدرآباد پہنچے اور ایک سال تک وہاں تدریسی خدمت انجام دی۔ اس وقت قدوری، شرح تہذیب، رحمت عالم اور شرح ماۃ عامل وغیرہ کتابیں پڑھائیں۔ اس کے بعد 1398ھ میں دار العلوم سبیل السلام منتقل ہوئے، یہاں بچیثیت صدر مدرس تدریس اور انتظامی امور میں مصروف ہوئے اور بائیس برس اسی مدرسے میں خدمات انجام دیں۔ اس دوران میں رحمت عالم سے بخاری شریف تک کا درس دیا۔ نیز خالد سیف اللہ کی شبانہ روز کوششوں سے سبیل السلام کو بڑی شہرت اور ترقی ہوئی، طلبہ کثرت سے اس کی طرف رجوع کرنے لگے، تدریس کے ساتھ مدرسے کی تعمیر و ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا اور ہمیشہ وہاں کے ذمہ دار محمد رضوان القاسمی کا دست و بازو بن کر کام کرتے رہے، ان کوششوں کے نتیجہ میں مدرسہ چند کمروں سے نکل کر ایک وسیع اور کشادہ دار العلوم میں تبدیل ہو گیا۔ جہاں عربی کے چند طلبہ تھے وہاں دورہ حدیث کے علاوہ اختصاص کے شعبے قائم ہوئے ۔[3]

المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کا قیام[ترمیم]

اس طویل تدریسی سفر میں خالد سیف اللہ نے محسوس کیا کہ مدارس میں طلبہ کی کثرت کی وجہ سے افراد سازی پر توجہ پوری طرح نہیں ہو پا رہی ہے۔ چنانچہ انہوں نے فراغت کے بعد چند باصلاحیت طلبہ کی کسی خاص فن میں تربیت دینے کا خاکہ بنایا، چنانچہ مدرسہ سبیل السلام میں اختصاص فقہ کے شعبے ان کی توجہ کا مرکز رہے اور اس شعبے نے کم وقت میں بڑی شہرت پائی، مگر بعض اسباب کے بنا پر وہ اپنے خاکہ میں پوری طرح رنگ نہیں بھر سکے۔ چنانچہ اسی مقصد کے لیے خالد سیف اللہ نے باضابطہ ایک مستقل ادارہ قائم کرنے کا پروگرام بنایا۔ اور 1420ھ میں ادارہ المعہد العالی الاسلامی کے نام سے وجود میں آیا جو افراد سازی اور طلبہ میں علمی ذوق پیدا کرنے کے سلسلہ میں پورے ملک میں خاص مقام حاصل کر چکا ہے۔ ان کے اس اقدام کی بڑی ستائش ہوئی اور اکابر علما نے اسے وقت کی ضرورت قرار دیا۔

علمی خدمات[ترمیم]

قرآنیات کے موضوع پر خالد سیف اللہ کی پہلی کتاب "قرآن ایک الہامی کتاب" ہے۔ چند سال قبل ہندو تنظیم کے بعض ذمہ داروں کی طرف سے قرآن کی بعض آیات پر اعتراضات سامنے آئے۔ انہوں نے فوراً ان اعتراضات کا علمی جائزہ لیا اور ان کا تسلی بخش جواب دیا۔ یہ تحریر "24 آیتیں" کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ فقہ القرآن کے موضوع پر بھی ان کے متعدد مقالات ہیں جو ابھی تشنہ طباعت ہیں، قرآن کا ترجمہ و مختصر تشریح پر بھی انہوں نے کام کیا ہے جو ابھی مکمل نہیں ہوا۔

حدیث کے موضوع پر بھی متعدد کتابیں ہیں۔ مدارس کے طلبہ کے لیے "آسان اصول حدیث" تحریر کی جو متعدد مدارس کے نصاب میں شامل ہے۔ آثار السنن کا تکملہ ابھی غیر مطبوع ہے، جبکہ علوم حدیث کے موضوع پر متعدد مقالات اور تحریریں کسی مجموعہ میں شامل ہونے کی منتظر ہیں۔ ایک طویل عرصہ تک حدیث کی مشہور کتابیں صحیح بخاری اور سنن ترمذی کا درس بھی دیا ہے چنانچہ ان دونوں نسخوں پر اپنے حواشی اور تعلیقات بھی تحریر کیے۔

فقہ خالد سیف اللہ کا موضوع ہے اور ان کی تصنیفی زندگی کا آغاز بھی اسی موضوع سے ہوا۔ 1976ء میں جب جامعہ رحمانی مونگیر میں زیر تعلیم تھے کہ حکومت کی طرف سے چلائی جانے والی جبری نسبندی تحریک کے تناظر میں ادارہ المباحث الفقہیہ کی جانب سے ایک مفصل سوالنامہ سید منت اللہ رحمانی کو وصول ہوا، انہوں نے خالد سیف اللہ کو اس سوالنامہ کا جواب لکھنے کی ذمہ داری دی۔ یہی جواب بعد میں "فیملی پلانگ اور اسلام" کے نام سے دار التصنیف ہاپور سے شائع ہوا اور اب جدید فقہی مسائل جلد سوم کا حصہ ہے۔ جدید فقہی مسائل کو انہوں نے اپنی تحقیق کا موضوع بنایا اور متعدد تحقیقات پیش کیں۔ فقہ کے موضوع پر لکھی جانے والی تحریروں میں ائمہ اربعہ کے علاوہ صحابہ و تابعین اور محدثین کی آراء سے استفادہ، ائمہ کی آرا کے درمیان میں تطبیق و ترجیح، مقاصد شریعت کی رعایت ،مسائل کے حل میں عرف و زمانہ سے آگہی ،دلائل کی بنیاد پر دوسرے امام کی رائے پر فتوی ،اسی طرح ضرورت پڑنے پرخود ائمہ احناف کے مفتی بہ قول کے علاوہ دوسرے قول پر فتوی ،اور مسائل کی تحقیق میں اجتہادی شان ،یہ وہ امتیازی پہلو ہیں جو دوسرے مصنفین سے آپ کو ممتاز کرتی ہیں۔ جدید مسائل کیسے حل کیے جائیں؟اس سلسلہ میں مولانا نے مسائل کے تبدیلی کے اسباب اور حل کے رہنما اصول سے متعلق تفصیلی تحریر جدید فقہی مسائل کے شروع میں بطور مقدمہ شامل کیا ہے، اس کے علاوہ اجتہاد،تقلید ،تلفیق ،دیگر دبستان فقہ استفادہ ،اجتماعی اجتہاد ،جیسے موضوعات پر آپ کے تحقیقی مقالات ہیں جس میں آپ کی فکر پوری طرح واضح ہو کر سامنے آتی ہے ،اس طرح آپ نے جدید مسائل کے حل کے لیے رہنمااصول بھی بتائے اور پھر عملی طور پر اسے برت کر دکھایا ۔

فقہ کے موضوع پر مولانا کے قلم سے بڑا علمی سرمایہ تیار ہو گیا ہے ،آپ کی کتاب جدید فقہی مسائل کو جو پزیرائی ملی وہ کم کتابوں کو ملی ہوگی ،یہ پہلے دو جلدوں میں شائع ہوئی تھی،جس میں ہر باب سے متعلق جدید مسائل کا بیان تھا ،اب یہ پانچ جلدوں میں شائع ہو رہی ہیں، اخیر کی تین جلدیں آپ کے فقہی مقالات پر مشتمل ہیں،جو موضوعی ترتیب :عبادات کے مسائل ،معاشرتی مسائل اور معاشی مسائل کے عنوان سے ہیں، اس کتاب کا ترجمہ و تلخیص عربی میں نوازل فقہے ۃ معاصرۃ کے نام سے شائع ہو چکی ہے ،اس پر مشہور فقیہ د۔ و ہبہ زحیلی کا مقدمہ ہے،اس کا فارسی ترجمہ بھی ایران سے شائع ہوا ہے۔ کتاب الفتادی چھ جلدوں پر مشتمل آپ کی فتاوی کا مجموعہ ہے جو روزنامہ منصف اور دوسرے اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے تھے،اس کی مزید کئی جلدیں زیر تربیت ہیں ،اس میں جدید مسائل کثرت سے آئے ہیں ،اخبار کے قارئین کے لحاظ سے مسائل میں مصالح کا پہلو، آسان زبان ،سہل اسلوب جو اب کے ساتھ نصیحت اورتذکیر، یہ اس کتاب کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ قاموس الفقہ آپ کی بلا مبالغہ ایک شاہکار تصنیف ہے ،یہ اسلامی علوم کا ایک عظیم الشان انسا ئیکلوپیڈیاہے ،جس میں حروف تہجی کے اعتبار سے شرعی مسائل کے علاوہ فقہی اصطلاحات ،ایمان و کفر سے متعلق اہم مسائل اور مستشرقین کے تختہ مشق بنائے موضوعات مثلا پردہ ،جہاد وغیرہ کی وضاحت کی گئی ہے ،کتاب پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے ،ہر جلد پر ہندوستان کے مشاہیر اہل علم میں سے کسی ایک کا مقدمہ ہے،ان حضرات نے مذکورہ کاوش کو جس طرح سراہا ہے اور جن تاثرات کا اظہار کیا ہے اس سے کتاب کی قدر منزلت کا اندازہ ہو تا ہے۔ کئی سال قبل جب اس کتاب کی پہلی جلد اشاعت پزیر ہوئی تو اس کے مقدمہ میں حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ نے تحریر فرمایا تھا: یہ کتاب مکمل ہونے کے بعد انشاء اللہ بڑی مفید اور اپنے موضوع پر منفرد ہوگی ،جس میں مصنف کی وسعت مطالعہ ،وقت نظر ،مسائل حاضرہ سے واقفیت اور ان کے حل کی مخلصانہ فکر اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسلاف کے نقش قدم پر چلنے کا جذبہ نمایاں ہے ۔

ان کے علاوہ اسلام کا نظام عشرو زکوۃ ،طلاق و تفریق ،نیا عہد نئے مسائل ،خواتین اور انتظامی مسائل ،مسجد کی شرعی حیثیت ،آسان اصول فقہ ،مختارات النوازل کی تحقیق و تعلیق مولانا موصوف کی اہم فقہی کاوشیں ہیں،یہ تمام کتابیں اپنے موضوع پر اہم شمار کی جاتی ہیں اور تحقیقی رنگ لیے ہوتی ہیں ،اصول فقہ سے متعلق آپ کے محاضرات کا مجموعہ ابھی غیر مطبوعہ شکل میں ہے۔ مولانا نے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز جن کتابوں سے کیا ان میں علامہ سید سلیمان ندوی کی مشہور کتاب’ رحمت عالم‘ بھی ہے ،اس کتاب کو پڑھانے کے لیے مولانا سیرت ابن ہشام کا مطالعہ کرتے ،سیرت ابن ہشام مولانا کو بہت پسند آئی،چنانچہ آپ نے اردو میں اس کی تلخیص فرمائی ،یہ مختصر سیرت ابن ہشام کے نام سے شائع ہوئی ہے ،خطبات سیرت سیریز بنگلور کے لیے آپ بھی مدعو کیے گئے، آپ نے اپنے خطبہ کے لیے پیغمبر انسانیت کا عنوا ن منتخب کیا اور پھر جس دلنشیں انداز میں اس اچھوتے موضوع پر اپنا خطبہ پیش کیا وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے ،خطبہ ہونے کی حیثیت سے جہاں زور اور روانی ہے وہیں علمی مواد ،سیرت کے واقعات سے نتائج کا استنباط ،اس کتاب کی مایاں خصوصیت ہے۔ روزنامہ مصنف کے کالم شمع فروزاں میں سیرت کے موضوع پر جو تحریریں لکھیں ہیں ان کا مجموعہ ’پیام سیرت عصر حاضر کے پس منظر میں‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ اس کتاب کی خاص خوبی یہ ہے کہ اس میں سیرت محمدی ﷺ کے نقوش اجاگر کرنے کے ساتھ سیرت کے مختلف واقعات سے مسلمانوں کو جو سبق ملتا ہے ،جو رہنمائی حاصل ہوتی ہے اس کو اجاگر کرنے کی خاص طور پر کوشش کی گئی ہے، اس طرح یہ اہل علم کے ساتھ عام قارئیں کے لیے بھی قابل قدر علمی تحفہ بن گیا ہے ۔

فقہی دنیا کی معروف شخصیت حضرت مولانا قاضی مجاہدالا سلام قاسمی کے انتقال کے بعد مولانا نے بحث و نظر کا خصوصی شمارہ قاضی نمبرمرتب کرکے شائع کیا ،یہ تقریبًا آٹھ سو صفحات پر مشتمل ہے اور ایک علمی دستاویزی مجلہ کی حیثیت رکھتا ہے ،اس کی ابتدا میں حضرت قاضی صاحب کے حالات زندگی، آپ کی خدمات اور علمی کاموں کے تعارف پر ایک مسبوط تحریر ثبت کیا،یہ تحریر’ حیات مجاہد‘ کے نام سے شائع ہوئی ہے ،حضرت قاضی صاحب ،آپ کی خدمات اور آپ کے افکار کو سمجھنے کے لیے یہ بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ان کے علاوہ ہندوستان کے مختلف علمی و دینی شخصیات پر آپ قلم اٹھاتے رہے ہیں،اس طرح وفیاتی مضامین اور اپنے اساتذہ سے متعلق تحریروں کا مجموعہ ’’وہ جو بیچتے تھے دوائے دل ‘‘ کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ المعہدالعالی کے قیام کے سلسلہ میں مولانا کے ذہن میں جو خاکہ تھا اس میں غیر مسلموں میں دعوت دین کا فریضہ انجام دینے کے لیے افراد کی تربیت و ذہن و سازی بھی ہے،اس مقصد کے تحت ابتدا سے ہی دعوت کا شعبہ قائم ہے ،جہاں نظری و عملی دونوں تربیت کا انتظام ہے ،اس کے لیے نصاب کے لیے مولانا نے خود ہی ایک کتاب تیار کی ہے جس میں دعوت کی اہمیت اور طریقہ کار سے متعلق آیات واحادیت کو جمع کیا ہے اور پھر ان سے مستنبط ہونے والے مسائل کی وضاحت کی ہے۔ یہ اہم کتاب عربی میں ’الدعوۃ الی اللہ‘ کے نام سے شائع ہو گئی ہے ۔ ان کے علاوہ مدارس کے طلبہ کے لیے آسان دینیات ،منصف کے مضامین کا مجموعہ نقوش موعظت،عصر حاضر کے سماجی مسائل ،دینی و عصری تعلیم :مسائل اور حل، شمع فروزاں، دعوتی و تذکیری انداز کی کتابیں ہیں ۔ آپ کی بقیہ کتابیں حسب ذیل ہیں: راہ اعتدال علما احناف اور علما اہل حدیث کے مابین بعض اختلافی مسائل کی تو ضیح اور دونوں مکتب فکر کے درمیان میں اختلاف کو علمی اختلاف کا رنگ دینے اور افراط و تقریط سے بچنے کی معتدلا نہ فکر پیش کی گئی ہے۔ مروجہ بدعات : فقہا ء اسلام کی نظر میں مختلف بدعات کے بارے میں فقہا کی آراء پر مشتمل مسلم پرسنل لا ایک نظر میں مسلم پرسنل لا اور اس کی سرگرمیوں پر مشتمل یہ کتاب حیدرآباد میں بورڈ کے اجلاس کے مو قعہ پر پیش کی گئی۔ حقائق اور غلط فہمیاں منصف کے مضامین کا مجموعہ عورت اسلام کے سائے میں اسلام میں عورت کے حقوق کا دیگر مذاہب سے موازنہ کیا گیا ہے ۔ سفر نامہ مختلف مما لک اور ہندوستان کے بعض اہم اسفار کی دلچسپ و معلومات افزاء روئداد،وہاں کے حالات وواقعات پر مشتمل ہے۔[4]

شعرو ادب کا ذوق[ترمیم]

اللہ تعالی نے مولانا کو شعرو ادب کا بھی خاص ذوق عطا فرمایا ہے، آپ کی کوئی بھی تحریر ادبی چاشنی اور زبان و بیان کی حلاوت سے خالی نہیں ہوتی ،فقہ کے دقیق اور خشک مسائل کی توضیح و تشریح میں بھی زبان کی مٹھاس باقی رہتی ہے ،جدید فقہی مسائل ،حلال وحرام ،قاموس الفقہ ،کوئی بھی کتا ب اٹھا لیجئے! کہیں آپ کو بوجھل پن، الفاظ کانامناسب استعمال یا ثقالت نظر نہیں آئے گا ،بلکہ آپ ہر جگہ اور ہر عبارت میں روانی ،سلاست اور زبانی حلاوت محسوس کریں گے ،مولانا کی کتابوں کی مقبولیت اور زیاد ہ پڑھی جانے کا ایک راز یہ بھی ہے ،فقہ کے علاوہ اصلاحی و تذکیری انداز کی تحریروں ،شخصیات کے تعارف میں خاکہ نگاری ،سفر ناموں میں منظر کشی میں آپ کا ادبی ذوق طبیعت پر غالب آجاتا ہے اور آپ کا قلم گل بوٹے کھلاتا اور موتی رولتا نظر آتا ہے۔ نمونہ کے چند اشعار

یہ بہار و کیف ،یہ دلکش گلستاں وچمن

یہ سبھی ہیں اس کے حسن نازکی اک انجمن

وہ نہیں رہتا ہے سنگ و خشت کی دیوار میں

وہ نہیں رہتا ہے عیش و طرب کے بازار میں

وہ نہیں رہتا ہے کوہ و دشت میں یا غار میں

ہاں اگر رہتا ہے تو رہتا ہے قلب یار میں

ہر جگہ موجود ہے ہر گام پہ رہتا ہے وہ

بادشاہوں کی نہیں ،مظلوموں کی سنتا ہے وہ

بابری مسجد کی شہادت کے بعد جب مدینہ منورہ حاضر ہوئے تو دل کے زخموں کو رسالت مآب کی خدمت میں اس طرح پیش کیا:

کچھ غلامان ہندی ہیں آئے ہوئے

چوٹ کھائے ہوئے دل دکھائے ہوئے

خون دل میں سراپا نہائے ہوئے

زخم سینوں میں اپنے سجائے ہوئے

سنگ پر سنگ ہنس ہنس کے کھائے ہوئے

غم کے بادل ابھی تک ہیں چھائے ہوئے

ایک مدت ہوئی گیت گائے ہوئے

ایک زمانہ ہوا مسکرائے ہوئے

ہیں کھڑے چشم پرنم جھکائے ہوئے

ہاتھ اپنی طلب کے اٹھائے ہوئے[5]

صحافت سے تعلق و وابستگی[ترمیم]

مولانا کی خدمات کا ایک روشن پہلو صحافت بھی ہے ،آپ نے صحافت کو اپنا ذریعہ معاش تو کبھی نہیں بنایا ،البتہ ہمیشہ اس سے جڑے رہے اور اسے اپنی فکر و خیال کے اظہار کا ذریعہ بنا کر اس وسیع میدان سے فائدہ اٹھایا ،اور امت کی رہنمائی اور ان میں دینی مزاج پیدا کرنے میں لگے رہے ۔ مونگیر کے زمانہ طالب علمی میں ہی مولانا کا پہلا مضمون ہجرت سے متعلق ہفت روزہ نقیب میں شائع ہوا تھا ،فراغت کے بعد دو سال امارت شرعیہ میں قیام رہا ،اس زمانہ میں نقیب میں مسلسل آپ کے مضامین شائع ہوتے رہے ،رانچی میں بورڈ کے اجلاس کے موقع پر نقیب کا پرسنل لا نمبر ،اور پھر اس کے بعد مولانا سجاد نمبر کی ترتیب میں شریک ہے، حیدرآباد پہنچے تو وہاں ماہانہ رہگزر ،پندرہ روزہ ’قرطاس و قلم‘ کو اظہار خیال کا ذریعہ بنایا ،دار العلوم سبیل السلام سے سہ ماہی ’ صفا ‘جاری کیا اور اس کی ادارت میں شریک رہے ،اس کے دو خصوصی شمارے ادب اسلامی نمبر اور فقہ اسلامی خدمات اور تقاضے نمبر آپ کے صحافتی ذوق کی کامیابی مثال ہے۔ ادھر تقریبًا 1998ء سے روزنامہ منصف حیدرآباد کے جمعہ ایڈیشن میں دو کالم دینی و اصلاحی مضامین پر مشتمل شمع فروزاں اور شرعی مسائل مسلسل لکھ رہے ہیں ،المعہد العالی کے قیام کے بعد آپ نے سہ ماہی ’حراء ‘جاری کیا ،جو بعد میں سالانہ ہو گیا، اس کی ادارت بھی آپ سے متعلق تھی ،اب فقہی مسائل پر منفرد مجلہ سہ ماہی ’بحث و نظر‘ آپ کی ادارت میں شائع ہو رہا ہے ،ان کے علاوہ مستعد رسائل و جرائد کے نگراں و شریک ادارت ہیں۔[6]

امتیازی خصوصیات[ترمیم]

مولانا جہاں ایک عظیم علمی شخصیت کے مالک ہیں وہیں آپ کی زندگی میں متعد د ایسے اوصاف وخصوصیات ملتے ہیں جن کی وجہ سے آپ کا قد اپنے ہمعصروں کے درمیان ممتاز اور نمایاں نظر آتا ہے ،آپ کی شخصیت کا سب سے امتیازی پہلو فکری اعتدال ہے ،یہ اعتدال و توازن آپ کے فکر و عمل میں پوری طرح رچا بسا نظر آتا ہے ،فقہی تحریروں میں اسلاف کے علمی سرمایہ، فقہا کے اختلافات ،محدثین کی آراء، صاحب تحریر کی تحقیق اور زمانہ کے تقاضوں کی رعایت ان سب سے بیک وقت وابستہ پڑتا ہے ،ایسے موقع حسب مراتب ومدارج احکام و آراء کو مناسب حیثیت دینا ،قلم کو اعتدال کے دائرے میں رکھنا اور انصاف کے دامن کو تھامے ہوئے تطبیق و ترجیح کا فیصلہ کرنا بڑا نازک اور جانگسل کام ہوتا ہے ،بلاشبہ مولانا اس وادی سے کامیاب گزرے ہیں ،آپ کی تحریریں اس باب میں نمونہ اور مثال کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مولانا حنفی دبستان فقہ سے تعلق رکھتے ہیں ،لہذا عام مسائل میں آپ فقہ حنفی کے پابند ہوتے ہیں اور اسی کے مطابق فتوی دیتے ہیں ،مگر جب نئے مسائل میں غور کرتے ہیں یا عرف کی تبدیلی ،سیاسی اور معاشی نظام میں تغیر،حالات کی تبدیلی کی بنیاد پر کسی قدیم مسئلہ کو غور و فکر کا موضوع بناتے ہیں تو کتاب و سنت کے نصوص کے ساتھ صحابہ و تابعین کی آراء، ائمہ اربعہ و دیگر فقہا متقدمین کے استنباطات کو سامنے رکھتے ہیں ،مقاصد شریعت اور مصالح شریعت پر نظر رہتی ہے ،فقہا کے اصول بھی اور زمانہ کے تقاضے بھی پیش نظر ہوتے ہیں، ان ساری چیزوں کو سامنے رکھ دلائل کی قوت اور دیگر چیزوں کی رعایت کے ساتھ کسی حکم تک پہنچتے ہیں ۔ مسائل کے حل کے عمل میں مولانا کی حیثیت ایک بالغ نظر محقق کی ہوتی ہے ،جو فن پر حاوی ہے ،اور اس فن کے بنیادی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اعتدال اور توازن کے ساتھ کوئی رائے پیش کرتا ہے ۔ مولانا کا دوسرا امتیازی وصف علم و عمل میں تنوع ہے ،مولانا کا اصل موضوع فقہ اور بالخصوص جدید مسائل ہے ،مگر جیسا کہ پیچھے گزرا مولانا قرآنیات ،حدیث ،فقہ و اصول فقہ ،عربی زبان ،مقاصد شریعت اور ان سب سے متعلق ذیلی فنون پر نہ صرف گہری نظر رکھتے ہیں بلکہ ان میں سے اکثر موضوعات پر آپ کی علمی نگار شات بھی ہے جو مختلف علوم سے واقفیت پر شاہدعدل ہیں۔ علم کی طرح عملی زندگی بھی متنوع ہے، تدریس آپ کا سب سے محبوب مشغلہ رہا ہے،اور حیات مستعار کے زیادہ تر لمحات اسی میں صرف ہوئے ،تدریس کے ساتھ انتظامی امور کو سنبھا لنا اور دونوں ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونا عموما مشکل ہوتا ہے۔ مولانا کے ساتھ یہ مسائل شروع سے متعلق رہے اور آپ دونوں ذ مہ د اریوں کو بحسن و خوبی نبھاتے رہے ،ان کے علاوہ مولانا غیر مسلموں میں دعوتی کام کا بڑا جذبہ رکھتے ہیں ،آپ نے المعہد العالی میں اس کا مستقل شعبہ قائم کیا، جہاں دعوتی کیمپ بھی لگواتے ہیں ،اور طلبہ عملی طور پر بھی اس کام کی مشق کرتے رہے، آپ ان سارے کاموں کی نگرانی فرماتے ہیں اسی کی ساتھ حیدرآباد شہر کا دعوتی مرکز ’دی ٹرو میسیج سنٹر ‘آپ کی نگرانی میں ہی اپنی سرگرمیاں انجام دیتا ہے ،علمی و دعوتی اسفار ،متعدد مدارس کی نگرانی ،تنظیموں اور اداروں سے وابستگی اور ملی کاموں میں شرکت اور بطور خاص اسلامک فقہ اکیڈمی دہلی کی سرگرمیوں کی نگرانی ان سب پر مستزاد ہیں۔ تیسرا اہم امتیازی پہلو اافراد سازی کا ملکہ ہے ،اللہ تعالی نے افراد کی تربیت اور فضلا مدارس میں علمی ذوق وشوق پیدا کرنے کی خاص صلاحیت آپ میں رکھی ہے ،آپ کی اس خصوصی صلاحیت کا اعتراف اکابر علما نے کیا ہے ، مولانا اپنے چھوٹوں سے بڑی محبت کرتے ہیں ،طلبہ پر ایسی شفقت فرماتے کہ ہر طالب علم یہ سمجھتا ہے کہ مولانا مجھے زیادہ چاہتے ہیں ،مولانا انہیں اپنے فرزندوں کی طرح اور بسااوقات اس سے بڑھ کر چاہتے ہیں ،چھوٹے کام پر بھی اس قدر خوشی کا اظہار کرتے اور ایسی حوصلہ افزائی کرتے کہ بڑے سے بڑے کام کا جذبہ اس کے اندر پیدا ہو جاتا ہے، کسی سے تھوڑا بھی علمی تعاون لیں تو مقدمہ میں ان کا ذکر ضرور کرتے ہیں ،طلبہ کے مقالات کی نظر ثانی کے وقت نہ صرف سطر سطر پڑھ کر اس کی ہر اعتبار سے اصلاح کرتے ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر اپنی طرف کئی پیراگراف لکھ بھی دیتے ہیں ۔ علمی کاموں سے مولانا بے حد خوش ہوتے ہیں اور کھل کر اس کی پزیرائی کرتے ہیں ،کام اس درجہ کا ہو یا نہ ہو ،مگر مولانا اس طرح تاثر کا اظہار کرتے ہیں گویا کوئی بڑا کام کیا ہے ،مولانا کا ایک امتیازی پہلو آپ کا اسلوب نگارش بھی ہے ،علمی مواد کے ساتھ زبان وبیان کی چاشنی بھی ہو تو تحریریں میں شتابہ لگ جاتا ہے ،مولانا کی تحریروں کا یہی حال ہے ،مولانا کی کتابوں کی مقبولیت میں اس کا بھی بڑا دخل ہے ،فقہ کی کتابیں عمومًا خشک شمار کی جاتی ہیں ،مگر مولانا کی فقہی تحریروں میں ایسی سلاست، روانی اورشستگی نظر آتی ہے جو آپ کے ادبی ذوق حصہ ہے ۔[7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. پیام سیرت،مولف مولاناخالد سیف اللہ رحمانی(مضمون مصنف کتاب ایک تعارف از مولانامنورسلطان ندوی)،ص:21،ناشرعلامہ سید سلیمان ندوی ریسرچ سنٹر لکھنؤ،دوسرا ایڈیشن:2010ء
  2. قاموس الفقہ از خالد سیف اللہ رحمانی (مضمون حرفے چند صاحب کتاب کے بارے میں از مولانا مولانااشرف علی قاسمی) ج1،ص:200، ناشر کتب خانہ نعیمیہ دیوبند، پہلا ایڈیشن،2007
  3. پیام سیرت مولف مولاناخالد سیف اللہ رحمانی (مضمون مصنف کتاب ایک تعارف از مولانامنورسلطان ندوی)، ص:22، ناشرعلامہ سید سلیمان ندوی ریسرچ سنٹر لکھنؤ، دوسرا ایڈیشن:2010ء
  4. پیام سیرت مولف مولاناخالد سیف اللہ رحمانی (مضمون مصنف کتاب ایک تعارف از مولانامنورسلطان ندوی)،ص:30،ناشرعلامہ سید سلیمان ندوی ریسرچ سنٹر لکھنؤ،دوسرا ایڈیشن:2010ء
  5. قاموس الفقہ مولف مولاناخالدسیف اللہ رحمانی(مضمون حرفے چند صاحب کتاب کے بارے میں از مولانااشرف علی قاسمی،ص:225،ناشر کتب خانہ نعیمہ،پہلا ایڈیشن،2007
  6. پیام سیرت مولف مولاناخالد سیف اللہ رحمانی (مضمون مصنف کتاب ایک تعارف از مولانامنورسلطان ندوی)،ص:33،ناشرعلامہ سید سلیمان ندوی ریسرچ سنٹر لکھنؤ،دوسرا ایڈیشن:2010ء
  7. پیام سیرت مولف مولاناخالد سیف اللہ رحمانی(مضمون مصنف کتاب ایک تعارف از مولانامنورسلطان ندوی)،ص:37،ناشرعلامہ سید سلیمان ندوی ریسرچ سنٹر لکھنؤ،دوسرا ایڈیشن:2010ء


سانچہ:دار العلوم ندوۃ العلماء