خانان قاراخانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
قراخانی ریاست بمطابق 1000ء

خانان قاراخانی یا قاراخانی خانیت، قرون وسطی کی ایک ترک ریاست تھی، جو قاراخانیوں، جو ایلیق خانی بھی کہلاتے تھے، نے قائم کی جو کہ ایک ترک خاندان تھا۔ یہ ریاست 840ء سے 1211ء تک وسط ایشیا میں ماورا النہر میں قائم رہی۔ ان کا دارالحکومت پہلے کاشغر پھر بلاساگن، اوزگین اور پھر دوبارہ کاشغر رہا۔ ریاست کا نام دو ترک لفظوں قارہ (یا قرہ) اور خان سے بنا ہے، قارا کامطلب ترک زبان میں "کالا" یعنی معزز اور خان کا لقب ہے ریاست کے حکمران کو دیا جاتا ہے، جو اصل میں خاقان ہے۔

تاریخ[ترمیم]

ابتدائی تاریخ[ترمیم]

پہلی اویغور سلطنت سے تسلسل اور قاراخوجہ سے قرابت داری کے علاوہ قاراخانی افسانوی افراسیاب شاہی سلسلہ یا خاندان کی نسل ہونے کے بھی دعوے دار تھے۔ عمودی لکھے جانے والا اویغور رسم الخط تیموریوں کے وقت سے مغربی ترکستان میں مسلمان ترکوں کے درمیان خاصہ استعمال ہونے لگا تھا اس کے ساتھ ساتھ مشرقی ترکستان کے کچھ حصوں میں مانچو دور حکومت میں مروج ہو گیا تھا۔

قاراخانی اور قاراخیتان ریاستوں کے خانہ بدوش عناصر نے جدید قپچاق ترک بولنے والی قازق، کرغز اور تاتار ثقافتوں کی بنیاد رکھی۔ قاراخانی تہذیب کے کچھ اسلامی اور ایرانی اثرات آج بھی تاجک، ازبک، افغان، ہوئی اور اویغور لوگوں میں پائے جاتے ہیں، جن میں سے دو چغتائی ترک زبان بولنے والے ہیں۔

ابتدائی ہجرتیں[ترمیم]

اویغوروں کی ایک شاخ دریائے گانسو اور تارم دریا کے طاس کے نخلستانوں کو ہچرت کر گئی، جس نے گاؤچانگ (خوجہ) اور ہامی (کومول)، اور بدھ ریاستوں کا ایک قاراخوجہ نام کا وفاق تشکیل دیا۔ دوسروں نے تارم دریا کے مغربی طاس، وادی فرغانہ، جنگاریا اور قازقستان کی مسلم سلطنت خوارزم کے سرحدی حصوں پر قبضہ کر لیا۔ وہ 10 ویں صدی عیسوی تک مسلمان ہوگئے اور ان ہی میں سے ابھرنے والے شاہی خاندان کو تاریخ میں قاراخانی کہا گیا ہے۔

999ء میں ہارون (یا حسن) بغرا خان نے، جو اویغور کارلوک اتحاد کے سردار کا پوتا تھا، سامانی سلطنت کے دارالحکومت بخارا پر قبضہ کر لیا۔ سامانی سلطنت کے علاقے خراسان اور افغانستان، سلطنت غزنویہ اور ماورا النہر قاراخانیوں کے قبضے میں چلے گئے، اس طرح آمو دریا دونوں حریف سلطنتوں کے درمیان سرحد بن گیا۔ اس دورانیے میں قاراخانیوں نے اسلام قبول کر لیا۔

11 ویں صدی عیسوی کے شروع میں قاراخانیوں کا اتحاد اندرونی خانہ جنگیوں کی وجہ سے ٹوٹ گیا۔ 1041ء میں محمد عین الدولہ ( دور حکومت: 52-1041ء) نے سلطنت کے مغربی علاقوں کی حکومت سنبھالی، جس کا مرکز بخارا تھا۔ 11 ویں صدی کے آخر میں ایران میں سلجوقوں کے عروج سے قاراخانی سلجوقوں کے باجگذار بن گئے۔ بعد میں انہوں نے شمال میں خانان قاراختان اور جنوب میں سلجوقوں کے اقتدار کے آگے سر جھکایا۔

سلجوقوں کے زوال کے بعد 1140ء میں قاراخانی، شمالی چین میں حریف ترک قاراختائی اتحاد کے اقتدار کے نیچے آ گئے۔ عثمان (دور حکومت:11-1204ء) نے تھوڑی مدت کے لئے خاندان کی آزاد حکومت کو بحال کیا، لیکن 1211ء میں قاراخانیوں کو محمد علاؤ الدین خوارزم شاہ نے شکست دی اور اس قاراخانی سلسلہ شاہی کا خاتمہ ہو گیا۔

مشہور قاراخانی حکمران[ترمیم]

تاریخی اہمیت کے حامل قارا خانی حکمرانوں میں کاشغر کا محمود تامگاچ شامل ہے۔

اس کے علاوہ قارا خانی فوج کے کئی فوجی کمانڈر شہرت کے حامل ہوئے جن میں عثمان خوارزمی نے 1244ء میں مصر کے مملوکوں کی دعوت پر، اپنی فوج بیت المقدس بھیجی اور مسلمانوں کی کی طرف سے اس مقدس شہر کو صلیبیوں سے آزاد کروایا۔

قارا خیتانی حملہ[ترمیم]

زوال[ترمیم]