خانزادہ سلطان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شہزادی سلطنت عثمانیہ
خانزادہ سلطان
شہزادی سلطنت عثمانیہ
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1609  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
استنبول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 23 ستمبر 1650 (40–41 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
استنبول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن ایاصوفیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Ottoman flag.svg سلطنت عثمانیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب سنی اسلام
والد احمد اول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ ماہ فیروز خدیجہ سلطان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
خاندان عثمانی خاندان
نسل ایک بیٹی
دیگر معلومات
پیشہ ارستقراطی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

خانزادہ سلطان (پیدائش: 1609ء– وفات: 21 ستمبر 1650ء) سلطنت عثمانیہ کی شہزادی تھیں۔ وہ سلطان سلطنت عثمانیہ احمد اول اور کوسم سلطان کی بیٹی تھیں۔

سوانح[ترمیم]

خانزادہ سلطان کی پیدائش 1609ء میں استنبول میں ہوئی۔ اُن کی والدہ ملکہ کوسم سلطان اور والد عثمانی سلطان احمد اول تھے۔ خانزادہ سلطان سلطان عثمان ثانی، مراد رابع اور ابراہیم اول کی بہن تھیں جبکہ سلطان محمد رابع کی پھوپھی تھیں۔ خانزادہ سلطان کی ابتدائی زندگی سے متعلق معلومات بہت کم میسر ہوئی ہیں۔ 22 نومبر 1617ء کو والد احمد اول کا انتقال ہوا تو خانزادہ محض 9 سال کی تھیں۔ 1623ء میں اُن کی شادی بیرم پاشا (وزیراعظم) سے ہوئی جس کا انتقال 26 اگست 1638ء کو ہوا۔ ستمبر 1638ء میں خانزادہ سلطان نے نخاس مصطفیٰ پاشا سے شادی کرلی۔ خانزادہ سلطان کے تین بھائی عثمان ثانی (سوتیلا)، مراد رابع اور ابراہیم اول سلطان بنے اور اُن کا بھتیجا محمد رابع بھی سلطان بنا۔ ابراہیم اول کے عہدِ حکومت میں خانزادہ سلطان کا سیاست و حکومت سے اثر و رسوخ کم ہوتا گیا اور وہ فاطمہ سلطان (دختر احمد اول) اور کایا سلطان کے ہمراہ رہنے لگیں۔ 21 ستمبر 1650ء کو 41 سال کی عمر میں استنبول میں انتقال کرگئیں اور مسجد ایا صوفیہ میں تدفین کی گئی۔ خانزادہ سلطان کی وفات کے وقت اُن کی والدہ کوسم سلطان بقیدِ حیات تھیں۔[1][2]

مزید پڑھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]