خانقاہ سراجیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ڈنگ کھولہ خانقاہ سراجیہ
قصبہ and union council
ملک Pakistan
پاکستان کی انتظامی تقسیم پنجاب، پاکستان
ضلع ضلع میانوالی
تحصیل تحصیل پپلاں
منطقۂ وقت پاکستان کا معیاری وقت (UTC+5)

.ڈنگ۔کھولہ ۔ بکھڑا شریف۔خانقاہ سراجیہ (انگریزی: DING, KHOLA , KHANQAH SIRRAJIA۔BAKHHARA SHARIF KACHA) پاکستان کا ایک پاکستان کی یونین کونسلیں جو ضلع میانوالی میں واقع ہے۔[1] حضرت خواجہ میاں نور محمد گھنجیرہ

برصغیر پاک 'ہند میں چند بزرگان دین نے کلمہ توحید کا علم بلند کرتے ہوئے لافانی کردار ادا کیا ہے۔

اس وقت ایک قریش خاندان جنوب سے بکھڑا شریف تشریف لائے جو غونث علی کے نام سے مشہور تھے اور جانڈلو قریشی کہلاتے تھے۔ان کے مریدین میں تلوکر قبیلہ کے علاوہ کنڈھل عیسی خیل اور کندیاں میانوالی کے قبائل شامل تھے۔انہی کے دور میں چدھرڑ خاندان کے مخدوم میاں غلام محمد بکھڑا شریف والے بھی مشہور بزرگ ہیں جن کا مخدوم قبیلہ ابھی بھی موجود ہے۔ ان میں اک عظیم نام حضرت خواجہ میاں نور محمد گھنجیرا کا ہے آپ کا شجرہ نسب حضرت علی اور شجرہ طریقت حضرت صدیق اکبر سے ملتا ہے برصغیر کے لاکھوں غیر مسلم آپ کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام ہوئے اور خاص کر سرائیکی بیلٹ میں حضرت خواجہ میاں نور محمد گھنجیرا نے ڈیرا اسماعیل خان ' میانوالی ' مظفر گڑھ 'لیہ ' عیسیٰ خیل ' کندیاں میں دینِ اسلام کے لیے کام کیا۔ اور آپکا خاندان مٹھہ ٹوانہ ضلع خوشاب میں آباد ہے جبکہ ضلع میانوالی میں گھنجیروں کے اٹھارہ دیہات ہیں اور ستر ہزار کی آبادی ہے جو بطورِ قوم اور پاکستان کے علاقہ ہائے رحیم یار خان 'سندھ 'لیہ ' مظفر گھڑھ 'جھنگ 'ڈیرہ اسماعیل خان'عیسیٰ خیل' سلطان خیل سے ہر سال زائرین لاکھوں کی تعداد میں آتے ہیں آپ کا عرس مبارک ہر سال چیت کی آخری جمعرات کو منایا جاتا ہے حضرت خواجہ میاں نور محمد گھنجیرا کا سلسلہ نقشبندیہ ہے حضرت خواجہ میاں نور محمد گھنجیرا کے بارے سلطان العارفین حضرت سلطان باہو کا ارشاد ہے کہ جسے جلدی ہو وہ

حضرت خواجہ میاں نور محمد گھنجیرا کے پاس جائے کیونکہ سوالیوں کی مشکالات  اپنے رب سے اپنے حبیب کے صدقے پہنچاتے ہیں اور مشکالات رفع کرواتے ہیں آپ مٹھہ ٹوانہ جیسی جگہ چھوڑ کر ہجرت کرکے عیسیٰ خیل سلطان خیل میں سالوں تک ویرانوں میں عبادت کی اور اچھرال(میانہ) قوم کے ساتھ چشمہ کے مقام پر ڈیرا لگایا اور آپکی اکلوتی بہن اور بھانجے  بھی آپ کے ساتھ زیرے خاک ُسکون میں ہیں 

حضرت خواجہ میاں نور محمد گھنجیرا کی اولادِ نرینہ نہ تھی اور حضرت میاں مراد وند کو دعادی تھی کیونکہ وہ اکثر حضرت میاں ذکری سلطان کے پاس آتے تھے اور میاں مراد وند کو دعائیں دیتے تھے حضرت خواجہ میاں نور محمد گھنجیرا کا سلسلہ تبلیغ بہت زیادہ ہے اور ان کی سرائیکی بیلٹ میں تبلیغِ اسلام کے لیے خدمات کو بھلایا نہیں جا سکتا اور چینی کمپنیوں کا اعتراف ہے کہ اسلام کے لیے بزرگانِ دین نےاپنے دین کے لیے جو محنت کی ہے وہ رائیگاں نہیں گئیں۔ کھولہ میں قلندر بادشاہ بھی اپنے وقت کے بزرگ ھو گزرے ہیں ان کے مزار پر میلہ بھی لگتا تھا خاص کر بیلوں کی دوڑ وغیرہ ۔۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

شہر خانقاہ سراجیہ پاکستان کی سب سے بڑی انفرادی لائبریری رکھنے والی یونین کونسل کھولہ کا حصہ ہے اس شہر کے مختلف ٹاون راجپوت خاندان تلوکر پر مشتمل ہیں جن میں درجہ ذیل قبائلی خیلیاں موجود ہیں۔تلوکر کی چھ بڑی خیلیاں۔١۔۔ جمالے خیل، ٢۔۔فوجے خیل۔٣۔۔مرزے خیل۔٤۔۔سکھے خیل ( زمان خیل و شاہباز خیل )۔٥۔۔رنگے خیل اور ٦۔۔جلال خیل ہیں ۔ ١-جمالے خیل کی خیلیاں جمالے خیل۔مستی خیل۔۔ حسن خیل نیازی خیل جوائے خیل حسین خیل لٹو خیل بخشے خیل۔کیمے خیل۔بگے۔بھابھے۔باقر خیل۔۔ اور رحمتے خیل۔بہو ۔ ۔٢- فوجے خیل کی خیلیاں فوجے خیل۔سکو خیل ۔۔مہرے خیل اور گونگے ۔۔٣-مرزے خیل کی مرزے خیل۔دول۔ ٤-�سکھے خیل کی زمان خیل۔شاہباز خیل۔ذکری خیل۔ ٥�۔۔ رنگے خیل کی رنگے خیل۔یارو خیل۔شادو خیل۔ مانڑے خیل۔۔شپاہی خیل۔علی خیل۔۔شیرے خیل ۔۔لال خیل۔۔ بڈھے خیل ۔۔بٹری۔ڈڈوو۔ڈیڈے۔۔۔لودھرے۔شیدی۔ موسی خیل۔۔مینڑیں۔۔ اور ٦- جلال خیل کی خیلیاں۔جلال خیل ۔۔صالت خیل ۔۔بلے ۔۔دھنڑائی خیل ۔۔گڈو خیل ۔۔بوئے وغیرہ شامل ہیں رانا برادری ١٩4٧ کو ہجرت کر کے ان علاقوں میں رہائش پزیر ہوئے جن میں راجپوت اور دوسرے قبیلے شامل ہیں

ڈرھال قبیلے کا تعلق بھی جٹ قبیلوں سے ہے

سید۔قریش۔مخدوم(چدھرڑ)۔ مشانی۔شیدی۔سولھڑ۔وینس۔ڈھڈی۔منڈے۔چھنل۔بلوچی خیل۔قریشی۔ناغڑ۔بوہے۔پھلےخیل۔ویٹھویں۔ٹھیٹھیئے۔کنیال۔�۔میانہ و اچھرال ۔۔حلالی ۔۔بھروں۔معراجی۔ڈھکو۔سیال۔کھچی۔اعوان(ولی�خیل)۔اعوان(حکیم علما)۔شیخ۔وٹو۔مقامی۔سیوڑے۔قریشی(مشینی سیلوبانڑ)۔ساندھی۔لیرے۔اورے۔پٹھان۔ مانک۔لودھرے۔موھانڑیں۔۔جولاہے۔مسلم شیخ۔۔ لوھار ، ترکھان،ماچھی،کمھار ۔ موچی۔قصائی ۔ وغیرہ بھی ان علاقوں میں آباد ہیں۔ان آبادیوں کی اکثریت ڈنگ،کھولہ بکھڑا وغیرہ سے ہجرت کرکے یہاں خانقاہ سراجیہ آباد ہوئے۔جبکہ 2014 کے بعد میانوالی کے مختلف علاقوں سے لوگ ہجرت کرکے یہاں آباد ہوئے جن میں نیازی اور مصری خیل وغیرہ شامل ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. انگریزی ویکیپیڈیا کے مشارکین۔ "Khola At Khanqah Sirajia"۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)