خدا کی بادشاہی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خدا کی بادشاہی (یونانی: Βασιλεία τοῦ Θεοῦ - Basileia tou Theou-، آرامی: ܡܠܟܘܬܐ ܕܐܠܗܐ ملكوثو دالوهو) کا تصور عموماً مشرق قدیم کے تمام مذاہب میں ملتا ہے۔ نیز یہ مسیحیت کے بنیادی تصورات میں سے ایک اور اناجیل میں یوحنا اصطباغی اور یسوع مسیح کے پیغام کا بنیادی محور ہے۔[1][2][3] عہد نامہ جدید میں خدا کی بادشاہی اور آسمانوں کی بادشاہی کے الفاظ سو سے زائد مرتبہ وارد ہوئے ہیں اور یسوع مسیح نے متعدد مرتبہ مثالوں کے ذریعہ ان الفاظ کی تشریح کی ہے۔

مرقس اور لوقا کی انجیلوں میں خدا کی بادشاہی کے الفاظ آئے ہیں، جبکہ متی کی انجیل میں اسی سے ملتا جلتا دوسرا لفظ یعنی آسمانوں کی بادشاہی (Βασιλεία τῶν Οὐρανῶν) استعمال ہوا ہے۔ محققین کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ متی کی انجیل لکھنے والا یہودی تھا اور اپنی انجیل کو یہود کے سامنے پیش کرنا چاہتا تھا، چنانچہ یہودی روایات کے بموجب اس انجیل کے کاتب نے اللہ نام کے استعمال سے گریز کرتے ہوئے آسمانوں کی بادشاہی کے الفاظ استعمال کیے۔

گرچہ قرآن کریم میں خدا کی بادشاہی کے الفاظ نہیں ملتے تاہم اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ ابراہیم کو آسمانوں کی بادشاہی کی سیر کرائی گئی۔ بہائی تحریروں میں بھی خدا کی بادشاہی کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔

یہودیت[ترمیم]

گوکہ یہودی ادب میں خدا کی بادشاہت کا تصور خال خال ہی ملتا ہے تاہم یہ تصور موسوی شریعت کے بنیادی تصورات میں شامل ہے، البتہ اس کی تشریح و تفسیر میں یہودیوں اور مسیحیوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

انبیائے اولین یعنی ابراہیم، اضحاق، یعقوب اور موسیٰ کے یہاں خدا کی بادشاہی کا ذکر وضاحت سے نہیں ملتا، تا آنکہ بنی اسرائیل سرزمین کنعان میں آباد ہو جاتے ہیں تو کتاب مقدس میں اسرائیلی عوام پر یہوہ کی بادشاہی کے لیے یہ تعبیر استعمال ہوتی ہے (قضاۃ 8: 1-23، 1 سموئیل 8: 7)۔

مسیحیت[ترمیم]

بادشاہی کے متعلق یسوع مسیح کی بشارت کے اصل مفہوم پر مسیحی علمائے الہیات کا اختلاف ہے۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ یسوع نے اس کے ذریعہ مستقبل میں پیش آنے والے واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے، جبکہ دوسری جماعت کی رائے ہے کہ یہ بادشاہی انسانوں کے درمیان میں مسیح کی شکل میں عملاً قائم ہو چکی ہے۔

راسخ الاعتقاد علمائے الہیات کا کہنا ہے کہ آسمانوں کی بادشاہی کا مفہوم وہ نہیں ہے جسے کچھ لوگوں نے سمجھ لیا ہے بلکہ یہ آسمان و زمین پر حکم الہی کا دائرہ ہے جو تمام موجودات پر محیط ہے۔ مسیحی اعتقادات کے مطابق آسمان یا روحانی دنیا احکام الہی کی پابند ہے جبکہ زمین یا مادی دنیا محدود وقت کے لیے "سر الہ" (خدا کا راز) کی معرفت کی محتاج ہے تاکہ اس کی بادشاہت کی تابع ہو سکے۔ اب یہ کلیسیا کا فرض ہے کہ وہ اس سر الہ کا اظہار کرے جسے یسوع مسیح اور ان کے شاگردوں نے کلیسیا کے سپرد کیا تھا۔ وہ راز یا سر الہ یہ ہے کہ عنقریب اللہ کی بادشاہت دنیا پر ہوگی اور ہر چیز پر خدا کی حکومت ہوگی (افسیوں 1: 23، 1 کرنتھیوں 15: 28)۔

اسلام[ترمیم]

خدا کی بادشاہی کے الفاظ قرآن میں وارد نہیں ہوئے ہیں۔ بادشاہی کے لیے جدید عربی میں مملكة کا لفظ استعمال ہوتا ہے جبکہ قرآن کریم میں "مُلکاً" سے مراد آسمان ہے مثلاﹰ Ra bracket.png أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا آتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ فَقَدْ آتَيْنَآ آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُم مُّلْكًا عَظِيمًا Aya-54.png La bracket.png (ترجمہ: کیا یہ (یہود) لوگوں (سے ان نعمتوں) پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرمائی ہیں، سو واقعی ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ہم نے انہیں بڑی سلطنت بخشی۔) اور Ra bracket.png فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَى كَوْكَبًا قَالَ هَـذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لا أُحِبُّ الآفِلِينَ Aya-76.png La bracket.png (ترجمہ: پھر جب ان پر رات نے اندھیرا کر دیا تو انہوں نے (ایک) ستارہ دیکھا (تو) کہا: (کیا تمہارے خیال میں) یہ میرا رب ہے؟ پھر جب وہ ڈوب گیا تو (اپنی قوم کو سنا کر) کہنے لگے: میں ڈوب جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔)، جبکہ مُلک سے مشتق دوسرا لفظ مالک سورہ فاتحہ میں استعمال ہوا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Gospel of Thomas’s 114 Sayings of Jesus Biblical Archaeological Society. June 4, 2017. Downloaded Sept. 4, 2017.
  2. Gleanings from the Writings of Bahá'u'lláh۔ Wilmette, Illinois, USA: Bahá'í Publishing Trust۔ 1976۔ صفحہ 86۔ آئی ایس بی این 0-87743-187-6۔ 
  3. The Kitáb-i-Aqdas: The Most Holy Book۔ Wilmette, Illinois, USA: Bahá'í Publishing Trust۔ 1992 [1873]۔ آئی ایس بی این 0-85398-999-0۔