خدا کی بستی (ناول)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خدا کی بستی (ناول)
مصنف شوکت صدیقی  ویکی ڈیٹا پر (P50) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اصل زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P407) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ناشر الحمرا پبلشنگ، اسلام آباد
تاریخ اشاعت 1958  ویکی ڈیٹا پر (P577) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
صفحات 524   ویکی ڈیٹا پر (P1104) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
جانگلوس  ویکی ڈیٹا پر (P156) کی خاصیت میں تبدیلی کریں Fleche-defaut-gauche-gris-32.png

خدا کی بستی پاکستانی ناول نگار شوکت صدیقی کا اردو زبان میں ناول ہے۔ اس ناول کے اب تک تقریباً 50 ایڈیشن مختلف ناشرین کے زیراہتمام شایع ہوچکے ہیں۔ اس ناول کو ڈرامائی تشکیل بھی دی گئی اور پاکستان ٹیلی وژن سے پانچ مرتبہ نشر ہوا۔ ناول کو 1960ء میں آدم جی ادبی انعام ملا۔

تعارف[ترمیم]

1958ءمیں منظرِ عام پر آنے والا ناول ”خدا کی بستی“ اُردو کے بہترین ناولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ ناول ”ترقی پسند تحریک“ کے زیرِ اثر لکھا گیا ہے، چناں چہ اِس میں افلاس زدہ معاشرے اور مزدور طبقے کی سماجی، معاشی، اقتصادی اور ذہنی اُلجھنوں کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔ مُعاشرے میں چھپے ہوئے سفید بھیڑیوں کو بے نقاب کرنے کی خواہش نے اِس ناول کو زندگی کی تلخ حقیقتوں کا ترجمان بنادیا ہے اور ایک ایسے مُعاشرے کی تصویر بن کر سامنے آیا ہے، جس میں دولت کی ہوس، جنسی بے راہ روی، اقتصادی ناہمواری، افسردگی، دولت کی حریصانہ خواہش، بے روزگاری، غربت، افلاس اور فاقہ کشی کے منحوس سائے انسانی زندگی کو اجیرن کیے ہوئے ہیں۔

”خدا کی بستی“ میں دو مختلف انسانوں کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک وہ انسان ہے جو اپنے آس پاس والوں سے محبت رکھتا ہے، جو اِردگرد کے لوگوں کے درد میں شریک ہے، جو اپنی پرواہ کے ساتھ ساتھ دوسروں کی پرواہ بھی کرتا ہے، دوسروں کے مسائل حل کرنے کی تگ و دو میں ہے اور دولت و شہوت سے زیادہ اُسے خلق کی خدمت کرنے میں تسکین ملتی ہے۔ جب کہ دوسرا وہ انسان ہے جو بے حسی کی کال کوٹھری میں قید ہے، نفسانی خواہشات کی دلدل میںپھنس کر انسانیت کو بھول چکا ہے ۔ وہ دولت اور جنسی بھوک کے مٹانے کے غیر فطری اور وحشیانہ طریقے اپنا کر سماج کے نام پر دھبہ ہے۔ اِس ناول میں خیر وشر کی قوتیں باہم دست و گریباں دکھائی دیتی ہیں۔ چونکہ اِس ناول میں جرائم کی دُنیا کی حقیقت پسندانہ عکاسی کی گئی ہے، اِس لیے غیر شعوری طور پر خیر و شر کا تصوّر ناول کا جزو بن کر سامنے آتاہے۔

اِس ناول میں شوکت صدیقی نے محض جرائم کو پیش نہیں کیا، بلکہ جرم کرنے اور مجرم بننے کے پسِ پردہ محرکات کا ذکر بھی کیا ہے۔ یعنی عناصرِ خیر و شر کے ساتھ ساتھ خیر و شر کے وجود میں آنے یا کسی فرد کے خیر یا شر کی طر ف راغب ہونے کی وجوہات بھی ناول کا اہم حصّہ بن کر سامنے آتی ہیں۔

خلاصہ[ترمیم]

اس ناول کے مرکزی کردار راجہ اور نوشہ ہیں جن کی عمر چودہ پندرہ برس ہو گی۔ غربت کی وجہ سے نوشہ تعلیم حاصل نہیں کر پایا جبکہ راجہ ماں باپ کے نہ ہو نے پر تنہا ایک کوڑھی گداگر کے ساتھ رہنے لگا ہے اور کچھ روز تک ایک تیسرا کردار شامی ان کے ساتھ رہتا ہے۔ راجہ اپنی بے مقصد زندگی سے اور نوشہ اپنی مان کی تلخ مزاجی سے تنگ آ کر کراچی چلے جاتے ہیں۔ جہاں وہ مجرم بن جاتے ہیں اور پکڑے جانے پر کراچی کے جیل جانے میں سزا کاٹتے ہیں۔ نوشہ کی بیوہ ماں معاشی تنگی کے باعث نیاز کباڑی سے نکاح کر لیتی ہے۔ نیاز کباڑی بنیاد ی طور پر جعل ساز اور دولت کا حریص انسان ہے جو نوشہ کی ماں سے شادی محض اس لئے کر تا ہے اس کی موت کا منصوبہ میں کامیاب ہو نے کے بعد نوشہ کی جوان الھڑ بہن سلطانہ سے شادی کر یگا۔ اس سلسلے میں وہ ڈاکٹر موٹو سے مدد لیتا ہے۔ اور نوشہ کی ماں کو مستقل زہر کا انجکشن دلوا کر موت کی گھاٹ اُتار دیتا ہے۔ اور سلطانہ کو اپنے قبضے میں کر لیتا ہے۔ ادھر نوشہ جیل سے رہا ہونے کے بعد کراچی سے مایوس ہو کر وطن واپس آتا ہے۔ اور اپنی مان کی قتل اور بہن کی بے حرمتی کی خبر سن کر نیاز کا قتل کر کے جیل چلا جاتا ہے۔ ادھر راجہ کراچی جیل میں آتشک کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور جیل سے چھوٹنے کے بعد سٹرک پر بھیک مانگنے لگتا ہے۔ اس کہانی میں ایک کردار میونسپل کا بورڈ چیئرمین فرزند علی کا ہے جو سلطانہ کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر اپنی طاقت کے بل بوتے پر حاصل کرتا ہے۔ اور اسے طوائف بن کر نئے مردوں کی ہوس کا شکار بننے پر مجبور کرتا ہے۔ ایسے خراب معاشر ے کی اصلاح کے کے لئے ایک رضاکارانہ تنظیم "فلک پیما، تشکیل پاتی ہے۔ اس تنظیم کا سربراہ صفدر بشیر ہے جو دولت مند اور تعلیم یافتہ ہے۔ اس تحریک کو کامیاب بنانے میں پروفیسر علی احمد، ڈاکٹر زیدی، اور نوجوان طالب علم سلمان کی کوشش شامل ہیں۔ ان لوگوں کی فلاحی کاموں میں بڑھتی ہو ئی شہرت کو خان بہادر فرزند علی اپنے مجرمانہ اور سازشی کاموں کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں، غنڈوں کے ذریعہ فلک پیما کی مرکزی عمارت کو جلا دیتا ہے۔ اور فلک پیما کی تحت تعمیر ہونے والے اسپتال کی جگہ پر خان بہادر فرزند علی کے اشارے پر مسجد تعمیر کروا کر عوام کا دل جیت لیتے ہیں، اس معاشرے کے پروردہ سب ہی لوگ جائز و ناجائز طریقے پر دولت کما کر راتوں رات، دولت مند اور معزز و معتبر کہلانا چاہتے ہیں۔

موضوع[ترمیم]

تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں تشکیل پانے والی شہری سوسائٹی جو نیم سرمایہ دارانہ اور نیم جاگیردارانہ معاشرت کی ترجمان ہے اس کے باطنی حقائق کو نہایت جرات کے ساتھ شوکت صدیقی نے اپنے ناول "خدا کی بستی " میں پیش کیا ہے۔ مذہب اور جمہوریت کو ڈھال بنا کر ہوس پرستی اور دھوکہ دہی کو شعار بنایا جا رہا تھا۔ ایسے پر فریب معاشرے کو آئینہ دکھانے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ شوکت صدیقی نے اپنے اس ناول میں انسانی اغراض پر وجود میں آنے والے معاشرے کی تصویر کشی فکشن کے خطوط پر ضرور کی ہے لیکن سماجی اور انسانی نفسیات کا تجزیہ اتنا فنی انداز میں کیا ہے کہ کہانی کو حقیقی زندگی کے بالکل قریب کر دیا ہے۔ اس کے سارے کردار سچائیوں کے ساتھ ماحول کی مناسبت سے اپنے کردار کو فطری بنانے میں کامیاب نظر آتے ہیں ۔ ناول نگار نے انسانی جبلتوں کو ان کے نفسیاتی عمل کے ذریعہ پیش کیا ہے ۔ اس ناول کے مرکزی کردار راجہ اور نوشہ ہیں جن کی عمر چودہ پندرہ برس ہوگی ۔ یہ ناول ایک ایسے معاشرے کی تصویر ہے جو خود غرضی کی انتہا کو پہونچ چکاہے ۔ جہاں انسانی اقدار دم توڑ چکی ہیں ۔ ایک بے حس معاشرہ سلطانہ اور اس کی ماں کی جنسی استحصال کو چپ چاپ دیکھتا رہا ۔ سلمان کی بیوی رخشندہ محض زیورات اور قیمتی ملبوس کے لئے جعفری کے اشارے پر غیر ملکی گاہکوں کو خوش کرتی رہی اور اس کی بے وفائی اور بد چلنی کو ترقی پسندی کا عنوان دیتی ہے ۔ شوکت صدیقی نے اپنے ناول میں سماجی حقیقت نگاری کی روایت کو وسعت دی ہے جس کی تعمیر پریم چند نے کی تھی ۔ ان کا طبقاتی شعور اور انسان دوستی کا تصور ناول میں پریم چند سے آگے کی راہ دکھاتا ہے ۔

کردار[ترمیم]

  • راجا، ایک آوارہ، انتہائی غریب ذرا بڑی عمر کا لڑکا، جو ایک بوڑھے کو ریڑھی میں ڈال کر گداگری کرتا ہے اور پیسوں سے جوا کھیلتا اور سنیما دیکھتا ہے۔
  • شامی، دبلا پتلا، تیز مزاج لڑکا، جو باپ کی دکان پر بیٹھتا ہے۔
  • کالے صاحب، بیمہ کار
  • نوشا، ایک یتیم لڑکا، جو پہلے سنیما اور چوری کی لت میں مبتلا ہوتا ہے، پھر گھر سے بھاگ جاتا اور بردہ فروشوں کی وجہ سے چوری کے مقدے میں جیل چلا جاتا ہے۔
  • نوشا کی ماں، جو بیڑیاں بنا بنا کر بیچتی ہے۔
  • انو، نوشا کا چھوٹا بھائی
  • سلطانہ، نوشا کی بڑی بہن
  • عبد اللہ مستری، آٹو ورکشاپ والا، جہاں نوشا کام کرتا ہے۔
  • سلمان، ایک نوجوان لڑکا، جو شہر میں تعلیم حاصل کرنے آیا ہوا ہے اور سلطانہ سے محبت کرنے لگتا ہے، بری عادتوں میں مبتلا ہے، بعد میں وہ ایک تنظیم کا رکن بنتا ہے جو معاشرے کے غریب عوام کے لیے کام کرنا چاہتی ہے۔
  • نیاز، کباڑیے کا کام کرنے والا، جو درپردہ چوری اور چنگی چوری کا مال بھی خریدتا اور بیچتا ہے،
  • ڈاکٹر موٹو اصل نام خیرات محمد، ایک اتائی ڈاکٹر جو نیاز سے پیسے لے کے اس کی دوسری بیوی (جو نوشا کی ماں ہے) کو جلد مارنے کے لیے دل کمزور کرنے کے ٹیکے لگاتا ہے، نیاز نے کالے صاحب سے بیوی کا بیمہ کرایا ہوا ہے تاکہ وہ مرے تو اسے 50 ہزار کی رقم مل سکے۔ پھر وہ نوشا کی بہن سلطانہ تک بھی پہنچ سکے گا۔
  • خان بہادر، ایک بدعنوان سرکاری افسر جو مہاجرین کے نام زمینوں، سرکاری ٹینڈروں اور ٹھیکوں سے پیسہ کھاتا ہے اور اسکائی لارک تنظیم (جس کا سلمان رکن ہے) کے غریب عوام کے لیے مفت علاج کے لیے خریدی گئی طبی مرکز کی زمین پر قبضہ کرا کے مسجد بنوا دیتا ہے اور مسجد کے ساتھ دکانیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]