خدا کی بستی (ناول)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خدا کی بستی (ناول)
مصنف شوکت صدیقی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مصنف (P50) ویکی ڈیٹا پر
اصل زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کام یا نام کی زبان (P407) ویکی ڈیٹا پر
ناشر الحمرا پبلشنگ، اسلام آباد
تاریخ اشاعت 1958  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ اشاعت (P577) ویکی ڈیٹا پر
صفحات 524   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعداد صفحات (P1104) ویکی ڈیٹا پر
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
جانگلوس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اگلا (P156) ویکی ڈیٹا پر Fleche-defaut-gauche-gris-32.png

خدا کی بستی پاکستانی ناول نگار شوکت صدیقی کا اردو زبان میں ناول ہے۔ اس ناول کے اب تک تقریباً 50 ایڈیشن مختلف ناشرین کے زیراہتمام شایع ہوچکے ہیں۔ اس ناول کو ڈرامائی تشکیل بھی دی گئی اور پاکستان ٹیلی وژن سے پانچ مرتبہ نشر ہوا۔ ناول کو 1960ء میں آدم جی ادبی انعام ملا۔

کردار[ترمیم]

  • راجا، ایک آوارہ، انتہائی غریب ذرا بڑی عمر کا لڑکا، جو ایک بوڑھے کو ریڑھی میں ڈال کر گداگری کرتا ہے اور پیسوں سے جوا کھیلتا اور سنیما دیکھتا ہے۔
  • شامی، دبلا پتلا، تیز مزاج لڑکا، جو باپ کی دکان پر بیٹھتا ہے۔
  • کالے صاحب، بیمہ کار
  • نوشا، ایک یتیم لڑکا، جو پہلے سنیما اور چوری کی لت میں مبتلا ہوتا ہے، پھر گھر سے بھاگ جاتا اور بردہ فروشوں کی وجہ سے چوری کے مقدے میں جیل چلا جاتا ہے۔
  • نوشا کی ماں، جو بیڑیاں بنا بنا کر بیچتی ہے۔
  • انو، نوشا کا چھوٹا بھائی
  • سلطانہ، نوشا کی بڑی بہن
  • عبد اللہ مستری، آٹو ورکشاپ والا، جہاں نوشا کام کرتا ہے۔
  • سلمان، ایک نوجوان لڑکا، جو شہر میں تعلیم حاصل کرنے آیا ہوا ہے اور سلطانہ سے صحبت کرنے لکۃا ہے، بری عادتوں میں مبتلا ہے، بعد میں وہ ایک تنظیم کا رکن بنتا ہے جو معاشرے کے غیر ب عوام کے لیے کام کرنا چاہتی ہے۔
  • نیاز، کباڑیے کا کام کرنے والا، ج ودرپردہ چوری اور چنگی چوری کا مال بھی خردیتا اور بیچتا ہے،
  • ڈاکٹر موٹو اصل نام خیرات محمد، ایک اتائی ڈاکٹر جو نیاز سے پیسے لے کے اس کی دوسری بیوی (جو نوشا کی ماں ہے) جو جلد مرنے کے لیے دل کمزور کے ٹیکے لگاتا ہے، نیاز نے کالے صاحب سے بیوی کا بیمہ کرایا ہوا ہے تاک کہ وہ مرے ت واسے 50 ہزار کی رقم مل سکے۔ پھر وہ نوشا کی بہن سلطانہ تک بھی پہنچ سکے گا۔
  • خان بہادر، ایک بدعنوان سرکاری افسر جو مہاجرین کے نام زمینوں، سرکاری ٹینڈروں اور ٹھیکوں سے پسہ کھاتا ہے اور اسکائی لارک تنظیم (جس کا سلمان رکن ہے) کے غریب عوام کے لیے مفت علاج کے لیے خریدی گئی طبی مرکز کی زمین پر قبضہ کرا کے مسجد بنوا دیتا ہے اور مسجد کے ساتھ دکانیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]