خذر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
  • Khazar Khaganate
  • Xəzər Xaqanlığı
خذر   خانیت

 
The Monogram of Kubrat.png
 650 ء–969
 

خذر خانیت , 650–850 ء
دار الحکومت
زبانیں خذر
مذہب
سیاسی ڈھانچہ خذر   خانیت
خاقان
 - 618–628 ٹونگ یابغو
 - 9ویں صدی  ء بلان
 - 9ویں صدی  ء عبیدہ
 - 9ویں صدی  ء زکریا
 - 9ویں صدی  ء مناسے
 - 9ویں صدی  ء بنیامین
تاریخی دور قرون وسطی
 - قیام  650 ء
 - اختتام 969
رقبہ
 - 850[1] 3,000,000 مربع کلومیٹر مربع کلومیٹر (نقص اظہار: «م» کا غیر معروف تلفظ۔ مربع میل)
آبادی
 - 7ویں صدی  ء
تخمینہ
1,400,000 
سکہ یرماق
Warning: Value specified for "continent" does not comply

اس Khazars (/ˈkɑːzɑrz/, /ˈxɑː-/; آذربائیجانی: Xəzərlər; ترکی: Hazarlar; باشقیر: Хазарлар; تاتاری: Хәзәрләр, Xäzärlär; عبرانی: כוזרים‎, Kuzarim;[2] عربی: خزر, Xazar; یوکرینی: Хоза́ри, Chozáry; روسی: Хаза́ры, Hazáry; مجاری زبان: Kazárok; فارسی: خزر‎, Xazar; یونانی: Χάζαροι, Cházaroi; لاطینی: Gazari[3][4]/Gasani[2][5]) یہ نیمخانہ بدوش ترک لوگ تھے ،جنہوں نے اپنے وقت کی طاقتور ترین  مغربی ترک خانیت سے ٹوٹے اور اپنی ہی الگ سیاست پیدا کی.[6] مشرقی یورپ اور جنوب مغربی ایشیا کی اہم ترین تجارتی شہ رگ کے دونوں اطراف, خذریہ قرون وسطی کی سب سے اولی تجارتی منڈی بنا  جو  شاہراہ ریشم کی مغربی راستوں پر  تسلط رکھتا تھا جبکہ   چین ، مشرق وسطی اور کیویائی روس' کے درمیان ایک چوراہے کا کردار ادا کرتا رہا .[6][6]  تقریبا ً  تین صدیوں تک ( 650-965ء) قبیلہ خذر  کا وسیع علاقے پر غلبہ رہا جو وولگا ڈون کے میدانوں  سے مشرقی کریمیا اور شمالی قفقاز رہا .[2]

خذریہ طویل عرصے تک   ساسانی فارسی سلطنت کے خلاف بازنطینی قائم مقام رہنے کے بعد بازنطینی سلطنت ، خلافت امویہ  اور شمالی میدانوں کے خانہ بدوشوں کے درمیان حائلی ریاست   کا کردار ادا کرتا رہا .پھر اس کا بازنطینی   اتحاد 900 ء کے  آس پاس ختم ہوا . بازنطینیوں نے   الانوں کو خذریہ پر حملہ کرنے کے لیے ابھارنا شروع کیا  تاکہ خذریہ کی  کریمیا اور قفقاز پر گرفت کمزور ہو اور وہ شمال میں ابھرتی ہوئی روسی طاقت کو مسیحیت قبول کروا اور ان سے سیاسی اتحاد کرسکیں .[7] 965 اور 969 کے درمیان ، کیویائی روسی' حکمران  کیف کا سفیاتوسلاؤ اول نے  دار الحکومت آتل فتح کرکے خذری ریاست تباہ کی .

خذروں کے ماخذ اور فطرت کا تعین ان کی زبانیں  کے ماخذ کے  نظریات سے بندھا ہوا ہے , لیکن یہ ایک پیچیدہ و مشکل معاملہ ہے   کیونکہ خزری زبان میں کوئی بھی مقامی سرگزشت ، روداد اور دستاویز نہیں بچی  اور ریاست میں  کثیر النسل آبادی پر مشتمل لوگ بہت سی زبانیں بولتے تھے . خیال ہے کہ خذر لوگوں کا مقامی   مذہب تنگریت تھا ,  جیسا کہ شمالی قفقازی ہن اور دیگر ترک عوام کا تھا .

[2] ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ خذر خانیت کے کثیر النسل عوام بہت سے خداؤں کی کثیر الاعتقادی پچی کاری کی آبادی تھی , تنگریت ، یہودی ، مسیحی اور مسلمان پَرِستار .[2] یہوداہ حلیوی اورابراہیم بن داود کے مطابق خذری  حکمران اشرافیہ نے 8ویں صدی ءمیں ربیائی یہودیت قبول کی [8] لیکن اس خانیت کے اندر قبول یہودیت کا دائرہ کار کے اندر غیر متعین ہے.

ماخذات  خذر  کے بابت سلاو یہودی سبوتنخ  ، یہود بخارا ، مسلمان کمیک, قزاک ، دان  کوزک  خطے میں ترک زبان بولنے والے کرمچک   اور ان کے کریمیائی پڑوسی  کارائی  مالڈاوی سنگؤس ،  کوہستانی یہود اور دوسرے تجویز کیے گئے 

[2][6][6]

19ویں  صدی کے اخر میں, نظریہ سامنے آیا کہاشکنازی یہودی  اکثریت خذری جلاوطن یہودیوں کی تھی جنہوں نےروس اور یوکرین سے  مغرب فرانس اور جرمنی کی جانب ہجرت کی ہ اس نظریہ کی اب بھی حمایت جاری ہے لیکن یہود اور سام پسند دانشور اسے شکوک و شبہات سے دیکھتے ہیں .

[6][9]

یہ نظریہ کبھی کبھی  سام دشمنی

[6]

اور کبھی  کبھی  ضد صہیونیت  سے بھی جوڑا جاتا ہے 

[6]

نوٹ
[ترمیم]

  1. Turchin، Peter; Adams، Jonathan M.; Hall، Thomas D (December 2006). "East-West Orientation of Historical Empires". Journal of world-systems research 12 (2): 222. آئی ایس ایس این 1076-156X. http://jwsr.pitt.edu/ojs/index.php/jwsr/article/view/369/381۔ اخذ کردہ بتاریخ 16 September 2016. 
  2. ^ ا ب پ ت ٹ ث [[#CITEREF|]]
  3. Meserve 2009، صفحہ۔ 294, n.164.
  4. Golden 2007b، صفحہ۔ 139.'The Gazari are, presumably, the Khazars, though this term or the Kozary of the perhaps near contemporary Vita Constantini . . could have reflected any of a number of peoples within Khazaria.'
  5. [[#CITEREF|]].'Somewhat later, however, in a letter to the Byzantine Emperor Basil I, dated to 871, Louis the German, clearly taking exception to what had apparently become Byzantine usage, declares that 'we have not found that the leader of the Avars, or Khazars (Gasanorum),'
  6. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ [[#CITEREF|]].
  7. Noonan 1999، صفحات۔ 499,502–3.
  8. 2007a[[#CITEREF|]]
  9. [[#CITEREF|]]: 'Most scholars are sceptical about the hypothesis (that has its roots in the late 19th century) that Khazars became a major component in the ethnogenesis of the Ashkenazic Jews'.