خرم سہیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خرم سہیل
خرم سہیل

معلومات شخصیت
پیدائش 27 ستمبر 1984 (35 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
گوجرانوالہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ صحافی،  مترجم،  کالم نگار،  سوانح نگار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل ریڈیو میزبان،  ترجمہ،  سوانح  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

خرم سہیل (انگریزی: Khurram Sohail) (پیدائش: 27 ستمبر، 1984ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز ادیب، صحافی، محقق، مترجم اور فنونِ لطیفہ کے نقاد ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

خرم سہیل 27 ستمبر، 1984ء کو گوجرانوالہ، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ پرائمری تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد والدین کے ہمراہ کراچی میں سکونت اختیار کی۔ 2009ء میں جامعہ کراچی سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کرنے کے بعد عملی صحافت سے منسلک ہوئے۔[1]

صحافتی خدمات[ترمیم]

ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کرنے کے بعد وہ پاکستان کے روشن خیال اخبار روزنامہ آج کل سے وابستہ ہو گئے۔ صحافت میں ابتدا سے اب تک جن اخبارات کے لیے کام کیا ان میں روزنامہ جہان پاکستان، روزنامہ جناح، روزنامہ ایکسپریس، روزنامہ دنیا، روزنامہ نوائے وقت اور ہفت روزہ نگار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاک فوج کے ادارے انٹر سروس پبلک ریلیشنز کے رسالے ہلال اور ڈان اردو کے آن لائن ایڈیشن کے علاوہ متعدد آن لائن اخبارات و جرائد کے لیے باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ پانچ برس کراچی میں قائم جاپانی قونصل خانے سے بھی وابستہ رہے۔[2] حکومت جاپان کی دعوت پر جاپان کے مختلف شہروں میں موجود تعلیمی و ثقافتی اداروں کا دورہ بھی کیا اور جاپان اور پاکستان کے درمیان ادب و ثقافت کے سلسلے میں تحقیق کے کام کو آگے بڑھایا۔

ادبی خدمات[ترمیم]

خرم سہیل کی کتاب سرخ پھولوں کی سبز خوشبو کا سرورق

انہوں نے اپنی کتاب سرخ پھولوں کی سبز خوشبو میں جاپانی قلم کاروں کی اہم اردو تحریریں، جاپانی ادب اور شاعری، جاپانی ادیب اور شعرا، اردو زبان و ادب کے لیے جاپانیوں کی خدمات، جاپانی ادب اور پاکستانی مترجمین، برصغیر ہند و پاک کے فکشن میں جاپان، جاپان کی تہذیب و فن، جاپانی پاکستانیوں کی نظر میں اور پاکستانیوں کی نظر میں جاپان کے باب میں بھرپور جائزہ لیا ہے۔[3]

خاموشی کا شور اردو میں شائع ہونے والی اپنی نوعیت کی اولین کتاب ہے، جس کا موضوع و محور جاپانی زبان کے ڈرامے ہیں۔ فاطمہ ثریا بجیا نے جاپانی مصنفین کی کہانیوں کے مرکزی خیال کو اخذ کرتے ہوئے اردو میں ڈرامائی تشکیل دی ہے اور بعد ازاں ان ڈراموں کو اسٹیج پر بھی پیش کیا گیا۔ مذکورہ کتاب میں خرم سہیل نے جاپانی مصنفین کے تعارف، ڈراموں کے خلاصے اور جاپانی ڈراموں اور تھیٹر کی مختصر تاریخ کو قلم بند کیا ہے، جبکہ فاطمہ ثریا بجیا اور دیگر اہم جاپانی ادیبوں کی رنگین و نادر تصاویر بھی اس کتاب کا حصہ ہیں۔[4]

خرم سہیل نے فنونِ لطیفہ بالخصوص اردو ادب، موسیقی اور فلم کے شعبوں میں مستقل مزاجی سے کام کیا، ان شعبوں سے وابستہ شخصیات کے انٹرویوز کیے جن کی تعداد 400 سے زائد ہے۔ ان انٹرویوز کے اردو زبان میں دو مجموعے باتوں کی پیالی میں ٹھنڈی چائے اور سُر مایا کے نام سے شائع ہوچکے ہیں جبکہ ان کے انٹرویوز کا انگریزی زبان میں ترجمہ IN CONVERSATION WITH LEGENDS کے نام سے افرا جمال نے کیا ہے جو 2017ء میں شائع ہوچکا ہے۔

قلم سے آواز تک، معروف مصنف اور براڈکاسٹر رضا علی عابدی کی سوانح حیات ہے جسے خرم سہیل نے انتہائی خوبصورتی سے ترتیب دیا ہے، یہ کتاب 2014ء میں سنگ میل پبلی کیشنز لاہور سے شائع ہوئی۔ یہ کتاب رضا علی عابدی صاحب کی شخصیت، صحافت، ریڈیو اور ادبی خدمات کا مکمل احاطہ کرتی ہے۔ شہرۂ آفاق افسانہ نگار انتظار حسین اس کتاب اور خرم سہیل کے بارے میں کہتے ہیں کہ:

رضا علی عابدی اپنی طرز کے نرالے ادیب ہیں۔ ایسے ادیب کی سوانح بھی خالص لکھنے والوں کی سوانح سے مختلف ہونی چاہیے۔ اس سوانح کو تجسس کے ساتھ پڑھا جانا چاہیے اور سوانح کا معاملہ یہ ہے کہ جس کی سوانح لکھی گئی ہے اس کا اپنا مقام و مرتبہ، اپنا جادو ہونا چاہیے۔ مگر جو سوانح لکھ رہا ہے کچھ اس کے بیان میں بھی تو سلیقہ ہونا چاہیے۔ تو سوانح نگار کا بھی اہل ہونا لازم آتا ہے۔

اس سوانح میں یہ دونوں چیزیں مل گئیں۔ مطلب یہ کہ رضا علی عابدی خود بھی اپنے قلم کے ساتھ خوب و مرغوب ہیں۔ انہیں سوانح نگار بھی ایسا ملا ہے جو اپنے بیان کے ساتھ خوب و مرغوب ہے۔ کس سلیقہ سے بکھری ہوئی ادبی زندگی کو جو ہوائی لہروں سے سطح قرطاس تک پھیلتی چلی گئی ہے، سمیٹا ہے اور خوش سلیقگی سے ایک سانچہ میں ڈھالا ہے۔ آواز سے قلم تک کے رنگا رنگ سفر کو کس خوبی سے بیان کیا ہے۔ رضا علی عابدی کا ادب بھی چُپڑی اور دودو کا معاملہ ہے۔ یہ سوانح بھی سمجھ لیجئے کہ دو آتشہ ہے۔[5]

تھیٹر اور ریڈیو کے لیے خدمات[ترمیم]

خرم سہیل نے جامعہ کراچی میں زمانہ طالب علمی کے دور میں راوی کے نام سے ڈرامیٹک سوسائٹی کی بنیاد رکھی، جس کے تحت جامعہ کراچی کی نمائندگی کرتے ہوئے مختلف فیسٹیولز میں حصہ لیا اور کئی اعزازات حاصل کیے۔ قونصل خانہ جاپان کراچی کے لیے فاطمہ ثریا بجیا کا ڈراما خاموشی کا شور بھی اسٹیج کیا۔ ریڈیو پاکستان اور ایف ایم 101 سے بحیثیت میزبان 5 برس تک وابستہ رہتے ہوئے ملک اور بین الاقوامی نشریات کا حصہ رہے۔ جامعہ کراچی میں ریڈیو کی ابتدا ہوئی تو اس کی ابتدائی ٹیم میں شامل رہے۔

تصانیف[ترمیم]

خرم سہیل کی پہلی کتاب باتوں کی پیالی میں ٹھنڈی چائے کا سرورق
  • 2009ء - باتوں کی پیالی میں ٹھنڈی چائے (شوبز اور بین الاقوامی شخصیات کے 50 انٹرویوز کا مجموعہ، ناشر: سٹی بک پوائنٹ کراچی)
  • 2011ء - سُر مایا (عہدِ حاضر کے روایتی اور جدید گلوکاروں، موسیقاروں اور گیت نگاروں کے انٹرویوز کا مجموعہ، ناشر: الحمد پبلی کیشنز لاہور)
  • 2012ء - سرخ پھولوں کی سبز خوشبو (جاپان اور پاکستان کے ممتاز ادیبوں اور اہلِ قلم کی تحریریں، ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز لاہور)
  • 2014ء - قلم سے آواز تک: رضا علی عابدی (معروف مصنف اور براڈکاسٹر رضا علی عابدی کی سوانح، ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز لاہور)
  • 2016ء - خاموشی کا شور (فاطمہ ثریا بجیا کے جاپانی کہانیوں پر مبنی ڈرامے )
  • 2015ء -کچن (جاپانی ناول کا ترجمہ، ناشر: راحیل پبلی کیشنز کراچی)
  • 2017ء -ناول کا نیا جنم (مشرق اور مغرب کے ناول نگاروں کا تحقیقی جائزہ، ناشر: رنگِ ادب کراچی)[6]
  • 2017ء -IN CONVERSATION WITH LEGENDS (انٹرویوز کا انگریزی ترجمہ، مترجم افرا جمال، ناشر: پیراماؤنٹ پبلشنگ، کراچی)

اعزازت[ترمیم]

  • 2010ء - بہترین ڈراما پروڈکشن ایوارڈ - قونصلیٹ جنرل جاپان کراچی
  • 2012ء - توصیفی سند - قونصلیٹ جنرل جاپان کراچی

ناقدین کی رائے[ترمیم]

سوال ہر تلاش کی ابتدا ہے۔

خرم سہیل کو سوال بہت پریشان کرتے ہیں۔ وہ ہر آنے جانے والے سے اُن کا پتہ پوچھتا رہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ لوگ گھروں میں نہیں رہتے۔ فنکار ہیں وہ لوگ! گھروں میں تو رُکتے ہیں بس، رہتے کہیں اور ہیں۔ سُروں میں رہتے ہیں اور پَلوں میں بستے ہیں۔

خرم کو وہ سب سوال پریشان کرتے ہیں، جو ادیبوں اور موسیقاروں کے تخلیقی عمل سے جُڑے ہوئے ہیں، وہ ان پَلوں کی تلاش کرتا ہے جو خیال سے لے کر تخلیق کی تکمیل تک پہنچتے ہوئے، ایک ادیب یا موسیقار گُزارتا ہے، یا جن سے اُسے گُزرنا پڑتا ہے۔ وہ سُننے اور پڑھنے والوں کے لیے بھی اتنا ہی دلچسپی کا باعث ہے جتنا خود خرم سہیل کے لیے۔ یہ اُس کی دریا دِلی ہے کہ وہ یہ علم سب کے ساتھ بانٹ رہا ہے اور آئندہ وقتوں کے لیے محفوظ کرتا جارہا ہے۔ بھارتی شاعر گلزار[1]

مجھے خرم سے گفتگو کرنے کے بعد ایسا لگا کہ یہ وہ فقیر ہے جو خدا کی تلاش میں ہے۔ یہ پریشان اور اپنے شوق کی انتہا کو چھو لینے والا قلم کار ہے۔ معروف پاکستانی گلوکارہ عابدہ پروین[7]
خرم سہیل نے اپنی صحافتی اور ادبی زندگی کی ابتدا سے ہی اپنے کام اور انوویٹیو اپروچ کے ذریعے دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے، خاص طور پر اس کے جملوں کی ساخت واقعی قابل تعریف ہے۔ خرم سہیل کو انٹرویو لینے کا فن آتا ہے اور میں توقع کرتا ہوں کہ مستقبل میں خرم سہیل صحافتی اور ادبی زندگی میں نمایاں حیثیت حاصل کرلینے میں کامیاب ہوجائیگا۔ معروف افسانہ نگار مظہر الاسلام[8]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]