خروج: خدایان اور بادشاہان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خروج: خدایان اور بادشاہان
Exodus2014Poster.jpg
Theatrical release poster
ہدایت کار Ridley Scott
پروڈیوسر
  • Peter Chernin
  • Ridley Scott
  • Jenno Topping
  • Michael Schaefer
  • Mark Huffam
تحریر
ستارے
موسیقی Alberto Iglesias
سنیماگرافی Dariusz Wolski
ایڈیٹر Billy Rich
پروڈکشن
کمپنی
تقسیم کار ٹوینٹیتھ سنچری فوکس
تاریخ اشاعت
  • 12 دسمبر 2014ء (2014ء-12-12) (United States)
دورانیہ
150 minutes[1]
ملک
  • United States
  • United Kingdom
  • Spain[2]
زبان انگریزی
بجٹ $140 million[3]
باکس آفس $249.1 million[4]

خروج : خدایان اور بادشاہان (انگریزی: Exodus: Gods and Kings) ایک دیومالائی فلم ہےجوکہ بائبل سے اخذ کی گئی ہے جس کی رڈلے اسکاٹ نےہدائتکاری انجام دی ہے۔اس فلم کی کہانی کو آدم کوپر، بل کولیگ، جیفری کائینے اور اسٹیفن زائیلیان نے تحریر کیاہے۔اس فلم میں کرسٹیان بیل، جوئیل ایجرٹن، جان ٹرٹرے، ہارون پال، بین مینڈلسن، سگارنے ویور اور بین کینگسلے نےاداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔یہ فلم مصر سے عبرانیوں کی ہجرت کی تشریح ہے ،یہ ہجرت موسیٰ نبی اللہ کی رہنمائی میں عمل میں آئی تھی جیساکہ بائبل کے باب خروج میں بیان کیاگیاہے۔یہ فلم ہدائتکار کی طرف سے اپنے چھوٹے بھائی ٹونی اسکاٹ کے لیے ایک خراج تحسین ہے ۔ ٹونی اسکاٹ بھی فلم کے شعبہ ہدائتکاری سے وابستہ تھا جس نے 2012ء میں خودکشی کرلی تھی۔

کہانی کا موضوع[ترمیم]

1300قبل مسیح میں موسیٰ عہ مصر کے شاہی خاندان کا ایک رکن اور فوجی سرکردہ تھا جو حتیوں سے جنگ کے لیے رعمسیس کے ہمراہ فوج آمادہ کرتاہے۔ رعمسیس کا والد سیتی اول پیشنگوئی کرتا ہے کہ دونوں (موسیٰ اور رعمسیس) میں سے ایک۔۔۔۔ دوسرے کی جان بچائے گا اور مصلح (رہنما) بنے گا۔حتیوں سے جنگ کے دوران موسیٰ رعمسیس کی جان بچاتاہے۔ بعدازاں موسیٰ ضروری کام سے مصر کے دوسرے شہر بیتوم روانہ ہوتاہےتاکہ سلطنت مصر کے نائب سے ملاات کرےجو کہ بیتوم می ں عبرانی غلاموں کی نگرانی کی شاہی خدمت انجام دے رہاہوتاہے۔موسیٰ وہاں ایک عبرانی غلام یوشع کی جاں بخشی کرواتاہے۔ اس کے علاوہ وہ حیرت انگیز مشاہدہ کرتا ہے کہ عبرانی غلام نہائت برے حالات سے دوچار ہیں۔ ان کو محنت کے بدلے میں بہت کم کھانا اور انتہائی گھٹیا درجے کی سہولیات دی جاتی تھیں۔جلد ہی وہ ایک عبرانی یہودی نون (مزید دیکھیے یوشع بن نون) سے ملتا ہے جو موسیٰ کو اسکے اصل حسب و نسب سے آگاہ کرتاہے۔وہ موسیٰ کو بتاتاہے کہ وہ مصری نہیں بلکہ ایک عبرانی بچہ تھا جس کے ماں باپ عبرانی غلام تھے ، فرعون مصر نے کسی وجہ سے حکم دیاتھا کہ عبرانیوں کےپیدا ہونے والے ہر پہلوٹھی کے بچے کو قتل کر دیاجائے۔موسیٰ کے ماں باپ بھی اسی پریشانی سے دوچار تھے کہ کیسے موسیٰ کو بچائیں، ایسے میں انہوں نے تدبیر کی کہ کسی طریقے سے موسیٰ کو ایک ٹوکری میں ڈال کر دریاکی لہروں کے سپرد کر دیا، اس دریا میں سے ایک ندی فرعون کے محل کے حصے میں سے گزرتی تھی جہاں فرعون کی بیوی اپنی خاص سہیلیوں کے ہمراہ سیر کیاکرتی تھی، اس نے جب ٹوکری میں خوبصرت بچے کو دیکھا تو اس بچے کو اپنالیا، مریم جو موسیٰ کی بہن تھی اور ٹوکری کی نگرانی کرتی ہوئی محل تک پہنچی تھی کسی طریقے سے وہ موسیٰ کے لیے آیا مقرر کردی گئی ۔ موسیٰ یہ سب سن کر حیران ہونے کے علاوہ اس کو ایک افسانوی داستان اور یہودی غلاموں کی اختراع قرار دیکر نون سے ناراض ہوتے ہوئے اس خفیہ مجلس سے روانہ ہوجاتاہے، تاہم دو عبرانی اس کہانی کو سن لیتے ہیں جو نائب السلطنت کے جاسوس ہونے کے ناطے فوری طور پر نائب السلطنت کو آگاہ کردیتے ہیں۔ موسیٰ کی ممفس واپسی کے بعد فرعون سیتی وفات پاجاتا ہے جس کے بعد اسکا بیٹا رعمسیس (رعمسیس دوم) بطور فرعون مصر اقتدار کی مسند پر براجمان ہوجاتاہے۔اسی دوران نائب السلطنت بیتوم سے رعمسیس دوم کے دربار میں حاضر ہوتاہے تاکہ موسیٰ کی حقیقت بیان کرسکے۔ رعمیسس دوم نائب السلطنت کی زبانی موسیٰ کے بارے میں سن کر تذبذب میں مبتلاہوجاتاہے کہ اس کہانی پر یقین کرے یا ناکرے۔ تاہم ملکہ طویا کے اکسانے پر رعمسیس دوم مریم کو بلواتا ہے تاکہ اس سے اس بابت سوال کرے، مریم اس حقیقت سے منکر ہوجاتی ہے کہ وہ موسیٰ کی بہن ہے۔لیکن جب رعمسیس دوم مریم کا ہاتھ کاٹنے کی دھمکی دیتاہے تو موسیٰ اقرار کرلیتاہے کہ وہ اصل میں ایک عبرانی النسل ہے۔ رعمسیس دوم کی بیوی کی خواہش ہوتی ہے کہ فرعون موسیٰ کو قتل کروادے لیکن رعمسیس دوم فرعون مصر فیصلہ کرتاہے کہ موسیٰ کو جلاوطن کر دیاجائے۔مصر چھوڑنے سے پہلے موسیٰ کو اجازت دی جاتی ہے کہ وہ اپنی ماں اور بہن مریم سے مل لے۔ موسیٰ کی ماں اور بہن موسیٰ کو اس کے اصل عبرانی نام موشے سے پکارتی ہیں۔ صحرا میں سفر کے دوران موسیٰ کا گزر ایک مختصر سی آبادی مدین پر سے ہوتاہے جہاں اسکی ملاقات صفورہ (Zipporah) اور اسکے باپ یترو (شعیب) (Jethro (Bible))سے ہوتی ہے۔موسیٰ گدڑیا بن کر انکی بھیڑوں کی دیکھ بھال کرنے لگتاہے، بعدازاں صفورہ سے شادی کرتاہے اور ایک بیٹے جیرسوم (Gershom) کا باپ بنتاہے۔

نو سال کے بعد پہاڑ کے پتھر لڑھکنے کی وجہ سے موسیٰ زخمی ہوکر گرجاتاہے، وہ دیکھتا ہے کہ ایک جلتی ہوئی جھاڑی اسکی آنکھوں کے سامنے ہےجبکہ ایک بچہ جو فرشتہ ہوتاہے بطور خدا کے نمائندے کے ظاہر ہوتاہے۔اپنے علاج کے دوران موسیٰ صفورہ کے سامنے اظہار کرتا ہے کہ خدا اس سے کیاچاہتاہے۔ یہاں پر دونوں میاں بیوی کے درمیان اختلاف پیدا ہوجاتاہے کیونکہ صفورہ سمجھتی ہے کہ مصر جانے کے بعد موسیٰ انکو چھوڑدے گا۔موسیٰ مصر واپس جاکے نون، یوشع اور ہارون عہ اپنے بھائی سے دوبارہ ملتاہے۔ وہاں وہ اپنی فوجی مہارت اور جنگی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر عبرانی نوجوانوں کی تربیت و نظم و نسق میں مصروف ہوجاتاہے۔ عبرانی غلام جنگی فنون کی تربیت حاصل کرنے کے بعد مصری افواج پر حملے شروع کردیتے ہیں جس کے نتیجے میں فرعون رعمسیس دوم بہت سے یہودی عبرانیوں کو سزائے موت دینا شروع کردیتاہے جب تک کہ عبرانی غلام موسیٰ کو فرعون کے حوالے نہ کردیں۔اسی دوران فرشتہ دوبارہ ظاہر ہوکر موسیٰ کا بتاتا ہے کہ خدا اب مصریوں کو دس عذابوں سے دوچار کریگا۔ زمین کا تمام پانی سرخ خون میں بدل جائیگا، مصریوںپر مینڈکوں ، مکھیوں اور ٹڈی ڈل کی مصیبت نازل کریگا۔ موسیٰ دوبارہ رعمسیس دوم کے روبرو جاتاہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ تمام عبرانیوں کو مصریوں کی غلامی سے آزادی دی جائے۔رعمسیس موسیٰ کا بات سنی ان سنی کرتے ہوئے اصرار کرتاہے کہ عبرانیوں کو آزاد کردینے سے مصر کی معیشت تباہ ہو جائے گی۔جس کے بعد بار برداری کے جانوروں کی موت، پھوڑے پھنسیوں کا نکلنا، بجلی کی گرج و چمک اور تاریکی جیسے عذاب مصریوں پر مسلط ہوجاتے ہیں اس کے برعکس عبرانیوں کو ان عذابات سے قطعی نقصان نہیں پہنچتا۔اس کے بعد فرشہ جب موسیٰ کو بتاتا ہے کہ اب خدا نے ارادہ کیاہے کہ تمام پہلوٹھوں کی موت کے عذاب سے لوگوں کو دوچار کرے تو موسیٰ یہ سن کر دہشت زدہ ہوجاتاہے۔تاہم عبرانیوں نے موسیٰ کی ہدایات کیمطابق اپنے گھروں کے دروازوں پر بھیڑ کا خون لگایا جس کی وجہ سے وہ محفوظ رہے۔ جبکہ رعمسیس دوم کے بیٹے کی موت نے رعمسیس کو توڑ کررکھ دیا،اور موسیٰ وہ عبرانیوں کو مصر چھوڑنے کا اشارہ دے دیا۔ مصر چھوڑتے وقت عبرانیوں نے موسیٰ کی ہدائت کیمطابق بحر احمر والا راستہ منتخب کیا۔ رعمسیس دوم جو تاحال اپنے پہلوٹھے بیٹے کی موت کی وجہ سے صدمے میں ڈوبا ہواتھا ، نے عبرانیوں کا پیچھا کرنا کا فیصلہ کیا اور ایک بڑی فوج کے ساتھ ان کے پیچھے روانہ ہوا۔ خطرناک پہاڑی راستوں سے گزرنے کے بعد جب رعمسیس دوم عبرانیوں کے پیچھے پہنچا تو وہ بحیرہ احمر کے انتہائی قریب پہنچ چکے تھے۔ موسیٰ نے اس مشکل میں اپنی تلوار سمندر کے پانی میں پھینک دیتاہے تو اچانک خلاف توقع سمندر کا پانی کم ہوکر گزرگاہ کی شکل اختیار کرجاتاہے جہاں سے عبرانی بہ آسانی گزرجاتے ہیں۔ رعمسیس دوم اور اسکی فوج بھی عبرانیوں کے پیچھے گزرنا چاہتی ہے جبکہ موسیٰ پیچھے رک کر رعمسیس اور اسکی فوج کا سامنا کرتاہے۔ اسی دوران کہ جب مصریوں کی ایک کثیر جماعت عین سمندر کے درمیان پہنچ جاتی ہے تو سمندر اپنی اصل صورت پر واپس آنا شروع ہوجاتاہے اور مصری فوج سمندر برد ہوجاتی ہے۔اس فلم میں دکھایاگیاہے کہ رعمسیس دوم سمندر میں نہیں ڈوبتا تاہم وہ مصری فوج کی تباہی پر پریشان ہوتاہے۔موسیٰ عبرانیوں کو واپس مدائن لیجاتاہے جہاں وہ دوبارہ صفورہ اور اپنے بیٹے جیرسوم سے ملتا ہے۔کوہ سینا پر فرشتہ اس بات سے سخت ناراض ہوتاہے کہ عبرانیوں نے سونے کا بچھڑا بنالیاہے جبکہ موسیٰ تختیوں پر دس احکام لکھنے میں مصروف ہوتاہے۔برسوں بعد جبکہ موسیٰ عمر رسیدہ ہوچکاہوتاہےصحرا میں تابوت سکینہ کے ساتھ سفر کرتے ہوئے دیگر عبرانیوں کے ہمراہ فرشتے کو دیکھتاہے۔

ستارے[ترمیم]

  • کرسٹیان بیل بطور موسیٰ
  • جوئیل ایجرٹن بطور رعمسیس دوم
  • جان ٹرٹرے بطور سیتی اول
  • ہارون پال بطور یوشع
  • بین مینڈلسن بطور نائب السلطنت و نگران غلامان یہود
  • بین کینگسلے بطور نون
  • سگارنے ویور بطور طویا (ملکہ)
  • ماریہ ویلورد بطور صفورہ
  • اندرا ورما بطور کاہنہء اعظم
  • ہیام عباس بطور بثیاۃ
  • کیوورک مالکان بطوریترو (شعیب)
  • انٹون اسکندر بطور داتن
  • گلشفتہ فراحانی بطور نفرتاری
  • تارا فیتز جیرالڈ بطور مریم(موسیٰ کی بہن)
  • در سالم بطور خیان
  • اینڈریو تاربت بطور ہارون
  • اسحاق اندریاس بطور فرشتہ

پیشکش/تیارے کے مراحل[ترمیم]

ابتدائی خبریں[ترمیم]

مورخہ15مارچ 2013 کو ایک مخزن(Magazine)نے خبر دی کہ رڈلے اسکاٹ اپنی فلم میں کرسٹیان بیل کو مرکزی کردار کے لیے منتخب کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔بعدازاں اگست کے مہینے میں کرسٹیان نے ازخود تصدیق کردی کہ وہ فلم میں موسیٰ کا کردار ادا کرنے کے لیے رضامند ہیں، اسی دن جوئیل ایجرٹن نے کو بھی اسی فلم میں رعمسیس دوم کے کردار کے لیے منتخب کرکے ستمبر میں فلم کی عکسبندی کے آغاز کااعلان کیاگیا۔فن گاہ انتظامیہ کی طرف سے اعلان کیاگیاکہ ہسپانیہ کے شہر المریہ کے ایک بلدیاتی علاقے پچینا میں تین ہزار سے چار ہزار اضافی نفر کے ساتھ جبکہ فوئرتے ونتورا کے جزیرے پر ایک ہزار سے دوہزار اضافی نفر کے ہمراہ فلم کے مناظر کی عکسبندی کی جائے گی۔27اگست کو ہارون پال نے یوشع کا کردار اداکرنے کے لیے ہامی بھر لی جبکہ اس وقت تک سگارنے ویور،بین کینگسلے اورجان ٹرٹرےکےلئے کرداروں کےبارے میں متضاداطلاعا ت تھیں ۔اسکاٹ کا کہنا ہے کہ اسے یقین ہے کہ 3000 ق م میں اطالوی ساحل کی زمین کے نیچے ایک زلزلے کی وجہ سے سونامی برپا ہوا تھا جس کی وجہ سے بنی اسرائیلیوں کو بحیرہ احمر عبور کرنے میں آسانی رہی۔

عکسبندی[ترمیم]

اکتوبر2013کوالمریہ میں فلم کی عکسبندی کا آغازہوا۔بعدازاں انگلستان میں واقع پائین ووڈ فنگاہ میں عکسبندی کے لیے بھی وقت و مقامات کا تعین کیاگیا۔مجموعی طور پر عکسبندی کا آغاز 22اکتوبر کو المریہ کے قصبے تابرناس میں ہوا اور مختلف مقامات جیساکہ فوئرتے ونتورا ،المریہ اورپچینامیں عکسبندی کی گئی۔ اس فلم کی عکسبندی 74 دن تک جاری رہی۔

قبل از پیشکش[ترمیم]

اس فلم میں مجموعی طور پر 1500 سے زائد صوتی اثرات کا کمال ہےتاکہ عبرانی روایات کیمطابق مینڈکوں، ٹڈی دل اور اولوں کے مناظر کی عکاسی کی جاسکے،حتیٰ ایک بار بالکل حقیقی جل تھلیل جن کی تعداد400 سے زائد تھی کو عکسبندی کے مقام پر لایاگیاتھا۔8جولائی2014 کو خبر دی گئی کہ البرٹو اگلسیاس بھی ہیری گریگ سن کے ساتھ اس فلم کے لیے موسیقی مرتب کر رہے ہیں۔
اسکاٹ نے ایکسیس ہالی وڈ کو ایک بیان دیتے ہوئے کہاکہ اس فلم کا دورانیہ 4 گھنٹے تھا تاہم چھوٹے بڑے پردے پر نمائش کے لیے صرف 90 منٹ دورانیہ کی فلم پیش کی گئی ہے۔

نمائش[ترمیم]

اس فلم کو دسمبر کے اولین اختتامی ہفتے مورخہ 4 اور 5 دسمبر کومختلف ممالک (جنوبی کوریا، میکسیکو،ہانگ کانگ اور ہندوستان)سمیت دنیا بھر ک6462 سینماؤں میں نمائش کے لیے پیش کیاگیا۔ 12 دسمبر کو شمالی امریکہ کے خطے میں اس فلم کو 3503سینماؤں میں جبکہ 26دسمبر کو برطانیہ میں نمائش کے لیے پیش کر دیاگیا۔ اس فلم کو روایتی طریقے سے دو جہتی، سہ جہتی (2D, 3D)اور سہ جہتی آئی ماکس (IMAX 3D)اشکال میں پیش کیاگیاتھا۔

پذیرائی[ترمیم]

باکس آفس[ترمیم]

اس فلم نے افتتاح کے دن امریکہ بھر میں8.7ملین امریکی ڈالر کمائے۔افتتاحی ہفتے میں اس فلم نے 24,114,935ڈالر کمائے یعنی اوسطا فی سینما 6,884ڈالر۔ یہ شرح آمدنی دیگر بائبلی داستان نوح کی آمدنی سےکمتر تھی۔

تنقید[ترمیم]

اس فلم پر بہت منفی اور مثبت تبصرے موصول ہوئے ہیں۔اس فلم میں اداکاروں کی اداکاری اور تکنیکی مہارت قابل تعریف ٹھہری تاہم اس فلم کے کمتر درجے کے مکالمے ، مناظر کی رفتار اوراداکاری میں ٹھہراؤ نے مجموعی طور پر فلم پر منفی اثر ڈالا۔ اسٹیفن فاربر جو ہالی ووڈ کے نامہ نگار ہیں نے اس فلم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسکاٹ نے زبردست کام انجام دیاہے،اسکاٹ نے خروج: خدایان اوربادشاہان فلم بناکر اطالوی انداز کی جنگی فلموں کی یاد تازہ کردی جیساکہ انہوں نے اس سے قبل گلیڈی ایٹر (فلم) بناکر کارنامہ انجام دیاتھا۔گو کہ یہ فلم گلیڈی ایٹر جیسی فلموں جیسی نہیں تاہم اسکاٹ نے ثابت کر دیاہے کہ بڑے پردے کے لیے تخیلات کو عملی شکل دینا ان کے لیے ناممکن نہیں۔ پطرس تراورس جو ہفتہ وار رسالے رولنگ اسٹون میں فلمی ناقد کی حیثیت سے کام کرتے ہیں اس فلم کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ بائیبلی دیومالائی فلم کا آغاز نہائت تیز انداز میں ہے لیکن اس کا دیکھنے والے کے لیے پر تحرک اور متاثر کن ہے۔ دوسری طرف منفی تبصرہ نگاروں نے بھی اس فلم کے بارے میں تبصرے کئے ہیں جن میں سے خاص اسکاٹ مینڈلسن جو امریکی کاروباری رسالے فاربس سے منسلک ہیں کہتے ہیں کہ فلم تیرہ رنگ اور مانند ریگ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فلم میں شوخ پن اور ہیجان انگیزی کی کمی ہے، ماہرانہ اور فنکارانہ توسیع و تشریح اور نکات دقیق و ظرافت کی کمی ہے جیساکہ اس بارے میں توقع کی جارہی تھی۔منڈلسن نے مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ رڈلے کی یہ فلم نہائت وحشتناک ہے۔ اس فلم میں نہائت برے طریقے سے اداکاری ہی نہیں کی گئی بلکہ لکھنے والے نے بھی انتہائی گھٹیا انداز میں تحریر کیاہے۔ ایک اور تبصرہ نگار نے منفی تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر آپ خروج: خدایان اور بادشاہان دیکھنے جارہے ہیں جس کی تکمیل رڈلے کی ہدائتکاری میں ہوئی ہے تو اس فلم میں آپکو موسیٰ کے بارے میں رڈلے کی طرف سے کوئی نئی چیز نہیں ملے گی جیساکہ دیگر دو فلموں (دس احکام وغیرہ)سے میسر آئی ہے۔ آپ خود کو مایوس کرنے کے لیے تیار کر لیں۔

تنازعات[ترمیم]

رنگ و نسل میں عدم مطابقت[ترمیم]

دو معتبرذرائع کے حوالے سے یہ بات مشہور ہوئی کہ مرکزی کرداروں کے لیے سفیدفام اداکاروں کا انتخاب احتجاج کا سبب بنا۔چار سفید فام اداکاروں کو عبرانی اور قدیم مصری کردار نبھانے کے لیے منتخب کیاگیا۔ کرسٹیان بیل بطور موسیٰ، جوئیل ایجرٹن بطور رعمسیس دوم، سگارنے ویور بطور طویا (ملکہ) اور ہارون پال بطور یوشع۔انہی ذرائع کے حوالے سے یہ اہم بات بھی مشاہدے میں آئی کہ سماجی روابط کی ویب سائٹس پر ابوالہول کے یورپی ہونے پر چہ مہ گوئیاں ہورہی ہیں۔ کرسچین ٹوڈے نے اطلاع دی کہ اس حوالے سے ایک آن لائن شکائت زیر کار ہے۔1956 میں بننے والی فلم دس احکام اور خروج کا باہم موازنہ کرتے ہوئے کہاگیاکہ نسلی ماحول اور ایک کثیر تعداد میں سیاہ فام اداکاروں کو وسیع تر مواقع حاصل تھے کہ وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔ ٹویٹر کے صارفین میں سے باز نے اس فلم کا مقاطع بھی کیا۔ مینڈلسن نے کہاکہ فلم میں سفید فام اداکاروں کی زیادہ ضرورت نہیں تھی۔ مینڈلسن نے مزید کہاکہ اگر ہم بالفرض محال اس شہادت کو مان لیں کہ موسیٰ کے کردار کے لیے دنیا کے نامی گرامی کردار کا انتخاب لازمی ہے تو پھر ہر امکان سے وہ اداکار سفید فام ہوگا۔ لیکن میں اس کو نہیں مانتا کہ باقی کرداروں کے لیے قفقازی اداکاروں کو منتخب کرلیاجائے جنکی شناخت تغیر پزیر ہے۔ اسکاٹ نے تمام تنازعات کے بارے میں تردید کرتے ہوئے کہاکہ کسی فلم میں اہم کردار کے لیے دنیا کے نامی گرامی اداکار کا انتخاب نہائت ضروری امر ہے لیکن جو لوگ اس فلم کا مقاطع کر رہے ہیں وہ ابھی طفل ہیں۔

بائبل کی درستی[ترمیم]

فلم کی نمائش سے قبل ہی اسکاٹ کے بیانات سے کافی تنازعات اور مباحث جنم لینے لگے۔ مثال کے طور پر اسکاٹ نے کہا کہ اسکا نظریہ ہے کہ بنی اسرائیلیوں کے بحیرہ احمر عبور کرنے سے پہلے بہت سے فطری عوامل رونما ہوئے، جیساکہ زیر زمین زلزلہ اور بعد ازاں سونامی سبب بناکہ سمندر کا پانی سمٹ کر دائیں بائیں ہٹ جانے سے راستہ بن گیا۔ اسی طرح کے عجیب و غریب بیانات کے ضمن میں یہ بات سمجھ میں آنے والی تھی کہ فلم اور بائبل میں بیان واقعہ میں مطابقت نہیں ہوگی اور نہ ہی موسیٰ وہی موسیٰ ہوگا جو بائبل میں بیان ہواہے۔ بعض نے کہاکہ مسیحی فلم دیکھنے نہ جائیں۔ ایلن وہائٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ اس نے یہ فلم دیکھ کر اخذ کیاہے کہ اس فلم اور بائبل میں نہائت زیادہ اختلافات ہیں، اس نے کہاکہ اس فلم میں صرف چند عذاب عکسبند کئے گئے ہیں جبکہ کل عذاب دس طرح کے تھے، جبکہ ہدائتکار نے ان عذابوں کی توجیہ اور تاویل کچھ الگ انداز سے کی ہے۔ بائبل میں واضح ہے کہ یہ عذاب صرف مصریوں پر نازل ہوئے تھے، بنی اسرائیلیوں کو ان عذابوں سے کوئی نقصان نہیں ہوا تھا لیکن فلم ہذا میں مصریوں کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیلی بھی عذاب سے دوچار دکھائے گئے ہیں۔ اس نے گفتگو سمیٹتے ہوئے کہاکہ اسکاٹ نے بائبل سے اسقدر اختلافی فلم بنائی کے بائبلی نام بھی بہت کم استعمال کئے ہیں حتیٰ کہ اس فلم کا نام بھی غیر بائبلی ہے جسے کوئی آسانی سے سمجھ نہیں سکتا۔

تاریخی غلط بیانی[ترمیم]

26دسمبر 2014 کو یہ اطلاع ملی کہ مصر نے اس فلم کی نمائش پر پابندی عائد کردی ہے کیونکہ فلم میں دکھایاگیاہے کہ اہرام بنی اسرائیلیوں نے تعمیر کئے تھے جبکہ اصل حقیقت یہ بیان کی جاتی ہے کہ بنی اسرائیلیوں کے مصر سے خروج سے ایک ہزار سال قبل اہرام تعمیر کیے گئے تھے۔مصر کے وزیر ثقافت نے کہا کہ فلم کی نمائش پر پابندی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس فلم میں باطل کی طرفداری کی گئی ہے۔ مصر کے ذمہ دار ادارہ کی طرف سے اس فلم پر پابندی کا ایسااثر نہ ہوا جیسا اس سے قبل دیگر بائبلی داستانوں کی فلموں پر ہوتاتھا لیکن اس کے برعکس مصر کی جامعہ الازہر نے اس فلم کے محتویات پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہ کیاجیساکہ اس قبل الازہر کی طرف سے نوح عہ فلم پر کیاتھا۔

مسلم ردعمل اور پابندی[ترمیم]

دین اسلام میں موسیٰ عہ کو اولوالعزم نبی اور رسول کا درجہ حاصل ہے۔ برطانیہ کے نشریاتی ادارے نے خبر دی کہ اگرچہ مراکش کے سرکاری ادروں نے فلم کی نمائش کے لیے مثبت اشارہ دیاہے لیکن عین فلم کی افتتاحی تقریب سے ایک یوم قبل مراکش نے فلم کی نمائش پر پابندی عائد کردی۔تاہم 2015کے اوائل میں مراکش کے اداروں نے فلم کے مکالموں میں تھوڑی ترمیم و تبدیلی کے بعد فلم کو نمائش کی اجازت دے دی۔ متحدہ عرب امارات میں بھی اس فلم کی نمائش پر پابندی لگادی گئی، مجاز افسروں کا کہنا تھا کہ اس فلم میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو ناصرف اسلام کے مطابق نہیں بلکہ وہ مسیحیت اور یہیودیت سے بھی مطابقت نہیں رکھتیں، فلم کا معاملہ زیر غور ہے۔ کویت میں بھی فلم پابندی کا شکار ہوئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "EXODUS: GODS AND KINGS [2D] (12A)"۔ British Board of Film Classification۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ نومبر 21, 2014۔
  2. "Exodus Gods and Kings (2014)"۔ British Film Institute۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ دسمبر 15, 2014۔
  3. "'Exodus: Gods and Kings' Director Ridley Scott on Creating His Vision of Moses"۔ Variety۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ نومبر 26, 2014۔
  4. "Exodus: Gods and Kings (2014)"۔ Box Office Mojo۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جنوری 21, 2015۔