خروٹ آباد قتل واقعہ، مئی 2011

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

17 مئی 2011 کو کوئٹہ کے نزدیک خروٹ آباد میں فرنٹیئر کانسٹیبلری نے 5 چیچن باشندوں کو ماورائے عدالت قتل کر دیا۔ شروع میں حکام نے دعوی کیا کہ یہ لوگ خودکش بمبار تھے اس لیے ان پر فائرنگ کی گئی تاہم بعد میں سامنے آنے والی وڈیو میں یہ لوگ نہتے نظر آتے ہیں۔[1]

بیرونی ربط پر ویڈیو
مقتولین کی تدفین

ان افراد میں 2 مرد اور 3 عورتیں تھیں، ایک عورت 7 ماہ کی حاملہ تھی۔ اطلاعات کے مطابق مقامی پاسبان نے پہلے ان افراد سے مختلف مقامات پر رشوت لی اور بعد میں جب یہ لوگ شکایت کے لیے سرحدی سپاہ کی چوکی کی طرف جانے لگے تو پاسبان نے سپاہ کو اطلاع کی کہ خودکش بمبار ان کی چوکی کی طرف آ رہے ہیں۔[2]

عدالتی تحقیقات[ترمیم]

صحافیوں کی طرف سے واقع کی اشاعت کے بعد اعلی حکام نے واقعہ کی تحقیقات اعلی عدالت کے سپرد کر دی۔[3] دسمبر 2011ء میں واقعہ کی تحقیقات سے مطلقہ الشرعی طبیب کو قتل کر دیا گیا۔[4]

  1. [۔ 4 جون 2011 http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/06/110604_quetta_killing_inquiry_zz.shtml۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جون 2011۔ |title= غیر موجود یا خالی ہے (معاونت) "سانحہ خروٹ آباد:'خودکش جیکٹس نہیں تھیں'"] Check |url= value (معاونت)۔ بی بی سی اردو۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جون 2011۔ templatestyles stripmarker in |url= at position 985 (معاونت)
  2. اشتیاق بیگ (25 مئی 2011ء)۔ "کوئٹہ میں بے گناہ چیچن باشندوں کا بہیمانہ قتل...آج کی دنیا"۔ روزنامہ جنگ۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جون 13, 2011۔
  3. "'غیر ملکیوں کی موت گولیاں لگنے سے ہوئی'"۔ بی بی سی موقع۔ 14 جون 2011ء۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جون 13, 2011۔
  4. "Kharotabad killings: Police surgeon shot dead in Quetta"۔ ڈان۔ 29 دسمبر 2011ء۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔