خزیمہ بن ثابت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خزیمہ بن ثابت
معلومات شخصیت
وفات جولا‎ئی 657  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جنگ صفین  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

خزیمہ بن ثابت غزوہ بدر میں شامل صحابی ہیں۔

نام و نسب[ترمیم]

خزیمہ نام، ابو عمارہ کنیت، ذوالشہادتین لقب، سلسلۂ نسب یہ ہے خزیمہ بن ثابت بن فاکہ بن ثعلبہ بن ساعدہ بن عامر بن عیان بن عامر بن خطمہ (عبد اللہ) بن جشم بن مالک بن اوس، والدہ کا نام کبشہ بنت اوس تھا اور قبیلہ خزرج کے خاندان ساعدہ سے تھیں۔

اسلام[ترمیم]

ہجرت سے پیشتر مشرف باسلام ہوئے اور عمیر بن عدی بن خوشہ کو لے کر اپنے قبیلہ (خطمہ) کے بت توڑے۔

غزوات اور شہادت[ترمیم]

حضرت خزیمہ بن ثابت نے تمام غزوات میں شرکت کی۔ فتح مکہ میں بنو خطمہ کا علم ان کے پاس تھا، علی المرتضیٰ کی دونوں لڑائیوں میں ان کے ساتھ تھے،

جنگِ جمل میں محض رفاقت کی لیکن حکمت عملی کے تحت، لڑائی میں حصہ نہیں لیا،

جنگ صفین میں اولاً خاموش رہے، لیکن جب عمار بن یاسر، مولا علی بن ابی طالب کی طرف سے لڑتے ہوئے، معاویہ کی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے تو خزیمہ ذو الشہادتین نے تلوار نیام سے نکالی اور فرماتے جاتے تھے کہ اب گمراہی آشکارا ہو گئی میں نے آنحضرتﷺ سے سنا تھا کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا، چنانچہ اس معرکہ میں لڑتے ہوئے شہادت حاصل کی، یہ 37ھ کا واقعہ ہے۔[1] جب نبی اکرم کے فرمان کے مطابق، ان اکیلے کی گواہی دو کے برابر ہے تو نبی اکرم کے ماننے والوں کے لئے ان کے اس عظیم صحابی کی بات کافی ہونی چاہیئے۔

ذوالشہادتین[ترمیم]

آنحضرت نے ایک بدو سے گھوڑا خریدا آپ نے ابھی دام ادا نہیں کیے تھے کہ بدو نے کسی اور سے قیمت طے کر لی اور رسول اللہ کے مطالبہ پر جواب دیا کہ میں نے گھوڑا آپ کے ہاتھ نہیں بیچا۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ میں تم سے خرید چکا ہوں۔ جس پر اس بدو نے کہا کہ گواہ لائیے۔ اس پر اور سب مسلمان تو خاموش رہے لیکن خزیمہ نے بڑھ کر کہا میں گواہ ہوں کہ تم نے رسول اللہ کے ہاتھ گھوڑا فروخت کیا ہے۔ چونکہ سودا کرتے وقت خزیمہ وہاں موجود نہ تھے۔ اس لیے رسول اللہ نے ان سے پوچھا کہ تم کس طرح گواہی دیتے ہو؟ آپ نے کہا کہ میں آپ کی بات کی تصدیق کرتا ہوں۔ اس پر حضور نے خوش ہو کر ان کو ذوالشہادتین کا لقب دیا۔ یعنی ان کی شہادت دو آدمیوں کی شہادت کے برابر کر دی۔[2] آپ نے رسول اللہ کی 38 احادیث بیان کی ہیں۔ جو کتب احادیث میں موجود ہیں۔

فضائل[ترمیم]

ان کے فخر و فضیلت کے لیے یہ واقعہ کافی ہے کہ ایک مرتبہ خواب دیکھا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی جبین مبارک کا بوسہ لے رہا ہوں، اس کو انہوں نے آپﷺ سے بیان کیا، تو فرمایا کہ آپ اپنے خواب کی تصدیق کرسکتے ہو، چنانچہ حضرت خزیمہؓ نے اٹھ کر پیشانی اطہر کا بوسہ لیا۔[3]

اولاد[ترمیم]

حسب ذیل اولاد چھوڑی، عمارہ، عمرو، عمرہ

اخلاق[ترمیم]

جوش ایمان اور حب رسول، بیاض اسلام کے چمکتے ہوئے حروف ہیں، جوش ایمان کا اندازہ ذیل کے واقعہ سے ہوسکتا ہے۔

آنحضرتﷺ نے ایک بدو سے گھوڑا خریدا اور دام طے کر کے چلے آئے لوگوں کو اس کی خبر نہ تھی، اس لئے خریداری کے لئے اس کی قیمت بڑھا کر دی، اس شخص نے آنحضرتﷺ کو آواز دی کہ لینا ہو تو لو ورنہ میں دوسرے سے سودا کر چکا، آنحضرتﷺ نے فرمایا تم تو میرے ہاتھ فروخت کر چکے ہو، بولا واللہ میں نے نہیں بیچا اور اگر بیچا ہو تو کوئی گواہ لاؤ، مسلمان اس گفتگو کو سن کر جمع ہو گئے اور کہا رسول اللہ ﷺ سچ کہتے ہیں، حضرت خزیمہؓ بھی پہنچ گئے اور کہا میں گواہ ہوں تم نے آنحضرت ﷺ کے ہاتھ فروخت کیا تھا، اس جرأت پر خود آنحضرتﷺ کو حیرت ہوئی فرمایا "لم تشھد؟" تم کس طرح گواہی دیتے ہو عرض کیا "بتصدیقاتک یا رسول اللہ" آپ کی بات کی تصدیق کر رہا ہوں۔

آنحضرتﷺ نے اسی روز سے خزیمہ کی شہادت دو آدمیوں کی شہادت کے برابر کر دی،[4] اور ان کی یہ خصوصیت، ذوالشہادتین ان کا لقب پڑ گیا۔

بخاری میں بھی ضمناً اس واقعہ کا ذکر آیا ہے، حضرت زید بن ثابتؓ سے روایت ہے کہ جب ہم نے مصاحف نقل کئے تو سورہ احزاب کی ایک آیت جس کو ہم آنحضرتﷺ سے سنتے تھے نہیں پائی، یہ آیت خزیمہؓ انصاری کے پاس تھی، جن کی شہادت رسول اللہ ﷺ نے دو آدمیوں کے برابر کی تھی وہ آیت یہ ہے۔

مِنْ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ [5]

اوس و خزرج میں جب باہم مفاخرت ہوئی تو اوسیوں نے حضرت خزیمہؓ کا نام بھی فخر کے طور پر پیش کیا تھا۔[6] ان کے فخر و فضیلت کے لئے یہ واقعہ کافی ہے کہ ایک مرتبہ خواب دیکھا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی جبین مبارک کا بوسہ لے رہا ہوں، اس کو انہوں نے آپﷺ سے بیان کیا، تو فرمایا کہ آپ اپنے خواب کی تصدیق کر سکتے ہو، چنانچہ حضرت خزیمہؓ نے اٹھ کر پیشانی اطہر کا بوسہ لیا۔[7]

بعض روایتوں میں ہے کہ سجدہ کرتے دیکھا تھا اور آنحضرتﷺ نے اپنی جبین مقدس سے ان کی پیشانی مس کی،(مسند:۵/۲۱۵) اس طرح پر اس خواب کی تعبیر پوری ہوئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 1942
  2. سنن نسائی:جلد سوم:حدیث نمبر 956
  3. مسند: 5/214
  4. (مسند بن حنبل:۱۵/۲۱۵،۲۱۶)
  5. (بخاری، بَاب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:۹/۳۷۵)
  6. (اصابہ:۲/۱۱۱)
  7. (مسند:۵/۲۱۴)