مندرجات کا رخ کریں

خزیمہ بن ثابت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
خزیمہ بن ثابت

معلومات شخصیت
وفات جولا‎ئی657ء   ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات لڑائی میں مارا گیا   ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت خلافت راشدہ   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ عسکری قائد   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں جنگ جمل ،  جنگ صفین   ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ(وفات: 37ھ) غزوہ بدر میں شامل صحابی ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہجرت سے قبل مشرف باسلام ہوئے۔تمام غزوات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے ۔جنگ صفین میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے شہید ہوئے ۔

نام و نسب[ترمیم]

خزیمہ نام ، ابو عمارہ کنیت، زوالشہادتین لقب، سلسلۂ نسب یہ ہے خزیمہ بن ثابت بن فاکہ بن ثعلبہ بن ساعدہ بن عامر بن عیان بن عامر بن خطمہ (عبد اللہ) بن جشم بن مالک بن اوس، والدہ کا نام کبشہ بنت اوس تھا اور قبیلہ بنو خزرج کے خاندان ساعدہ سے تھیں۔ [1]

اسلام[ترمیم]

حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہجرت سے پیشتر مشرف باسلام ہوئے اور عمیر بن عدی بن خوشہ کو لے کر اپنے قبیلہ (خطمہ) کے بت توڑے۔ [2]

غزوات اور شہادت[ترمیم]

حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام غزوات میں شرکت کی۔ فتح مکہ میں بنو خطمہ کا علم ان کے پاس تھا، علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دونوں لڑائیوں میں ان کے ساتھ تھے،

جنگِ جمل میں محض رفاقت کی لیکن حکمت عملی کے تحت، لڑائی میں حصہ نہیں لیا،

جنگ صفین میں اولاً خاموش رہے ، لیکن جب عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ، علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے لڑتے ہوئے، معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے تو خزیمہ ذو الشہادتین نے تلوار نیام سے نکالی اور فرماتے جاتے تھے کہ اب گمراہی آشکارا ہو گئی میں نے آنحضرت سے سنا تھا کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا، چنانچہ اس معرکہ میں لڑتے ہوئے شہادت حاصل کی، یہ 37ھ کا واقعہ ہے۔[3] جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق، ان اکیلے کی گواہی دو کے برابر ہے تو نبی اکرم کے ماننے والوں کے لیے ان کے اس عظیم صحابی کی بات کافی ہونی چاہیے۔ [4]

ذوالشہادتین[ترمیم]

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بدو سے گھوڑا خریدا آپ نے ابھی دام ادا نہیں کیے تھے کہ بدو نے کسی اور سے قیمت طے کر لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطالبہ پر جواب دیا کہ میں نے گھوڑا آپ کے ہاتھ نہیں بیچا۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ میں تم سے خرید چکا ہوں۔ جس پر اس بدو نے کہا کہ گواہ لائیے۔ اس پر اور سب مسلمان تو خاموش رہے لیکن خزیمہ نے بڑھ کر کہا میں گواہ ہوں کہ تم نے رسول اللہ کے ہاتھ گھوڑا فروخت کیا ہے۔ چونکہ سودا کرتے وقت خزیمہ وہاں موجود نہ تھے۔ اس لیے رسول اللہ نے ان سے پوچھا کہ تم کس طرح گواہی دیتے ہو؟ آپ نے کہا کہ میں آپ کی بات کی تصدیق کرتا ہوں۔ اس پر حضور نے خوش ہو کر ان کو ذوالشہادتین کا لقب دیا۔ یعنی ان کی شہادت دو آدمیوں کی شہادت کے برابر کر دی۔[5] آپ نے رسول اللہ کی 38 احادیث بیان کی ہیں۔ جو کتب احادیث میں موجود ہیں۔ [6]

فضائل[ترمیم]

ان کے فخر و فضیلت کے لیے یہ واقعہ کافی ہے کہ ایک مرتبہ خواب دیکھا کہ میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جبین مبارک کا بوسہ لے رہا ہوں، اس کو انھوں نے آپ سے بیان کیا، تو فرمایا کہ آپ اپنے خواب کی تصدیق کرسکتے ہو، چنانچہ حضرت خزیمہؓ بن ثابت نے اٹھ کر پیشانی اطہر کا بوسہ لیا۔[7] ،[8][9]

اولاد[ترمیم]

حسب ذیل اولاد چھوڑی، عمارہ، عمرو، عمرہ

اخلاق[ترمیم]

خزیمہ بن ثابت جوش ایمان اور حب رسول، بیاض اسلام کے چمکتے ہوئے حروف ہیں، جوش ایمان کا اندازہ ذیل کے واقعہ سے ہو سکتا ہے۔

آنحضرت نے ایک بدو سے گھوڑا خریدا اور دام طے کر کے چلے آئے لوگوں کو اس کی خبر نہ تھی، اس لیے خریداری کے لیے اس کی قیمت بڑھا کر دی، اس شخص نے آنحضرت کو آواز دی کہ لینا ہو تو لو ورنہ میں دوسرے سے سودا کر چکا، آنحضرت نے فرمایا تم تو میرے ہاتھ فروخت کر چکے ہو، بولا واللہ میں نے نہیں بیچا اور اگر بیچا ہو تو کوئی گواہ لاؤ، مسلمان اس گفتگو کو سن کر جمع ہو گئے اور کہا رسول اللہ سچ کہتے ہیں، حضرت خزیمہؓ بھی پہنچ گئے اور کہا میں گواہ ہوں تم نے آنحضرت کے ہاتھ فروخت کیا تھا،اس جرأت پر خود آنحضرت کو حیرت ہوئی فرمایا "لم تشھد؟" تم کس طرح گواہی دیتے ہو عرض کیا "بتصدیقاتک یا رسول اللہ" آپ کی بات کی تصدیق کر رہا ہوں۔

آنحضرت نے اسی روز سے خزیمہ کی شہادت دو آدمیوں کی شہادت کے برابر کر دی،[10] اور ان کی یہ خصوصیت، ذوالشہادتین ان کا لقب پڑ گیا۔

بخاری میں بھی ضمناً اس واقعہ کا ذکر آیا ہے، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم نے مصاحف نقل کیے تو سورہ احزاب کی ایک آیت جس کو ہم آنحضرت سے سنتے تھے نہیں پائی، یہ آیت خزیمہؓ بن ثابت انصاری کے پاس تھی ، جن کی شہادت رسول اللہ نے دو آدمیوں کے برابر کی تھی وہ آیت یہ ہے۔

مِنْ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ [11]

اوس و خزرج میں جب باہم مفاخرت ہوئی تو اوسیوں نے حضرت خزیمہؓ بن ثابت کا نام بھی فخر کے طور پر پیش کیا تھا۔[12] ان کے فخر و فضیلت کے لیے یہ واقعہ کافی ہے کہ ایک مرتبہ خواب دیکھا کہ میں رسول اللہ کی جبین مبارک کا بوسہ لے رہا ہوں، اس کو انھوں نے آپ سے بیان کیا، تو فرمایا کہ آپ اپنے خواب کی تصدیق کر سکتے ہو، چنانچہ حضرت خزیمہؓ نے اٹھ کر پیشانی اطہر کا بوسہ لیا۔[13]

بعض روایتوں میں ہے کہ سجدہ کرتے دیکھا تھا اور آنحضرت نے اپنی جبین مقدس سے ان کی پیشانی مس کی،[14] اس طرح پر اس خواب کی تعبیر پوری ہوئی۔ [15]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Al-islam.org[1] آرکائیو شدہ 2018-01-25 بذریعہ وے بیک مشین
  2. مسلم: كتاب الفتن وأشراط الساعة، باب لا تقوم الساعة حتى يمر الرجل بقبر الرجل فيتمنى أن يكون مكان (2916)
  3. مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 1942
  4. أُسد الغابة 3 /307. مصادر أخرى آرکائیو شدہ 2017-10-28 بذریعہ وے بیک مشین
  5. سنن نسائی:جلد سوم:حدیث نمبر 956
  6. ابن عساكر (1995)۔ تاريخ دمشق۔ 16۔ دار الفكر۔ صفحہ: 357 
  7. مسند: 5/214
  8. ابن منظور (1984) ، كتاب مختصر تاريخ دمشق (الطبعة الأولى)، دمشق: جار الفكر، صفحة 45، جزء 8.
  9. ابن حجر العسقلاني، الإصابة في تمييز الصحابة (الطبعة الأولى)، بيروت: دار الكتب العلمية، صفحة 239، جزء 2.
  10. (مسند بن حنبل:15/215،216)
  11. (بخاری، بَاب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:9/375)
  12. (اصابہ:2/111)
  13. (مسند:5/214)
  14. (مسند احمد بن حنبل :5/215)
  15. أبو نعيم الأصبهاني (1998)۔ معرفة الصحابة۔ الثاني (الأولى ایڈیشن)۔ دار الوطن۔ صفحہ: 914