خس و خاشاک زمانے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خس و خاشاک زمانے
مصنف مستنصر حسین تارڑ
ملک Flag of پاکستانپاکستان
زبان اردو
صنف ناول
ناشر سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور
تاریخ اشاعت
اول 2010ء، دوم 2014ء
ذرائع ابلاغ مطبوعہ (مجلد)
صفحات 740

خس و خاشاک زمانے پاکستان سے 2010ء میں شائع ہونے والا اردو ناول ہے جسے مشہور ادیب مستنصر حسین تارڑ نے تحریر کیا ہے۔

مواد[ترمیم]

"خس و خاشاک زمانے" کو پاکستان کی ایک ایسی دستاویز کہا جاسکتا ہے جو پاکستانی معاشرے کی اخلاقی اور تہذیبی اقدار اور اس کے بدلتے رویوں کو بیان کرتی ہے۔"خس و خاشاک زمانے" ضخیم ناول ہے جس میں دو خاندانوں کی کئی نسلوں پر پھیلی داستان بیان کی گئی ہے۔ اس ناول کی کہانی گوجرانوالہ کے گائوں نت کلاں کے گرد گھومتی ہے. تقسیم برصغیر کے بارے میں لکھ گیا یہ ناول ان تلخ تاریخی حقائق کو بیان کرتا ہے جن پہ بات کرنا پسند نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ان موضوعات پر بحث کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

موضوعات[ترمیم]

مستنصر حسین تاررڈ کا یہ ناول روایتی موضوعات سے بہت ہٹ کر لکھا گیا ہے۔ خس و خاشاک زمانے میں انھوں نے متعدد ایسے موضوعات کو ناول میں شامل کیا ہے جن پر بات کرنا پاکستان میں معیوب خیال کیا جاتا ہے۔ ان موضوعات میں تقسیم ہند، ناجائز طور پر پیدا ہونے والے بچے، مردو جانوروں کا گوشت کھانے،کسی حد تک لونڈے بازی اور ہم جنس پرستی، مغربی طرززندگی اور جسم فروشی کے علاوہ آبائی ملک کو چھوڑکر نقل مکانی کرنے والے خاندانوں حالات زندگی کے ساتھ ہی نائین الیون کے واقعات کے بعد پیدا ہونے والے اسلام دشمن رویے بھی شامل ہیں۔

تبصرے و آراء[ترمیم]

ریاض شاہد کتاب اور مصنف کے بارے میں کہتے ہیں،[1]

اس ناول میں تارڑ کا فن اپنے عروج پر نظر آتا ہے خصوصا فلیش بیک کی ٹیکنیک بار بار استعمال کی گئی ہے ۔ الفاظ کا چناو اور ان کا استعمال بڑی سوچ اور نفاست سے کیا گیا ہے ۔ ناول کی سب سے بڑی خوبی اس کا وہ ماحول میں جو تارڑ اپنے ڈائیلاگ کی مدد سے پیدا کر دیتا ہے کہ قاری ناول کے اختتام تک اس کے سحر سے آزاد نہیں ہو سکتا اور یہ انہیں کا خاصہ ہے ۔ حقیقت پسندی کا درس ناول کا تھیم ہے جسے تارڑ علامات کے ذریعے واضح کرتا ہے مثلا اچھو شیخ کا کردار جو مذہبی انتہا پسندی کا مظہر ہے گاؤں کا فاترالعقل نوجوان ہے جو بار بار اپنی ماں سے نظر بچا کر گلی میں غلاظت کے ڈھیر سے شیشہ تلاش کر کے اپنی گردن پر پھیرنا شروع کر دیتا ہے جس سے اسے لذت ملتی ہے۔ پتہ چلنے پر اس کی ماں آ کر اٹھا کر گھر لے آتی ہے لیکن وہ پھر موقع ملنے پر یہی عمل دہراتا رہتا ہے ۔ ناول میں 1947ء کے فسادات میں ہونے والی قتل و غارت ، معاشرے میں لوٹ مار کے رحجان کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]