خصوصی ضروریات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خصوصی ضروریات (انگریزی: Special needs)، خصوصی ضرورتیں، خصوصی حاجات، خصوصی حاجتیں ایسی اصطلاحات ہیں جنہیں متبادل طور پر زائد ضروریات (انگریزی: additional needs) زائد ضرورتیں، زائد حاجات اور زائد حاجتیں بھی کہا جاتا ہے، مطبی تشخیصی اظہار اور عملی ارتقاء کا بیان کرتی ہیں کہ جن پر ان اصطلاحات کا اطلاق کا ہو رہا ہے، وہ طبی، دماغی یا نفسیاتی معذوریوں سے دوچار ہیں۔ مطبی تشخیص کے لیے رہنمایانہ خطوط ڈائیگناسٹیک اینڈ اسٹیٹیسٹیکل مینوئیل اور بین الاقوامی جماعت بندی امراض کے نوویں ایڈیشن، دونوں میں موجود ہیں۔ رہنمایانہ خطوط میں ان امراض اور صلاحیتوں کے مکمل استعمال میں حائل ہونے والی کیفیات کا تفصیلی تذکرہ ہے جن کی وجہ سے خصوصی ضروریات یا زائد ضروریات جیسی ہم معنی اصطلاحات کا استعمال لازمی ہو سکتا ہے۔ یہ خصوصی ضروریات جسم کے اور حصوں کے ساتھ ساتھ ہاتھوں، پاؤں، آنکھوں، کانوں، زبانوں وغیرہ میں کسی ایک یا کئی پر مشتمل ہو سکتے ہیں۔[1] دماغی معذورین، چاہے وہ جنون سے دوچار ہوں یا پھر دماغ کے عمر کے حساب سے نشو و نما نہ ہونے کے سبب سے ہوں، ضروریات کا اپنا وسیع دائرہ پیش کرتے ہیں۔ ایضًا ہڈیوں اور خون کے امراض ہو سکتے ہیں جو ایک آدمی یا عورت کی زندگی، اس کی حرکات و سکنات کو دوسروں سے مختلف بناتے ہیں۔ خصوصی ضروریات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس کی شدت افراد میں مختلف ہو سکتی ہے۔ زبان کی معذوری کا شکار ایک شخص بالکل ہی گونگا ہو سکتا ہے، جب کہ دوسرا شخص محض ہکلاتا ہے یا پھر اس کی زبان میں توتلاہٹ ہوتی ہے۔ اسی طرح اور امراض اور معذوریاں اپنی ہیئت اور ہوعیت میں ہر شخص اور ہر فرد کے لیے ممکنہ طور پر مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس کی وجہ سے تعلیم تربیت گاہیں ایسے افراد کے لیے مختلف ہو سکتی ہیں۔ [2]


اثرات[ترمیم]

دنیا بھر میں معذوری ایک اہم موضوع بحث بن چکا ہے۔ اسی وجہ سے ٹیکا اندازی جدید دور میں ہر ملک میں سرکاری طور پر مفت دی جاتی ہے اور اس کی نجی طور پر معمولی خرچ پر سہولت دی جاتی ہے۔ پولیو جیسے مرض سے بچنے کے لیے وقت وقت پر حکومتیں زائد پولیو کے خطرے کم عمر بچوں کو مہیا کر رہی ہیں۔ کئی مقامات پر ابتدائی طبی امداد کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ اچانک حادثات کی وجہ سے لوگ مستقل معذوری کا شکار نہ ہوں۔ لوگوں کو بھی مشکل حالات اور عوامی صحت جیسے موضوعات کی تعلیم دی جا رہی ہیں۔ جسمانی معذوری کے حاملیں کے لیے حکومتی سطح پر کئی اسکول اور تربیتی ادارے بھی دنیا بھر میں بنائے گئے ہیں۔ کچھ عام درس گاہوں، اسکول اور کالج میں خصوصی نشستیں بھی دی گئی ہیں۔ کچھ ملکوں میں معذورین کے لیے کچھ سرکاری ملازمتوں میں تحفظ بھی فراہم کیا گیا ہے۔

جسمانی معذوری سے پریشان افراد سے فوری طور پر متاثر ان کا خاندان ہوتا ہے۔ اگر معذوری معمولی ہو تو کسی طرح سے افراد عام زندگی کو ٹھیک سے گزار پاتے ہیں، مگر معذوری کی شدت کی صورت میں اکثر یہ لوگ سہارے کی تلاش کرتے ہیں۔ امیر لوگ اگر کسی فرد خاندان کو خود نہیں دیکھ پاتے تو دولت کے بل بوتے پر خصوصی تیمار دار کی خدمات سے استفادہ کرتے ہیں۔ متوسط اور غریب گھرانوں میں ایسی سہولتیں شاذ و نادر ہوتی ہیں۔ یہاں لوگوں کو خود پہل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کی وجہ سے کبھی رشتے دار کسی معذور کو کبھی خنداں پیشانی سے تو کبھی بوجھ مان کر دیکھ ریکھ کرتے ہیں۔ صحت مند رشتے داروں پر کئی پر سماج کا دباؤ بھی ہوتا ہے اور مستقل معذور شخص کی موجودگی بھی مزاج میں چڑچڑاہٹ کا سبب بنتی ہے۔ اکثر عورتوں کی معذوری ترقی پزیر ملکوں میں اور بھی مسئلہ بنتی ہے۔ اس میں سماج کی قبولیت مردوں سے کم ہوتی ہے۔ شادی بیاہ کے مسئلے بھی اپنی جگہ بنے ہوتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لنگڑا لولا لڑکا بھی صحت مند لڑکی کے رشتے کا ہی طلب گار ہوتا ہے۔ حد درجہ معذور لڑکیاں جنسی استحصال سے بھی دوچار ہو سکتی ہیں۔ عمر اور معذوری بھی اسی طرح کئی پہلو پیش کرتی ہے۔ خاندانی اور انفرادی معذوری کے اثرات ملکوں کی حکومتوں، سماجوں اور مروجہ قانوں کی وجہ سے بہتر یا بدتر ہو سکتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Severe/Profound General Learning Disability"۔
  2. "Severe Disabilities: Definition & Examples"۔