خضر خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خضر خان
Khizr Khan (4).jpg 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش صدی 14  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 20 مئی 1421  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن دہلی  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Delhi Sultanate Flag (catalan atlas).png سلطنت دہلی  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
سلطان   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
28 مئی 1414  – 20 مئی 1421 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png ناصر الدین محمود شاہ 
معز الدین ابوالفتح مبارک شاہ  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
پیشہ مقتدر اعلیٰ  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سید خضر خان ابن ملک سلیمان 1414 تا 1421ء دہلی سلطنت کا حکمران تھا جس نے سید خاندان کی دہلی میں بنیاد رکھی- ان کے والد صاحب سید ملک سلیمان تھے جو ملک مروان دولت کی ملازمت میں تھے- ملک مروان دولت ،سلطان فیروز شاہ تغلق کے وقت میں ملتان کے گورنر تھے اور انکی موت کے بعد جلد ہی ان کے بیٹے ملک شیخ پر اس ضلع کی حکومت کی ذمہ داری آئی، جن کی موت کے بعد سید ملک سلیمان ملتان کے گورنر ہوئے اور انکی موت کے بعد ان کے بیٹے سید خضر خان نے گدی سنبھالی- سارنگ خان کا 1396ء میں سید خضر خان سے جھگڑا ہوا۔ملک مردان بھٹی نے کچھ لوگوں اور غلاموں کے ساتھ سارنگ خان کے لشکر میں شمولیت اختیار کی اور ان کی مدد سے وہ ضلع ملتان پر قابض ہوا- [1] 1398ء میں امیر تیمور نے ہندوستان پر حملہ کیا - سارنگ خان کو شکست دینے کے بعد ملتان میں قیام کیا- بے شمار لوگ دیپالپور، اجودھان(پاکپتنسرسا اور دیگر علاقوں سے اپنی جان بچا کے دہلی کی جانب بھاگے- پھر اس نے جمنا پر سے تجاوز کیا اور ملک کے زیادہ سے زیادہ حصہ تباہ کیا- امیر تیمور نےلونی کے شہر میں قیام کیا اور وہاں اس نے 50،000 قیدیوں کو جسے اس نے دریاؤں سندھ اور گنگا کے درمیان لیا تھا، تلوار کے سامنے پیش کیا –[1] امیر تیمور نے جنوب دہلی میں حوض خاص کے پاس قیام کیا- دہلی کے سپہ سالار اقبال خان اپنی فوج فیل کے ساتھ قلع سے رونما ہوئے مگر میدان میں شکست فاش ہوئے- اقبال خان اور سلطان ناصر الدین محمود شاہ تغلق دونوں دہلی میں اپنے بیوی اور بچوں کو چھوڑ کر بھاگے- سلطان گجرات کی طرف اور اقبال خان باراں کی طرف روانہ ہوئے-[1] امیر تیمور نے دہلی پر قبضے کے بعد وہاں کے باشندوں کو قتل کیا اور کچھ دن بعد، سید خضر خان، جو اس دوران میوت کے پہاڑوں میں چلے گئے تھے امیر تیمور کے بلانے پر اس کے دربار میں داخل ہوئے - ملتان اور دیپالپور سید خضر خان کے حوالے کرکے امیر تیمور اپنے دار الحکومت سمرقند کی طرف روانہ ہوئے۔[1] 1401ء میں تاغی خان ترکچی سلطانی، جو دراصل غالب خان کا داماد تھا اور اب سامانہ کا امیر تھا، ایک قابل ذکر عسکری قوت جمع کرکے سید خضر خان کے خلاف دیپالپور کی طرف روانہ ہوا-[1] سید خضر خان خبر ملتے ہی اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اجودھان یعنی موجودہ پاکپتن آپہنچا-دریائے ستلج کے ڈاہندہ بیڑا کے کنارے پر ایک جنگ لڑی جس میں سید خضر خان سرخرو ہوا- [1] دہلی سلطنت کی مرکزی اتھارٹی امیر تیمور کے جانے کے بعد مکمل طور پر کمزور ہو چکی تھی- اس دوران دہلی کے سپاہ سالار اقبال خان 12 نومبر 1405ء کو ایک بڑی فوج لے کر اجودھان یعنی موجودہ پاکپتن آپہنچا-دریائے ستلج کے ڈاہندہ بیڑا کے کنارے پر پھر سے ایک جنگ لڑی گی- پہلے یلغار پر ہی اقبال خان کو شکست ہوئی- وہ میدان جنگ سے بھاگا مگر جب اس کا پیچھا ہو رہا تھا تو اس کا گھوڑا گرتے ہوئے اپنے مالک پر ہی گرا اور اقبال خان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مر گیا-[1] اس کے بعد امرا کے کہنے پر سلطان ناصر الدین محمود شاہ تغلق واپس دہلی آپہنچا- وہاں پہنچتے ہی اس نے دولت خان لودھی کو بیرام خان کے خلاف سامانہ بھیجا- مگر جب سامانہ پر قبضہ ہوا تو سید خضر خان نے دولت خان لودھی کا پیچھا کیا اور کوی مخالفت نہ پاتے ہوئے وہ دہلی کے نزدیک آ گیا- حصار - فیروزہ، سامانہ، سنم، سرہند اور دیگر پرگانے(تحصیلیں) سید خضر خان کے قبضے میں آ گئے- جبکہ سلطان ناصر الدین محمود شاہ تغلق کے پاس صرف بےیانہ ،گنگا-جمنا دو آب اور روہٹاک (یا رھتک) کی جاگیر تھی- سلطان اپنی ٹوٹی ہوئی سلطنت کو جوڑنے کی غرض سے دسمبر 1408ء کو حصار - فیروزہ آ گیا اور فتح خان کو وہاں کا ذمہ دار بنا کر لوٹ گیا- سید خضر خان نے جوابی کاروای کی اور روہٹاک (یا رھتک) کا چھ ماہ محاصرہ کرنے کے بعد 1409ء میں اسے لینے کے بعد سیدھا دہلی آپہنچا- سید خضر خان نے دہلی کے سیری، جہاں پناہ اور فیروزآباد کے حصوں کا محاصرہ 1410ء میں کیا- مگر کھانے کے سامان کی کمی کے باعث سید خضر خان کو محاصرہ توڑنا پڑا اور جمنا کا تجاوز کرکے دوآب میں داخل ہوا لیکن وہاں بھرپور مزاحمت کا سامنا ہونے پر جمنا دوبارہ سے تجاوز کرکے فتحپور روانہ ہوا-[1] اس دوران سلطان ناصر الدین محمود شاہ تغلق 1411ء یا 1412ء میں انتقال کر گیا- ان کے بعد نئے سرے سے ریاست میں بحران آ گیا- ان کا بیٹا قادر خان اور دیگر امرا آپس میں لڑتے رہے-قادر خان کالپی میں تھا اور جونپور کے شاہان شرقی سلطان ابراہیم نے اس کا وہاں محاصرہ کر لیا تھا- دولت خان لودھی اپنے مالک کی مدد کے لیے نہ آیا اور دہلی میں بیٹھا رہا- اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سید خضر خان نے میوات کے جلال خان کو سنبھال پر قبضے کے لیے بھیجا اور خود حصار - فیروزہ آ گیا اور باقی امرا کو ملک إدريس‎ کے خلاف روہٹاک (یا رھتک) بھیج دیا- آخر کار سید خضر خان نے دہلی کا 1413ء میں محاصرہ کر لیا-چار ماہ بعد 17 ربیع الاول 816ء ھ کو دولت خان لودھی نے ملک لونا اور سید خضر خان کے دیگر حامیوں کے ساتھ امن معاہدہ کرکے قلع سے باہر آیا اور سید خضر خان کے روبرو ہوا- مگر خضر خان نے اسے قید کا حکم سنا دیا- لیکن اس حکم کے برعکس قیوام خان نے اسے فیروزہ کے قلع میں لے جا کر مار ڈالا- اس طرح سید خضر خان دہلی پر قابض ہوا اور سلطان بنا-

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ The History of India, as Told by Its Own Historians. The Muhammadan Period Sir H. M. Elliot Edited by John Dowson