خطبہ غدیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

{{حدیث ولایت علی علیہ السلام کا تحقیقی جائزہ

اَلْکِفَایَۃ فِي حَدِیْثِ الْوِلَایَۃ از ڈاکٹر طاہر القادری ص نمبر ۴ تا ۸|}} 18 ذوالحجہ کو حجۃ الوداع سے واپسی پر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک چشمہ خم کے مقام پر صحابہ سے خطاب فرمایا۔ اس موقع پر قران کریم سورہ مائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی:

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ

اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ نے تمام ساتھ چلنے والوں کو روکا، جو آگے تھے ان کو واپس بلایا اور جو پیچھے رہ گئے تھے ان کے آگے آنے کا انتظار کیا۔ اس خطبہ کو خطبہ غدیر کہتے ہیں۔

خطبہ[ترمیم]

  • (٭)- غدیرِ خم میں پیغمبر ؐ کا خطبہ-(٭)*

حمد و ثناء اللہ کی ذات سے مخصوص ہے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں، اسی پر توکل کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں۔ ہم برائی اور اپنے برے کاموں سے بچنے کے لیے اس کی پناہ چاہتے ہیں۔ وہ اللہ جس کے علاوہ کوئی دوسرا ہادی و راہنما نہیں ہے۔ اور جس نے بھی گمراہی کی طرف ہدایت کی وہ اس کے لیے نہیں تھی ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور محمد ؐ اس کا بندہ اور رسول ہے۔ ہاں اے لوگو ! وہ وقت قریب ہے کہ میں دعوتِ حق کو لبیک کہوں اور تمھارے درمیان سے چلا جاؤں تم بھی جواب دہ ہو اور میں بھی جواب دہ ہوں ۔ اس کے بعد فرمایا کہ : میرے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے؟ کیا میں نے تم سے متعلق اپنی ذمہ داری کو پورا کر دیا ہے؟ یہ سن کر پورے مجمع نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمات کی تصدیق کی اور کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے بہت کوششیں کیں اور اپنی ذمہ داری کو پورا کیا اللہ آپ کو اس کا اچھا اجر دے ۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اس پوری دنیا کا معبود ایک ہے اور محمد اس کا بندہ اور رسول ہے اور جنت و جہنم و آخرت کی جاویدانی زندگی میں کوئی شک نہیں ہے؟ سب نے کہا کہ: صحیح ہے ہم گواہی دیتے ہیں ۔،، اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” اے لوگو! میں تمھارے درمیان دو اہم چیزیں چھوڑ رہا ہوں، میں دیکھوں گا کہ تم میرے بعد میری ان دونوں یادگاروں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو ۔ اس وقت ایک شخص کھڑا ہوا اور بلند آواز میں سوال کیا کہ ان دو اہم چیزوں سے کیا مراد ہے؟ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ: " ایک اللہ کی کتاب ہے جس کا ایک سرا اللہ کی قدرت میں ہے اور دوسرا تمھارے ہاتھوں میں اور دوسرے میری عترت اور اہلبیت ہیں، اللہ نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ ہرگز ایک دوسرے جدا نہ ہوں گے " ہاں اے لوگوں ! قرآن اور میری عترت پر سبقت نہ کرنا اور دونوں کے حکم کی تعمیل میں کوتاہی نہ کرنا، ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے ۔ اس وقت حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر اتنا اونچا اٹھایا کہ دونوں کی بغلوں کی سفیدی سب کو نظر آنے لگی، علی ؑ سے سب لوگوں کو متعرف کرایا ۔ اس کے بعد فرمایا: ” مومنین پر خود ان سے زیادہ سزوار کون ہے؟“ سب نے کہا کہ: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ میرا مولیٰ ہے اور میں مومنین کا مولا ہوں اور میں ان کے نفسوں پر ان سے زیادہ حق تصرف رکھتا ہوں۔ “ ہاں اے لوگو! ” من کنت مولاہ فہٰذا علی مولاہ اللہم وال من والاہ،وعاد من عاداہ واحب من احبہ وابغض من ابغضہ وانصر من نصرہ وخذل من خذلہ وادر ا لحق معہ حیث دار “ جس جس کا میں مولیٰ ہوں اس اس کے یہ علی مولا ہیں ، [ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اطمینان کے لیے اس جملے کو تین بار کہا تاکہ بعد میں کوئی مغالطہ نہ ہو] اے اللہ اُسکو دوست رکھ جو علی ؑ کو دوست رکھے اور اس کو دشمن رکھ جو علیؑ کو دشمن رکھے ، اس سے محبت کر جو علی ؑ سے محبت کرے اور اس پر غضبناک ہو جو علی ؑ پر غضبناک ہو ، اس کی مدد کر جو علی ؑ کی مدد کرے اور اس کو رسوا کر جو علی کو رسوا کر ے اور حق کو ادھر موڑ دے جدھر جدھر علی ؑ مڑیں " [[[یہ پوری حدیث غدیر یا فقط اس کا پہلا حصہ یا فقط دوسرا حصہ ان مسندوں میں آیا ہ ے ۔ ( مسند احمد ابن حنبل ص -256 تاریخ دمشق ج-43 ، ص -207 ، 208 ،448 خصائص نسائی ص-181 المجمل کبیر ج-17 ، ص -39 سنن ترمذی ج -5 ، ص -633 المستدرک الصحیحین ج -213 ص- 135 // المعجم الاوسط ، ج- 6 ، ص- 95 // مسند ابی یعلی ج-1 ، ص -280 ، المحاسن والمساوی ، ص-41 // مناقب خوارزمی ص- 104 ، اور دیگر کتب۔]]