خط توقیع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سورہ آل عمران کی آیات 85 تا 88، خط توقیع میں۔ (غالباً چودہویں صدی)

خط توقیع (عربی: التَوقِیع) عربی زبان اور فارسی زبان کا ایک قدیمی خط ہے جو خط ثلث کے بعد وجود میں آیا۔ یہ خط سلاطین سلطنت عثمانیہ اور متعدد مسلمان حکمرانوں نے اپنے نام و طغراء کے لیے استعمال کیا ہے، اِسی نسبت سے اِسے توقیع سلطانی یا خط سلطانی بھی کہا جاتا ہے۔ماہرین خطاط اِسے خط ثلث کی ترمیم شدہ شکل کہتے ہیں۔

تاریخ و موجد[ترمیم]

لغت عرب میں توقیع کے معنی ہیں: اضافہ کرنا، کسی شے میں کسی دوسری شے کو ڈالنا۔ دستاویزات اور تحریروں پر خلفاء، سلاطین یا حکمران یا وزراء جو دستخط کرتے تھے یا طغراء لگاتے تھے، اُس کو توقیع کہا جاتا تھا۔ بعد ازاں جس خاص طرزِ نگارش میں وہ توقیع لکھتے تھے، اُس کو بھی خط توقیع کہا جانے لگا۔ محققین کا خیال ہے کہ خط توقیع کا موجد یوسف شجری ہے۔ خطِ ریاسی میں مزید تغیر و تبدیلی کرکے اُس نے یہ خط ایجاد کیا۔ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری صدی ہجری کے اختتام سے قبل ہی یہ خط معروف و مقبول ہوچکا تھا۔[1] لہٰذا یہ خط عربی زبان کے قدیمی خطوط میں شامل ہے۔ابن ندیم نے الفہرست اور القلقشندی نے صبح الاعشی فی صناعۃ الانشا میں لکھا ہے کہ خط توقیع خط ثلث کے بعد پیدا ہوا ہے۔فنی اعتبار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خط خط ثلث اور خط رقاع سے ترکیب پاکر پیدا ہوا ہے۔

وجہ ٔ شہرت[ترمیم]

توقیع کا سب سے بڑا ماہر عباسی وزیر ابوعلی ابن مقلہ تھا۔ معجم البلدان میں یاقوت حموی نے اِس خط کی بہت تعریف کی ہے۔ بعد ازاں ابوالفضل خازن خراسانی (471ھ تا 518ھ) نے اِس خط میں اپنا نام پیدا کیا۔ یہ خط عموماً عام تحریر اور کتابوں کی اشاعت میں مستعمل نہیں تھا لیکن یاقوت مستعصمی نے ایک روایت یہ پیدا کی کہ کتاب کے بالکل آخر میں مصنف کتاب کا نام، کاتب کا نام اور سن تحریر خط توقیع میں لکھنا شروع کیا۔ یاقوت مستعصمی کے بعد سب کاتبوں نے اُس کی پیروی کرنا شروع کی اور بیسویں صدی تک چھاپہ خانہ کی ایجاد سے قبل تک کاتبوں نے اِسی روش کو اختیار کیے رکھا۔ اِس کے بعد توقیع کتاب کا ترقیمہ لکھنے کے لیے مخصوص ہو گیا ہے جیسے کہ خط ثلث کو عناوین لکھنے کے لیے مختص کر لیا گیا ہے۔سلطنت عثمانیہ کی سرکاری دستاویزات کی کتابت کے لیے یہ خط مستعمل تھا۔عموماً قرآن مجید کی کتابت کے دوران میں سورتوں کے نام اس خط میں لکھے جاتے ہیں۔ توقیع خطاط کے مختصر دستخط کو بھی کہتے ہیں جو عموماً ہر خطاط اپنے خطی نمونے کے بعد اس میں مناسب جگہ پر لکھتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ ایک ہی خطاط اپنی پوری فنی زندگی کے مختلف ادوار میں ایک یا ایک سے زائد توقیعات لکھتا ہے۔

خط اجازہ سے منفرد[ترمیم]

موجودہ دور میں بعض عرب ماہرین خطاط خط توقیع کو خط ِاجازہ بھی کہتے ہیں جو درست نہیں ہے۔ اِس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ خط توقیع کے قدیم ترین نمونے القلقشندی نے صبح الاعشی فی صناعۃ الانشا میں اور محاسن الخط میں بیان کیے گئے ہیں اور یہ نمونے خط اجازہ سے بالکل ہی منفرد و مختلف ہیں۔ مزید برآں یہ کہ محققین کے بیان کردہ خط اجازہ نویں صدی ہجری سے قبل وجود میں نہیں آیا تھا اور خط توقیع دوسری صدی ہجری کے اختتام تک مقبول ہوچکا تھا۔ چونکہ یہ خط خط رقاع اور خط ثلث سے ترکیب پاکر وجود میں آیا ہے اور خط اجازہ خط ثلث، خط نسخ اور توقیع سے مرکب دکھائی دیتا ہے۔ لہٰذا خط اجازہ خط توقیع سے بالکل مختلف ہے۔[2]

قواعد[ترمیم]

بااعتبارِ طرزِ نگارش یہ خط ثلث سے مشابہہ ہے۔ اِس خط کی چند خصوصیات یہ ہیں:

  • خط ثلث کے مقابلہ میں قلم کی گردش زیادہ آزادانہ ہوتی ہے، یعنی قلم رواں رکھا جاتا ہے۔
  • اِس خط میں سطح ایک دانگ (حصہ یا ٹکڑا) ہے اور دَور (گولائی) پانچ دانگ ہے۔ غلام محمد ہفت قلمی دہلوی خطاط نے سطح تین دانگ اور دَور تین دانگ بیان کیا ہے۔ ہفت قلمی کا یہ بیان قابل قبول سمجھا جاتا ہے۔
  • خط ثلث کے مقابلے میں حروف چھوٹے بنائے جاتے ہیں یعنی حروف کی طوالت و چوڑائی خط ثلث کے مقابلہ میں کم ہوتی ہے۔
  • اِس خط میں کلمات کی شکل قوس نما دکھائی دیتی ہے جبکہ خط ثلث میں کلمات کی شکل ٹیڑھی ہوتی ہے۔
  • خط ثلث میں قلم کا قط محرف (ٹیڑھا) ہوتا ہے جس سے حروف کے ابتدائی حصے اور دنبالے ذرا باریک بنتے ہیں، لیکن اِس کے برعکس اِس میں قلم کا قط تقریباً مدور شکل (گولائی) میں ہوتا ہے، اِسی وجہ سے حروف کے ابتدائی حصوں اور آخری حصوں کی شکل یکساں بنتی ہے۔
  • اِس خط میں حروف موٹے اور بھرے بھرے بنتے ہیں۔ حتیٰ کہ حروف تہجی ر اور و بھی مقور شکل (حلقہ نما یا گولائی یا دَور ) میں بنائے جاتے ہیں۔
  • اِس خط میں حرف م کی متعدد شکلیں استعمال کی جاتی ہیں۔
  • بعض مرکب حروف تہجی کی بعض اشکال جو خط ثلث میں ہرگز جائز نہیں سمجھی جاتیں، مگر توقیع اور خط رقاع میں اُنہیں اختیار کر لیا جاتا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. محمد سلیم: تاریخ خط و خطاطین،  صفحہ 113۔
  2. محمد سلیم: تاریخ خط و خطاطین،  صفحہ 106۔