خلیج عمان حادثہ جون 2019

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خلیج عمان حادثہ جون 2019
MV Kokuka Courageous with hull damage and mine.png
Kokuka Courageous after the fire, with damage shown on the left and the alleged unexploded limpet mine still attached on the right
تاریخ 13 جون 2019ء (2019ء-06-13)
مقام خلیج عمان, بحر ہند
متناسقات 24°42′51″N 58°44′15″E / 24.7143°N 58.7374°E / 24.7143; 58.7374متناسقات: 24°42′51″N 58°44′15″E / 24.7143°N 58.7374°E / 24.7143; 58.7374
ہدف 2 Merchant ships[1]
معمولی زخمی 1 crew member wounded[2]
مالی نقصان 2 merchant ships damaged[2]
مشتبہ

Flag of Iran.svg ایران (alleged by the United States, and supported by Saudi Arabia, Israel, and the United Kingdom; denied by Iran)[3][4][5]

Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ (alleged by Iran to be a فریبی پرچم operation)[6][7][غیر معتبر مآخذ؟]

جون 2019 کی 13 تاریخ کو آبنائے ہرمز کے نزدیک خلیج عمان کو پار کرتے دو تیل بردار بحری جہازوں پر حملہ کیا گیا۔ ان میں سے ایک ناروے کا فرونٹ الٹائر اور دوسرا جاپان کا کوکُوکا کاوراگیئس نامی بحری جہاز تھے۔ ان دو تیل بردار بحری جہازوں کو مبینہ طور پر بحری بارودی سرنگ یا کسی فضا میں مار کرنے والے ہتھیار کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جس کی نتیجے میں دونوں جہازوں پر آگ بھڑک اٹھی اور انہیں نقصان پہنچا۔ حادثے کے بعد ایرانی اور امریکی بحریہ کے خلیج عمان میں موجود بحری فوجی عملے کے اراکین جائے وقوعہ پر پہنچے اور متاثرہ جہازوں کے عملے کو بحفاظت وہاں سے نکلنے میں مدد فراہم کی۔یہ حادثہ خلیج عمان میں مئی 2019 کے مہینے میں ہونے والے بعینہٖ ایک ایسے حادثے کے ٹھیک ایک مہینے بعد عین اس دن پیش آیا جس دن ایران کے راہنما آیت اللہ خامنہ ای اور جاپانی وزیر اعظم شینزو ایبے ایران میں ملاقات کر رہے تھے۔جاپانی وزیر اعظم ایبے ، ایرانی راہنما خامنہ ای اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کی درمیان مصالحتی کردار ادا کر رہے تھے۔[8][9]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. David D. Kirkpatrick؛ Richard Pérez-Peña؛ Stanley Reed (جون 13, 2019)۔ "Tankers Are Attacked in Mideast, and U.S. Says Video Shows Iran Was Involved"۔ اخذ شدہ بتاریخ جون 14, 2019۔
  2. ^ ا ب "Gulf of Oman tankers attacked: Live updates"۔ www.cnn.com (انگریزی زبان میں)۔ جون 13, 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ جون 13, 2019۔
  3. Reuters Washington (جون 14, 2019)۔ "Saudi Arabia agrees Iran was behind tanker attacks, says Adel al-Jubeir"۔ Reuters۔ Al-Arabiya۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 جون 2019۔
  4. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ JPost نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  5. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ rejects نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  6. "Japan Dismisses US claim"۔
  7. "official: US may have been behind tanker incident"۔
  8. Jon Gambrell (جون 13, 2019)۔ "Tankers targeted near Strait of Hormuz amid Iran-US tensions"۔ AP NEWS۔ اخذ شدہ بتاریخ جون 13, 2019۔
  9. Richard Pérez-Peña؛ Stanley Reed؛ David D. Kirkpatrick (جون 13, 2019)۔ "Tankers Attacked Again in Gulf of Oman, Raising Fears of Wider Conflict"۔ The New York Times (انگریزی زبان میں)۔ ISSN 0362-4331۔ اخذ شدہ بتاریخ جون 13, 2019۔